شاہ اہل تصوف مجرد ز آفت تکلف عالم باعمل عابد بے کسل تہجد گزار صائم الدہر والی حضرت متعالی شیخ الاسلام حمید الملتہ والدین سوالی انبیاء و مرسلین کے وارث ابو احمد سعید صوفی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں۔ یہ بزرگ شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کے ممتاز خلیفہ اورشیخ الاسلام قطب الدین بختیار اوشی قدس اللہ سرہ العزیز کے ہم خرقہ ہیں۔ آپ حضرت خطۂ ناگور کے باشندے تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ جب یہ بزرگ شیخ معین الدین حسن سنجری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے اور توبہ نصوح کی دولت سے مالا مال ہوئے تو لوگوں نے جبراً و قہراً آپ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ اس بیعت کو فسخ کردیں اور برسرِ انکار ہوجائیں لیکن شیخ حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا اور صاف جواب دیا کہ جاؤ بیٹھو۔ میں نے اپنا ازار بند ایسا مضبوط و مستحکم باندھا ہے کہ کل بہشت کی حوروں کے سامنے بھی نہیں کھولوں۔۔۔
مزید
حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین فرماتے تھے کہ ایک دفعہ شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز سے ایک یار نے پوچھا کہ شیخ الاسلام قطب الدین کانسہ اور کندوری رکھتے تھے فرمایا نہیں ابتدا میں ان کی زندگی نہایت عسرت اور تلخی سے بسر ہوتی تھی اول اول خواجہ ایک مسلمان بقال آپ کو قرض دے دیا کرتا اور جب کہیں سے کوئی تحفہ آپ کے پاس پہنچتا تو بقال کا قرض ادا کر دیا جاتا لیکن چند روز کے بعد خواجہ نے اس پر عزم بالجزم کر لیا کہ اب میں کسی سے کچھ قرض نہ لوں گا۔ ازاں بعد خدا کے فضل و کرم سے روز مرہ ایک بڑا کاک آپ کے مصلے کے نیچے سے پیدا ہوتا تھا جو سارے گھر کو کافی ہوجاتا تھا۔ بقال کو خیال ہوا کہ شاید شیخ مجھ سے نا راض ہیں جو اب قرض نہیں لیتے یہ سوچ کر اس نے اپنی بی بی کو شیخ کے حرم محترم کے پاس بھیجا کہ وہ اس بات کو دریافت کرے۔ دریافت کرنے کے بعد شیخ کے حرم محترم نے جو۔۔۔
مزید
شیخ علی الاطلاق قطب باتفاق، اسرر کے سر چشمہ، انوار کے مطلع، دنیا جہان کی شمع، بنی آدم کے بادشاہ نامدار شیخ الاسلام قطب الحق والدین بختیار اوشی قدس اللہ سرہ العزیز ہیں۔ آپ جناب شیخ الاسلام معین الدین حسن سنجری کے مشہور اور نامور خلیفہ اور اکابر اولیاء کے سرتاج۔ اجلہ اصفیا کے مقتدا ہیں تمام اولیاء وقت اور اصفیاء عصر آپ کے معتقد و فرما نبردار تھے اور نہایت وقعت و قبول کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ’’ولِی معَ اللہ‘‘ کے شغل کے ساتھ موصوف اور ترک و تجرید کے ساتھ مخصوص تھے۔ آپ رجب المرجب کے مہینے ۵۲۲ ہجری میں شہر بغداد امام ابو اللیث سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ کے مسجد میں شیخ شہاب الدین سہروردی اور شیخ اوحد کرمانی اور شیخ برہان الدین چشتی اور شیخ محمد صفاہانی کے سامنے شیخ الاسلام شیخ معین الدین سنجری کی بیعت کے شرف سے ممتاز ہوئے اور آپ کے اعتقاد و ارادت کا حلقہ اطاعت کے۔۔۔
مزید
آپ کے آباء و اجداد زمانہ کی ستم ظریفی اور بعض ناسازگار حالت کی بِنا پر خوارزم سے ہجرت کرکے ہندوستان تشریف لائے تھے اور مقام ایرج میں اپنی سکونت اختیار کی، آپ خواجہ اختیار الدین عمر ایرجی کے مرید، خلیفہ اور شاگرد تھے علاوہ ازیں سید جلال بخاری اور شیخ راجو قتال کی بھی بے انتہا خدمت کی جس کے صلہ میں ان دونوں بزرگوں نے بھی انہیں خلافت سے نوازا، آپ نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور امام غزالی کی کتاب منہاج العابدین کا آپ نے ترجمہ بھی کیا ہے، آپ فن شعر میں بھی کمال رکھتے تھے، تاریخ محمدی کے مولف بھی آپ ہی کے تلمیذ اور مرید تھے۔ صاحب تاریخ محمدی لکھتے ہیں کہ آپ ایک روز 834ھ میں اپنی خانقاہ میں بیٹھے ہوئے سماع سن رہے تھے کہ اسی حالت میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی، آپ کا مزار خانقاہ کے صحن میں ہے، آپ کے مزار پر سلطان علاؤ الدین مندوی نے ایک بے نظیر اور بیش بہا گنبد تعمیر کروایا ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ کے چوتھے خلیفہ شیخ ابو نصر شکیبان تھے جو اکابر مشائخ سیستان میں سے تھے۔ دیگر خلفاء آپ کے دیگر خلفاء شیخ حسن تبسمی، خواجہ سبز پوش آوز بائجافی۔ شیخ عثمان رومی تھے جن کو حضرت خواجہ بایزید سے بھی خلافت تھی اور دو سلسلوں کے سردار تھے۔ آپ کے دوسرے خلفاء شیخ احمد بدرون۔ خواجہ محمد سام خواجہ ابو الحسن ہانی جو تاریخ ہانی کے مصنف ہیں۔ اس کتاب کو بغداد میں آب زر سے لکھا گیا تھا۔ وصال کتاب اسرار لسالکین میں لکھا ہے کہ ایک دن حضرت خواجہ قدس مجلس سماع میں وجد اور حال میں منہمک تھے۔ آپ پر حال کا ایسا غلبہ ہوا کہ آپ درخت پر چڑھ گئے۔ اور چند یوم اس پر بیٹے رہے۔ آپ کے احباب نے درخت کے نچیے جاکر باجے بجانا شروع کیا۔ کہ شاید لذت سرود کی وجہ سے آپ نیچے اُتر آئیں جونہی سرود کی آواز آپ کے کانوں پر پہنچی نعرہ مارکر درخت سے نیچے گر گئے۔ اور شدت سے گرے کہ زمین میں گڑھا پیدا ہوگیا ا۔۔۔
مزید
آپ کے تیسرے خلیفہ شاہ سنجان تھے۔ جن کا حقیقی نام رکن الدین محمود تھا۔ آپ کے قصبۂ سنجان حورف کے رہنے ولاے تھے۔ آپ کافی مدت تک چشت میں مقیم رہے۔ لیکن قیام کے دوران آپ کبھی بے وضو نہیں جب قضائے حاجت کی ضرورت ہوتی تو آپ سوار ہوکر دور جاتے اور طہارت کر کے واپس آتے تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ چشت مقدس مقام ہے یہاں بے ادبی روا نہیں ہے۔ اس سے پہلے آپ خواجہ سنجان کے نام سے مشہور تھے حضرت خواجہ مودود نے آپ کا لقب شاہ رکھا تھا۔ جس پر آپ ہمیشہ فخر کیا کرتے تھے۔ آپ کا وصال۵۹۷ھ میں ہوا۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
اس لیے مختصر کتاب میں حضرت اقدس کے ان گیارہ خلفاء کا ذکر کیا جاتا ہے آپ کے پہلے خلیفہ حضرت خواجہ ابی احمد بن حضرت خواجہ مودود چشتی ہیں جو اپنے والد ماجد کے جانشین ہوئے۔ آپ برے باعظمت اور صاحب کرامت بزرگ تھے آپ کا وصال ۵۷۷ھ میں خلیفہ ابو العباس احمد بن مستفی جسکا لقب ناصر عباسی ہے کے زمانے میں ہوا۔ آپ سلاطین سلجوق کے بھی ہم عصر تھے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
آں موصوف بہ کمالات استقامت ودرستی، قطب الاقطاب، خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی قدس سرہٗ بن محمد سمعان جمال معرفت و کمال حقیقت سے آراستہ تھے۔ آپ غایت حضور کی وجہ سے دریائے احدیت میں غرق تھے اور مجاہدات وریاضات، وکرامات میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ اپنے ماموں حضرت خواجہ ابو محمد چشتی قدس سرہٗ کے مرید وخلیفہ تھے۔ آپ کی عمر چوراسی سال تھی۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی نے آپکی اپنے فرزند کی طرح پرورش فرمائی اور ظاہری وباطنی تربیت فرمائی۔آپ کی عمر چھتیس سال تھی آپ کے ماموں اور پیر ومرشد کا وصال ہوگیا۔ اور آپ ان کی مسند پر بیٹھے۔ اس کے بعد آپ پر ایسے اسرار ورموز منکشف ہوئے کہ بشر کے دہم وہم گمان میں بھی ن ہیں آسکتے۔ آپ صحیح النسب سید حسنی وحسینی ہیں۔ آپ کا نسب نامہ یہ ہے حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف بن حضرت خواجہ سمعان بن سید ابراہیم، بن سید محمد بن سید حسن بن ۔۔۔
مزید