پیر , 08 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 19 October,2026

سیّدنا مضرس رضی اللہ عنہ

بن سفیان بن خفاجہ بن نابغہ بن غنر بن حبیب بن واہلہ بن دھمان بن نصر بن معاویہ بن بکر ہوازن غزوہ حنین میں شامل تھے۔ یہ ہشام بن کلبی کا قول ہے۔ یہ نصری تھے بنو نصر بن معاویہ سے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مطرف رضی اللہ عنہ

بن خالد بن نضلۃ الباہلی از بنو قراض بن معن: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا۔ ابو احمد عسکری نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مطرف رضی اللہ عنہ

بن مالک ابو الریان القشر: ان کی کسی روایت کا علم نہیں ہوسکا۔ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ فتح تستر میں موجود تھے۔ زرارہ بن اوفی نے فتح تستر کے موقع پر ان کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مطرف رضی اللہ عنہ

بن مالک ابو الریان القشر: ان کی کسی روایت کا علم نہیں ہوسکا۔ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ فتح تستر میں موجود تھے۔ زرارہ بن اوفی نے فتح تستر کے موقع پر ان کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مطیع رضی اللہ عنہ

بن عامر بن عوف بن کعب بن ابی بکر بن کلاب بن ربیعہ: وہ ذولحمیہ کلابی کے بھائی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا نام عاصی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطیع کردیا۔ دار قطنی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو بشر اسدی: ہم ان کا ذکر ان کے بیٹے بشر بن معاذ کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

التمیمی: سائب بن یزید نے بنو تمیم کے ایک آدمی سے جس کا نام معاذ تھا روایت بیان کی کہ وہ حضور اکرم کی خدمت میں آئے اور آپ نے اوپر نیچے دوزر ہیں پہن رکھی تھیں۔ یہ ابو علی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نحات رضی اللہ عنہ

بن ثعلبہ ہم اس سے پیشتر ان کا ذکر کرچکے ہیں ابو عمر نے ان کا نام نحات اور ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے نجاب لکھا ہے غزوۂ بدر میں شامل تھے وہ بلوی ہیں اور انصار کے حلیف۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن جبل بن عمرو بن ادس بن عائذ بن عدی بن کعب بن عمرو بن ادی بن سعد بن علی بن اسد بن ساردہ بن یزید بن جشم بن خزرج انصاری خزرجی، جشمی: اور ادی جوان کی طرف منسوب ہے۔ وہ سلمہ بن سعد کا بھائی ہے اور یہ انصار میں سے وہ قبیلہ ہے جو ان کی طرف منسوب ہے۔ بعض لوگوں نے انہیں بنو سلمہ سے منسوب کیا ہے۔ ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ انہیں بنو مسلمہ سے اس لیے منسوب کیاگیا ہے۔ کیونکہ وہ سہل بن محمد بن جد بن قیس کے اخیانی بھائی تھے اور سہل بنو سلمہ میں سے ہے۔ کلبی کہتا ہے کہ وہ بنوادی سے تھے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنو ادی کا کوئی فردداب باقی نہیں رہا اور انہیں بنو سلمہ سے شمار کیا جاتا ہے اور ان کا جو آخری ایک آدمی بچ گیا تھا۔ اس کا نام عبد الرحمٰن بن معاذ تھا۔ یہ صاحب شام کے علاقے عمواس میں طاعون سے فوت ہوگئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق یہ اپنے والد معاذ سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ اس بناء پر آ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن سنان الاسلمی: امام زہری نے ان کا ذکر اس حدیث میں کیا ہے جو انہوں نے عبد الرحمٰن بن کعب بن مالک سے روایت کی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ بنو خزرج نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو رافع بن ابی الحقیق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، چنانچہ مندرجۂ ذیل اصحاب اس مہم پر روانہ ہوئے: عبد اللہ بن عتیک (سردار قوم) عبد اللہ بن انیس، مسعود بن سنان، ابو قتادہ اور خزاعی بن اسود، جو بنو اسلم سے تھے اور بنو خزرج کے حلیف تھے، چنانچہ خیبر جاکر انہوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے ابو عمر لکھتے ہیں کہ مسعود بن سنان بن اسود بنو غنم کے حلیف تھے، جو انصار کی شاخ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے تھے۔ غزوۂ احد میں شریک تھے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ۔۔۔

مزید