استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا کریم بخش نقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاد العلماء مولانا کریم بخش بن اللہ ڈنہ بن کریم ڈنہ دایو گوٹھ جروار نزد ریلوے اسٹیشن بھر گڑی تحصیل شہداد کوٹ ضلع لاڑکانہ میں تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : ابتداء تعلیم گوٹھ چانڈ کا نزد لاڑکانہ میں حاصل کی۔ بعد ازاں گوٹھ صدر جی بھٹیون ( ضلع خیر پور میرس ) کے مشہور عالم و بزرگ مولانا محمد موسیٰ کلہوڑو سے تعلیم حاصل کی ۔ (مولانا محمد موسیٰ کا مزار اسی گوٹھ میں واقع ہے) اعلیٰ تعلیم گوٹ آگانی ( ضلع لاڑکانہ ) کے مدرسہ نعیمیہ می رئیس العلماء مولانا مفتی محمد صالح نعیمی بھٹو سے حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ مولانا اللہ ڈنہ سھتو سعید پوری ( ضلع خیر پور ) اور حضرت علامہ مفتی اللہ ڈنہ جمارانی مدظلہ ، آگانی میں آپ کے ہم سبق تھے۔ بیعت : آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت پیر عبدالرحمن فضلی ( مدیئجی ضلع شکار پور ) سے دست بیعت ہوئے۔۔۔
مزید
یوسف سہالوی فرنگی محلی، علامہ مفتی محمداسمِ گرامی: محمد یوسف۔نسب: حضرت علامہ مفتی محمد یوسف سہالوی فرنگی محلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا سلسلۂ نسب یہ ہے:مفتی محمد یوسف بن مفتی محمد اصغر بن مفتی ابی الرحیم بن مولانا محمد یعقوب بن مولانا عبد العزیز بن مولانا سعید بن مولانا قطب الدین الشہید السہالوی(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین)۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آبا و اَجداد اپنے وقت کے جیّد علمائے کرام اور اجلّہ مشائخ تھے۔ آپ کے دادا مفتی ابی الرحیم، جو ستاسی (۸۷)سے زائد کتب کے مصنّف تھے، باندہ میں ذیقعدہ ۱۲۶۴ھ کو پیدا ہوئے تھے اور اُن کی وفات لکھنؤ میں ۱۹؍ربیع الاوّل ۱۳۰۴ھ،کو ہوئی۔ (تذکرہ علمائے ہند)ولادت:آپ کی ولادت باسعادت 1223ھ/بمطابق 1808ء کو ہوئی۔تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم سے ۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی علیہ الرحمۃ نام ونسب: اسمِ گرامی: خواجہ محمد قاسم۔ لقب:باواجی۔علاقہ موہڑہ شریف کی نسبت سے "موہڑوی"کہلاتے ہیں۔والدکااسمِ گرامی:جناب سلطان جیو خان علیہ الرحمہ۔آپ کانسب سلاطینِ ایران کےکیانی خاندان سے ملتا ہے۔آپ کے جد امجد عہد عالمگیرمیں برصغیرتشریف لائے۔آپ کے جد امجد اور والد گرامی کا معمول تھا کہ پنجاب سے سامان تجارت لے کر کشمیر جاتے اور راستے میں پہاڑی علاقوں میں تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرتے رہتے۔ تاریخِ ولادت: آپ کاسنِ ولادت تقریباً 1845ءہے۔ تحصیلِ علم: حضرت خواجہ صاحب کے والد ماجد بچپن میں ہی داغ مفارقت دے گئےتھے۔ہوش سنبھالنے پر والدہ ماجدہ نے تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور علوم دینیہ کی تحصیل کے لئے ہندوستان بھیجا جہاں آپ نے اس دور کے مشہور فضلاء سے استفادہ کیا اور تقریباً1276ھ؍1860ء میں تکمیلِ علوم کے بعد واپس تشریف لائے اور راولپ۔۔۔
مزید