منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

سیّدنا ہند رضی اللہ عنہ

بن ابی ہالہ: ہن ان کا نسب پہلے بیان کر آئے ہیں وہ تمیمی ہیں اور بنو اسید بن عمرو بن تمیم سے ہیں جناب ہند رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب تھے اور ان کی والدہ حضرت خدیجۃ الکبری تھیں، جو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت سے مشرف ہوئیں حضرت زینب رضی اللہ عنہ، رقیہ رضی اللہ عنہ، ام کلثوم رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہ ان کی اخیافی بہنیں تھیں اور ان کے والد بنو عبد الدار کے حلیف تھے۔ ابو ہالہ کے نام کے متعلق علماء میں اختلاف ہے ایک روایت میں نباش بن زرارہ بن وقدان ایک دوسری میں مالک بن زرارہ بن نباش اور تیسری میں مالک بن نباش بن زرارہ مذکور ہے یہ ابن لزبیر کا قول ہے لیکن علمائے نسب کا ان کے نام میں اختلاف ہے ابن کلبی نے ابو ہالہ ہند بن زرارہ تحریر کیا ہے حضرت خدیجہ کے بطن سے ہند پیدا ہوئے۔ جو غزوۂ بدر میں شریک تھے ان کے بیٹے اور پوتے کا نام بھی ہند تھا ایک روایت میں ہے کہ وہ غزو۔۔۔

مزید

سیّدنا ہند رضی اللہ عنہ

بن ہند بن ابی ہالہ: یہ مذکورہ بالا صحابی کے بیٹے تھے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور ان کے ترجمے میں سری بن یحییٰ کی حدیث، جو انہوں نے مالک بن دینار سے، انہوں نے ہند بن خدیجہ ام المومنین سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مروان بن حکم کے پاس سے گزرے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر رہا تھا اور انگلی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا فرمائی، ’’اے خدا، تو اسے لرزے میں مبتلا کر۔‘‘ چنانچہ وہیں اس کے جسم پر رعشہ طاری ہوگیا۔ اس حدیث کا ہند بن ہند سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ ان کے والد نے بیان کی ہے زبیر بن بکار کہتے ہیں کہ ہند بن ہند اور مصعب بن زبیر اس دن قتل ہوئے جس دن مختار ثقفی ۶۷؍ ہجری میں قتل ہوا زبیر کہتے ہیں ہ ہند بن ہند بصرے میں طاعون سے فوت ہوئے لوگوں نے اپنے جنازے چھوڑ دیئے اور ان کے جنازے پر ہجو۔۔۔

مزید

سیّدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ

بن حارث بن عجرہ بن عبد اللہ بن نقطہ بن عصبہ بن خفاف بن امرء القیس ب بہثہ بن سلیم بن منصور سلمی: اسلام لائے اور فتح مکہ کے موقعہ پر موجود تے۔ یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے اپنے عمزاد سے علم کے بارے میں جھگڑا کیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکر یہ شعر پڑھا۔ لقد دارھذا الامرفی غیر اھلہ الا فا بصرو۱ الامر این یرید ترجمہ: یہ معاملہ ان لوگوں تک جا پہنچتا ہے جو اس کے اہل نہیں ہیں بہر حال اس معاملے پر نگاہ تو ڈالو، کہ وہ کدھر جانا چاہتا ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ

بن خالد الکنانی: علماء کا خیال ہے کہ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی ان کی حدیث کو ابو الزبیر نے جابر بن عبد اللہ سے مع اس واقعہ کے جو معاویہ کے ساتھ پیش آیا، ذکر کیا ہے۔ نہ معلوم یہ صاحب وہی ہیں یا کوئی اور ہم بعد میں پھر ان کا ذکر کریں گے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے میرے خیال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے وہ ہیں جن کا ذکر ابن مندہ نے کیا ہے اور صرف اتنا لکھا کہ انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی مگر ان کا نسب نہیں لکھا ہاں ابو احمد عسکری نے ہوذہ کنانی کے ترجمے میں ان کے والد کا نام خالد لکھا ہے اور وہ حدیث بھی بیان کی ہے جو ابن مندہ نے ان کے ترجمے میں لکھی ہے کہ معاویہ نے ان سے دریافت کیا۔ آیا تم غزوۂ بدر میں شریک تھے انہوں نے جواب اثبات میں دیا کہ نہ ان کے خلاف کوئی بات ہوئی، اور نہ حق میں ابو موسیٰ لکھتے ہیں میں انہ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن یزید بن عمرو بن رباع بن عوف بن عمیرہ بن ہون بن اعجب بن قدامہ بن جرم بن ریان: بروایت کلبی و طبری، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابن ماکولا نے ترجمۂ ریاح میں ان کا نسب ہوذہ بن عمرو بن یزید بن عمرو بن ریاح لکھا ہے نیز یہ تحریر کیا ہے کہ یہ بنو جرم بن ریان سے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے یہ ابن حبیب کا قول ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ

بن قیس بن عبادہ بن وہیم بن عطیہ بن زید بن قیس بن عامر بن مالک بن اوس انصاری: ان کے نسب میں اختلاف ہے عبد الوہاب بن ہبّہ اللہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے علی بن ثابت سے انہوں نے عبد الرحمان بن نعمان بن ہوذہ انصاری سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے وقت خوشبو دار سُرمہ استعمال کرنے کا حکم دیا۔ یہ روایت صالح بن ازین نے علی بن ثابت سے انہوں نے عبد الرحمان بن معبد بن ہوذہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے بیان کی ایک روایت میں عبد الرحمان بن نضر بن ہوذہ آیا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہوذہ رضی اللہ عنہ

ان کا نسب مذکور نہیں، انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی مجالد نے شعبی سے روایت کی کہ معاویہ کے پاس ایک آدمی جس کا نام ہوذہ تھا آیا، معاویہ نے دریافت کیا اے ہوذہ کیا تم غزوۂ بدر میں شامل تھے اس نے جواب دیا۔ نہ نقصان نہ فائدہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے ابو نعیم کہتے ہیں کہ بقول بعض متاخرین انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہ ہوسکی کیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن عباد بن قشیر (تینوں نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے ابن کلبی نے معبد بن عبادہ بن فلاں (ابن کلبی کو اس کا نام معلوم نہیں ہوسکا) ابن فدم بن سالم بن مالک بن سالم الحبلی بن غنم بن عوف بن خزرج: ابو حمیضہ کُنیت تھی۔ ابو جعفر بن سمین نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے غزوۂ بدر انصار کے بنو جزء بن عدی بن مالک اور ابو حمیضہ معبد بن عباد بن قشیر سے روایت کی ہے۔ ابو عمر اس لفظ کو خَمِیْصَہ اور ابن اسحاق حُمَیضہ پڑھتے ہیں۔ امیر نے ان کا سلسلۂ نسب یوں لکھا ہے: ابو حمیضہ معبد بن عباد بن قشیر بن فدم بن سالم بن غنم انصاری۔ ابن اسحاق نے ابراہیم بن سعد کی روایت سے لکھا ہے کہ معبد بن عباد غزوۂ بدر میں شامل تھے۔ اسی طرح یحییٰ بن سعید اموی نے ابنِ اسحاق سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ابن قداح نے ان کی کنیت تو ابو حمیضہ ہی لکھی ہے، لیکن سلسلۂ نسب میں اختلاف کیا ہے اور معبد بن عمارہ لکھا ہے۔ لی۔۔۔

مزید

سیّدنا معمر رضی اللہ عنہ

انصاری: عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے معمر انصاری سے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے علمِ دین ثواب آخرت کے لیے حاصل کیا اور پھر اس نے اس سے کوئی دینوی فائدہ حاصل کیا۔ اس پر جنّت کی خوشبو حرام کردی گئی۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن شاہین نے اسی طرح اس کی روایت کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ابن شاہین سے مراد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن معمر ہے۔ اس بنا پر یہ حدیث مرسل ہوگی۔۔۔۔

مزید

سیّدنا معمر رضی اللہ عنہ

بن حارث بن قیس بن عدی بن سعد بن سہم قرشی سہمی: انہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از بنو سہم بن عمرو بن ہصیص و معمر بن حارث بن قیس روایت کی۔ ابن اثیر نے ان کے بھائیوں کا ذکر جو بنو تمیم سے تھے مناسب ابو اب میں کردیا ہے، ابن کلبی نے معبد بن حارث کو انہی میں شمار کیا ہے۔ ابو موسیٰ اور ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید