پیر , 18 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 06 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت خواجہ عزیزالدین صوفی

آپ کی والدہ شیخ فریدالدین کی صاحبزادی تھیں (تو گویا کہ آپ شیخ فریدالدین کے نواسے تھے) آپ نے بھی شیخ نظام الدین اولیاء کے ملفوظات کو جمع کرکے ان کا نام ’’تحفۃ الابرار‘‘ اور ’’کرامت الاخبار‘‘ رکھا، آپ قاضی محی الدین کا شانی کے تلمیذ و شاگرد اور فن کتابت میں بے مثل کاتب تھے۔ آپ نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ شیخ نظام الدین اولیاء کے پاس گیا وہ اس وقت قبلہ رو دو زانو اس طرح بیٹھے تھے کہ ان کی آنکھیں اور چہرہ آسمان کی طرف تھا اور جمال پروردگار میں محو و مستغرق تھے میں خوف زدہ ہوگیا کہ میں ایسے نازک ترین وقت میں آیا ہوں کہ نہ رُک سکتا ہوں اور نہ ہی واپس لوٹ سکتا ہوں، غرض یہ کہ میں اسی عالم میں پورا ایک گھنٹہ کھڑا رہا اور اس پورے وقفہ میں شیخ کا کوئی خادم وغیرہ بھی نہ آیا س کے بعد شیخ نے اس طرح جُھر جُھری لی جس طرح چڑیا پھڑ پھڑاتی ہے اور اپنی اصلی حالت ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ محمد

آپ مولانا بدر الدین اسحاق کے بیٹے اور شیخ فریدالدین کے نواسوں میں سے جامع العلوم اور ماہر فی الفنون تھے اور علم حکمت میں بھی مہارت نامہ رکھتے تھے اور علم موسیقی بھی جانتے تھے اور کمال ذوق و شوق سے اطاعت و عبادت کرتے تھے اور شیخ نظام الدین کے امام تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے شیخ نظام الدین  اولیاء کے ملفوظات کو جمع کرکے ان کا ’’انوار المجالس‘‘ نام رکھا، ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ابوبکر طوسی کی خانقاہ جو دریا کے کنارے پر تھی وہاں ایک مجلس منعقد ہوئی اس مجلس میں شیخ نظام الدین  بھی موجود تھے، غزل خواں بے حد کوشش کر رہے تھے مگر کسی پر حال و وجد طاری نہ ہوا تو خواجہ نظام الدین نے فرمایا کہ مجلس ختم کردی جائے اور بزرگوں کے قصے اور حالات بیان کیے جائیں، چنانچہ جب بزرگوں کے حالات شروع ہوئے تو اسی اثناء میں لوگوں پر وجد طاری ہوگیا اور شیخ علی زنبیلی شیخ نظام الدین پانی۔۔۔

مزید

حضرت مولانا علی شاہ جان دار

آپ بھی خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ کے مرید تھے آپ نے اپنی کتاب ’’خلاصۃ اللطائف‘‘ میں لکھا ہے (کہ میں نے اپنے مرشد اور مخدوم شیخ نظام الدین قدس سرہ کو بحالت مراقبہ دیکھا تو میں نے بعض اوقات آپ کی مجلس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا، ایک سرہبہ میں نے آپ کی مجلس میں جاکر  دیکھا کہ شیخ خاموش بیٹھے ہیں اور مجلس بہترین جمی ہوئی ہے اور شیخ ظاہراً بالکل غیر متحرک تھے مگر آپ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں چنانچہ آپ نے مجھے پہچانا  نہیں اور پوچھا کہ تو کون ہے؟ یہ کیفیت دیکھ کر میرا ارادہ ہوا کہ الٹے پاؤں لوٹ جاؤں اور شیخ  اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہیں گویا کہ سکر کی حالت میں ہیں، پھر فرمایا کہ فقیر کے لیے مناسب یہ ہے کہ اپنے دل میں نہایت خشوع کے ساتھ اس بات کا تصور کرے کہ میں اللہ کے سامنے بیٹھا ہوا ہوں پھر مجھے فرمایا کہ یہاں سے چلا جا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ج۔۔۔

مزید

شیخ طریقت حضرت مولانا حافظ مغفور القادری قدس سرہ

            حضرت مجاہد ملت،شیخ طریقت مولانا سید مغفور القادری ابن حضرت سید سردار احمد قدس سرہما(۱۳۲۶ھ؍۱۹۰۸ئ) میں گڑھی اختیار خاں ضلع رحیم یار خاں میں پیدا ہوئے۔والد گرامی نے تاریخی نام مغفور(۱۳۲۶ھ) تجویز فرمایا۔بچپن ہی میں والدہ ماجدہ داغ مفارقت دے گئیں۔نوسال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔ابتدائی کتابیںمولانا مفتی محمد حیات گڑھی والے اور جامع معقول و منقول مولانا عبد الکریم ہزاروی چم بھر چونڈوی سے پڑھیں،اس کے بعد مدرسہ شمس العلوم بستی مولویاں ضلع رحیم یار خاں میں تکمیل فرمائی،حضرت سراج احمد مکھن بیلوی قدس سرہ سے بھی مستفیض ہوئے۔تقریباً بائیس برس کی عمر میں تمام علوم سے فراغت حاصل کرلی اور شیخ العصر قطب زماں حافظ محمد عبد اللہ بھر چونڈوی سے بیعت ہو گئے۔مرشد کامل نے اپنے بچوں کی طرح تربیت فرمائی۔        &n۔۔۔

مزید

قدوۃ السالکین حضرت خواجہ معظم دین مر لوی قدس سرہ العزیز

            شیخ المشائخ حضرت کواجہ معظم دین مرولوی قدس سرہ العزیز ۱۲۴۷ھ؍ ۱۸۳۲ء میں تحصیل بھلوال کے ایک گائوں مرولہ میں پیدا ہوئے جسے بعد میں آپ کی فضیلت و شرافت کی نست سے مرولہ شریف کہا جانے لگا۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی، قرآن کریم تجوید احفظ کیا،تیرہ سال کی عمر میں حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رضی اللہ عنہ کے دست اقدس پر بیعت ہوئے پھر تحصیل علم کے بعد کچھ عرصہ لاہور اور زیادہ عرصہ بمبئی میں قیام کیا،وہاں سے علوم متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی اعلیٰ سندلے کر زیارت مقدسہاور سیاحت عالم کے لئے روانہ ہوئے ترکی میں علماء سے ماحث میں شریک ہوئے ترکی کے علماء آپ کی جلالت علمی سے بیجد متاثر ہوئے اور حکومت وقت کو آپ کی طرف متوجہ کرایا چنانچہ سرکاری طورپر ایک با وقار تقریب میں آپ کو حکومت کی طرف سے شمس العلماء کا خطاب اور اعزازی ڈگری پیش کی گئی۔۔۔

مزید

مولانا مشیت اللہ قادری قدس سرہ

            حضرت مولانا مشیت اللہ قادری ابن مولانا رحیم بخش قادری ابن مولاا حکیم سعید اللہ قادری ابن اشرف الحکماء مولانا حافظ حکیم عطیم اللہ قادری (رحمہم اللہ تعالیٰ) اپنے وطن مالوف آنولہ (ضلع بریلی،یوپی) میں ۷۔۱۳۹۶ھ؍۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم خلفہ ضیاء علی سے حاصل کی،فارسی کی کتابیں اپنے والد ماجد مولوی رحیم بخش اور مولوی اسد علی سے پڑھیں،عربی کتب متو سطات تکی اپنے جد امجد مولانا حکیم سعید اللہ قادری سے پڑھیں،پھر کچھ کتابیں مولانا سید سراج الدین شاہجہانپوری سے پڑھیں،مولانا مفتی حافظ بخش گد ایونی قدس سرہ سے تکمیل کی۔           ہندی منشی چو کھے لال سے سبقا پڑھی اور بعض دیگر فنون بھی حاصل کئے، فن شاہسواری میں کمال رکھتے تے،تاریخ و ادب کے ماہر تھے خاص طور پر تاریخ روہیل کھنڈ پر وسیع نظر رکھت۔۔۔

مزید

حضرت مولانا علاؤالدین نیلی

آپ اودھ کے بڑے عالموں میں شمار کیے جاتے تھے، بڑے ولی اللہ، پاکیزہ روش اور معاملے میں صاف تھے، اودھ کے شیخ الاسلام مولانا فریدالدین سے جب آپ تفسیر کشاف پڑھتے تھے تو اودھ کے دیگر علماء مثل مولانا شمس الدین یحییٰ سماع کیا کرتے تھے، آپ کا لباس علماء کی مانند ہوتا تھا مگر حقیقتاً آپ تصوف کے اوصاف سے موصوف تھے، آپ اگرچہ اپنے شیخ خواجہ نظام الدین  اولیاء کے باقاعدہ خلیفہ مجاز تھے مگر پھر بھی لوگوں کو بیعت نہیں فرمایا  کرتے تھے اور اکثر و بیشتر یہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر خواجہ نظام الدین اولیاء حیات ہوتے تو میں آپ کا عطا کردہ  خلافت نامہ آپ کو واپس کرکے عرض کرتا کہ یہ دینی کام میں نہیں سرانجام دے سکتا، آپ کو اپنے  شیخ خواجہ نظام الدین اولیاء سے بے حد عقیدت و محبت تھی، نیز یہ بات بھی مشہور ہے کہ آپ نے اپنے مرشد کے ملفوظات فوائد الفواد کو آخری عمر میں خود نقل فرمایا تھا، وہی اپنے ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا فخرالدین زرادی

آپ بڑے ولی اللہ ، ذی علم، متقی، صاحب ذوق و عشق اور خواجہ نظام الدین کے خلیفہ تھے، امور شرعیہ میں بڑے مضبوط تھے، اوائل عمر میں مولانا فخر الدین ہانسوی سے دہلی میں تعلیم حاصل کی، اپنی ذہانت اور فصاحت بیانی کی وجہ سے اہل شہر کےممتاز لوگوں میں شمار کیے جاتے تھے، آخر کار خواجہ نظام الدین اولیاء کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے اور سر منڈوادیا، طالب علموں کے زمرہ سے نکل کر درویشوں کی جماعت میں داخل ہوگئے اور غیاث پور میں رہنے لگے، اپنے مُرشد کے انتقال کے بعد دریائے جمنا  کے کنارے ایک محلہ میں مقیم ہوئے، جسے اب فیروز آباد دہلی کہتے ہیں، کچھ دنوں تک حوض علائی پر ٹھہرے رہے اور ایک مدت تک بسنا بند میں عبادت الٰہی کرتے رہے جو پہاڑوں کے وسط میں ہے اور آپ کے زمانہ میں وہ علاقہ جنگل و بیابان اور شیروں کی آماجگاہ تھا، اس کے بعد خواجہ معین الدین چشتی کی زیارت کے لیے اجمیر تشریف لے گئے، وہاں سے ہوتے  ۔۔۔

مزید

مبلغ سنیت عارف ھقانی مولانا  پیر سید معصوم شاہ قدس سرہ العزیز

  (بانی نوری کتجانہ ،دربار حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ لاہور)           مولانا سید محمد معصول شاہ ابن حضرت فضل شاہ (سجادہ نشین) چک شادہ شریف،ضلع گجرات،تقریباً ۱۳۱۶ھ؍۱۸۹۸ء میں پیدا ہوئے دینی تعلیم حضرت مولانا امام دین رحمہ اللہ تعالیٰ سے حاسل کی،بعدہ لاہور میں حجرت داتا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزا پر انوار پر حاضر ہو کر حضرت بابا فضل نور قادری نوشاہی رحمہ اللہ تعالیٰ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے نوازے گئے،حضور داتا صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ سے آپ کو خاص عقیدت تھی۔آپ نے اپنی زندگی کے اکثر اوقات مزار حضرت داتا صاحب پر گزارے آکر ۱۹۵۷ء میں حضرت کے قریب مستقل سکونت اختیار کرلی۔حضرت شیخ الحدیث لائل پوری ہر ماہ حضرت داتا گنج بخش کے دربار میں حاضری کے لئے آتے تو حضرت پیر صاحب سے ضرور ملاقات کرتے اور سنی رضوی کتب خانہ کے لئے بہت سی کتابیں ۔۔۔

مزید