جمعرات , 21 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 09 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) اسامہ (رضی اللہ عنہ)

ابن شریک ثعلبی۔ قبیلہ بنی ثعلبہ بن یربوع سے یہ ابو نعیم کا قول ہے۔ اور ابو عمر کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی تعلبہ سے ابن مندہ کہتے ہیں کہ ذیبانی غطفانی ہیں قبیلہ بنی ثعلبہ بن بکر سے ہمیں ابو الفضل خطیب نے اپنی اسناد کے ساتھ ابودائود طیالسی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے شعبہ اور مسعودی نے زیاد بن علاقہ سے نقل کیا وہ کہتے تھے میں نے حضرت اسامہ بن شریک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں گیا تو (میں نے دیکھا کہ)آپ کے صحابہ ( اس طرح باادب سرجھکائے ہوئے ہیں کہ) گویا انک ے سروں پر رپندے بیٹھیہیں پھر آپ کے پاس ادہر ادہر سے اعراب (بدوی) آئے اور انھوںنے بے دھڑک آپ سے مسائل دریافت کرنا شروع کئے کہ یارسول اللہ فلاں بات کے کرنے میں ہمارے اوپر کچھ گناہ ہے رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ اے خدا کے بندو اللہ نے تنگی شریعت سے) اٹھا دی ہے مگر جو شخص کوئی بڑی (گناہ کی) بات کرے تو اسی نے تنگی پیدا کی اور وہ ہلاک ہوگ۔۔۔

مزید

سیدنا) اسامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن زید بن حارثہ بن شراحیل بن حارثہ بن شرحیل بن کعب بن عبدالعزی بن زید بن امرء القیس بن عامر بن نعمان بن عامر بن عبدود بن عوف بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ بن زید لات بن رفیدہ بن ثور بن کلب ابن ویرہ کلبی ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کے نسب میں ابن رفیدہ بن لوی بن کلبکو ذکر کیا ہے یہ غلطی ہے وہ ثور بن کلب ہیں اس میں کچھ شک نہیں ہے ان کی والدہ ام ایمن ہیں جو رسول خدا ﷺ کی کھلائی تھیں پس یہ اور ایمن علاتی (٭خون کے نکال ڈالنے سے زخم جلد اچھا ہو جاتا ہے اسی واسطے یہ تدبیر حضرت نے کی۔ غایت درجہ کی محبت اس حدیث سے ظاہر ہوتی ہے) بھائی ہیں۔ حضرت اسامہ کی کنیت ابو محمد اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو زید اور بعض کہتے ہیں ابو یزید اور بعض کہتے ہیں ابو خارجہ اور یہ اپنے والدین کے وقت سے رسول خدا ﷺ کے مولی (آزاد کردہ غلام) ہیں۔ یہ حب رسول اللہ کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ حضرت ابن عمر نے رویت کی ہے کہ نبی۔۔۔

مزید

سیدنا) اسامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن خزیم۔ انھوں نے حضرت مرہ سے روایت کی ہے اور انس ے عبداللہ بن شقیق رویت کرتے ہیں۔ ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہوا۔ انکا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسامہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن اخدری شقری۔ شقرہ کا نام حارث بن تمیم بن مر ہے ایسا ہی ابن عبدالبر نے بیان کیا ہے۔ ہشام کلبی کہتے ہیں کہ شقرہ کا نم معاویہ بن حارث بن تمیم ہے ان کو شقرہ صرف ان کے ایک شعر کے سبب سے کہنے لگے شعر وقد احمل الرمح الاصم کعو بہ بہ من و ماء الحی کا لشقرات (٭ترجمہ تیز نیزے نے اپنی نوکیں اس حالت میں اٹھائیں کہ قبیلہ کا خون ان پر مثل شقرات کے تھا۔ مقصود اپنی شجاعت اور دلیری کا بیان کرنا ہے کہ میں نے اتنے آدمی نیزے سے مرے کہ میرا نیزہ خونس ے سرخ ہوگیا تھا) سَران شقائق (٭شقائق نعمان گل لالہ کو کہتے ہیں) نعمان کو کہتے ہیں نعمان نے ایک زین محدود کر لی تھی اور اس میں انھوںنے شقرات بوئے تھے لہذا شقرات انھیں کی طرف منسوب ہیں۔ ہمیں ابو الفضل عبداللہ بن احمد بن عبدالقاہر طوسی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو جعفر محمد جعفر بن احمد بن حسین سراج نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن احمد ابن شاذان نے خبر د۔۔۔

مزید

سیدنا) اساف بن نہیک یا نہیک بن اساف (رضی اللہ عنہ)      

  ان کا تزکرہ اسی حدیچ میں ہے جو اوپر بیان ہوچکی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اساف (رضی اللہ عنہ)

  ابن انمار اور اساف بن نہیک ان دونوں کا ذکر رافع بن خدیج کی مزارعت والی حدیث میں ہے جس کو ایوب بن عبہ نے ابو النجاشی سے انھوںنے رافع سے روایت کی ہے ہ انھوں نے کہا مجھ سے میرے چچا ظہیر نے بیان کیا کہا کہ اے میرے بھتیجے رسول خدا ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم اپنے کھیت کرایہ میں دین اس حدیث کو قبیلہ بن سلیم کے ایک شخص نے سناجن کا نام اساف بن انمار تھا تو انھوںنے کہا۔ شعر لعل(٭ترجمہ: شاید ضرار (نامی زمیں) کے کنویں اب خشک ہو جائیں اور ریان (نامی مقام) میں تم سنو کہ یوم یان بوع ہہی ہیں یعنی جس کر یہ پر دینا موقوف ہو جائے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بوجہ زراعت نہ ہونے کے کنویں خشک ہو جائیں گے اور آبادیکے مقامات اسے ویران ہو جائیں گے کہ وہاں لومڑیاں بولیں گی) ضرارا ان تبید ئبارہا    وتسمع بالریان لقوسی تعالبہ ہمارے شاعر اساف بن نھیک نے یا نھیک بن اساف نے ( اس کے جوا۔۔۔

مزید

سیدنا) ازہر (رضی اللہ عنہ)

  ابن منقر۔ بصرہ کے اعراب میں سے ہیں ان کی حدیث یہ ہے کہ انھوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی ہے میں نے آپ کو سنا آپ الحمد للہ رب العالمیں سے نماز شروع کرتے تھے اور (نماز ختم ہو جانے پر) دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے (اسدالغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) ازہر (رضی اللہ عنہ)

  ابن قیس۔ کنیت ان کی ابو الولید۔ ان سے حریز بن عثمان نے روایت کی ہے (کسی اور نے ان سے روایت نہیں کی یہ ابن عبدالبر کا قول ہے) کہ نبی ﷺ مغربکے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابوموسی نے کیا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) ازہر (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبد عوف بن عبد بن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ قرشی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کے چچا اور عبدالرحمن بن ازہر کے والد ہیں جن سے ابن شہاب روایت کرتے ہیں۔ ابو الطفیل حضرت ابن عباس ے روایت کرتے ہیں کہا نھوں نے کہا میں نے اور محمد بن حنفیہ نے سقایہ (٭سقایہ کے معنی پانی پلانا یہاں مراد حاجیوں کو پانی پلانا آنحضرت ﷺ نے یہ خدمت حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمائی تھی چنانچہ اب تک ان کے خاندان میں ہے) کی بابت اختلاف کیا تو طلحہ بن عبید اللہ نے اور عامر بن ربیعہ نے اور ازہر بن عبد عوف نے اس کی شہادت دی کہ سقایہ رسول خدا ﷺ نے فتح مکہ کے دن حضرت عباس کے سپرد کیا تھا۔ اور عبید اللہ بن عبداللہ نے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی الہ عنہ نے قریش کے چار آدمیوں کو بھیجا تھا انھوں نے حرم (٭یعنی ہر طرف سے حرم کی حد بندی کر دی حرم کے حدود ہر جانبسے مختلف ہیں) کے نشانات قائم کئے وہ چار یہ تھے۔ محزمہ۔۔۔

مزید

سیدنا) ازہر (رضی اللہ عنہ)

  ابن حمیضہ ان کے صحابی ہونے میں کلام ہے۔ انھوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید