بدھ , 03 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 20 May,2026

سیّدنا مستظل بن حصین رضی اللہ عنہ

زمانۂ جاہلیت کے آدمی ہیں اور تابعی ہیں۔ ابو موسیٰ نے اِن کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مستظل بن حصین رضی اللہ عنہ

زمانۂ جاہلیت کے آدمی ہیں اور تابعی ہیں۔ ابو موسیٰ نے اِن کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا المستنیر بن صعصقہ الخزاعی رضی اللہ عنہ

علاء بن حضرمی کے اس خط میں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ کر دیا تھا۔ ان کا ذکر اس کے گواہوں میں ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مستورد بن منہال رضی اللہ عنہ

بن قنقد بن عصیہ بن، ہصیص بن حئی بن وائل بن جشم بن مالک بن کعب بن القین بن جسر بن سبع اللہ بن وبرہ بن تغلب بن حلوان بن عمران بن الحاف بن قضاعۃ: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی یہ طبری کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسروق اجدع الہمدانی رضی اللہ عنہ

زمانۂ جاہلیت کے آدمی ہیں۔ تابعی ہیں اور کنیت ابو عائشہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسروق بن وائل حضرمی رضی اللہ عنہ

حضرموت کے وفد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ ابوبکر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ بن عبدِ مناف بن قصی ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن زرارہ: یہ ابو امامہ اسعد بن زرارہ کے چھوٹے بھائی تھے۔ غزوۂ اُحد اور بعد کے غزوات میں شامل رہے۔ یہ عدوی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مختار بن ابی عبید رضی اللہ عنہ

بن عمر بن عمیر بن عوف بن عقبہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف الثقفی ابو اسحاق: ان کے والد جلیل القدر صحابہ سے تھے اور جناب مختار کی پیدائش ہجرت کے سال میں ہوئی۔ انہیں حضور اکرم کی نہ تو صحبت میّسر آئی اور نہ اُنہوں نے کوئی حدیث ہی آپ سے سُنی اور ان کی روایات غیر حسن ہیں۔ ان سے شعبی وغیرہ نے روایت کی، لیکن ان کے درمیان تعلقات کی نوعیّت کچھ ایسی تھی کہ آخر میں دونوں میں کسی ایک کی بات نہیں سُنی جاتی تھی۔ مختار حضرت حسین کا بدلہ لینے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ چنانچہ شیعہ کی ایک بڑی جماعت کوفے میں اِن کے گرد جمع ہوگئی اور کوفے پر قبضہ کرلیا اور قاتلین حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا شروع کردیا۔ شمر بن ذی الجوش اور خولی بن زید الاصیحی کو قتل کیا۔ آخر الذکر وہ شخص ہے جس نے حضرت امام کا سر میدانِ جنگ سے اٹھا کر کوفے پہنچایا تھا۔ پھر عمر بن سعد بن ابی وقاص کو جو یزیدی لشکر کا کماندار ۔۔۔

مزید

سیّدنا مخربہ رضی اللہ عنہ

ابن ماکو لانے ان کا نسب یوں لکھا ہے: مخربہ بن عدی الجذامی الضبی، جعفر بن کمیل بن و برہ بن حارثہ بن اُمیّہ بن خبیب نے بیان کیا۔ میں نے عصمہ بن کہیل سے اُنہوں نے اپنے بزرگوں سے اُنہوں نے حارثہ بن عدی سے سُنا، اُنہوں نے کہا کہ میں اور میرا بھائی مخریہ اس وفد میں موجود تھے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ لشکر جو ہم پر حملہ آوار ہوا تھا موجود تھا۔ ہمیں ان کے لشکر سے جو تکلیف پہنچی تھی۔ ہم نے اس کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ حضور اکرم نے فرمایا۔ تم جاؤ: اور اپنے جانوروں سے جو جانور سامنے آئے۔ اسے بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرو جو شخص اس ذبیحہ کو کھالے، اسے چھوڑ دو۔ انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مخرفہ العبدی رضی اللہ عنہ

انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی۔ سماک بن حرب نے سوید بن قیس سے روایت کی کہ میں نے اور مخرفۃ العبدی نے بیچنے کے لیے ہجر سے (مقام کا نام) کچھ کپرا خریدا۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک شلوار خریدی۔ بعد میں ایک بیچنے والے نے جو وہاں تھا ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیچنا شروع کردیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ناپ کر بیچو اور تھوڑا سا زائد کپڑا بھی دے دیا کرو۔ ایوب بن جابر نے سماک سے اور انہوں نے مخرفہ سے روایت کی۔ یہ اسناد غلط ہے اور درست صورت وہی ہے، جو ثوری اور اسرائیل وغیرہ نے سماک سے اور انہوں نے سوید سے روایت کی۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید