پیر , 18 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 06 April,2026

پسنديدہ شخصيات

علامۃ العصر ، قدوۃ العارفین حضرت  خواجہ غلام رسول توگیروی قدس سرہٗ

            ام الفضلاء والعر فاء حضرت خواجہ غلام رسول توگیروی ابن حضرت خواجہ وسلطان محمود قدس سرہما ۱۲۳۰ھ؍۱۸۱۵ء میں بونگہ محمود لنگاہ(مضافات بہاولنگر) میںپیدا ہوئے قرآن مجدی اور فارسی کی بتدائی کتابیں جدا مجد حضرت مولاناحافظ محمد عظمت اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ (خلیفۂ حضرت شیخ محمد فاضل نیکو کارہ خلیفۂ حضرت خواجہ عام نور محمد مہاروی قدس سرہما )سے پڑھیں، پھرجدا مجد کے ایماء پر ۱۲۴۵ھ میں مہار شریف گئے اور فارسی و صرف کی بعض کتابیں مولانا نور الدین اور مولانا محمد عمر تونسوی سے پرھیں ، بعد ازاں بہاولپور تشریف لے گئے اور مولانا محمد کامل بہاولپور سے پڑھیں ،ازاں بعد مضع چیلاوہن (مضافات بہاولپور ) میںجاکر مولانا ھافظ محمد افضل سے علمی استفادہ کیا ۔اس کے بعد موضع مہت جھیڈو (مضافات جہاولنگر ) میںگئے اور مولانا جان محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے اکتساب فیض ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا نور ترک

قاضی منہاج جرجانی نے اپنی کتاب ’’طبقات ناصری‘‘ میں آپ کا تذکرہ اس طرح کیا ہے جو آپ کی حالت کے سراسر خلاف اور آپ کے مذہب پر شدید نکتہ چینی ہے، لیکن فوائد الفواد میں میر حسن نے خواجہ نظام الدین اولیاء کا قول نقل کیا ہے کہ بعض  علماء نے مولانا ترک کے متعلق کچھ اور تحریر کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا بارش کے پانی سے بھی زیادہ پاکیزہ تھے، شہر کے علماء کو آپ سے اس لیے تعصب تھا کہ آپ ان تمام عالموں کو دنیا داری میں مبتلا دیکھ کر ان پر نکتہ چینی فرمایا کرتے تھے، آپ نے کسی سے  بیعت نہیں کی تھی، آپ ہر بات علم اور مجاہدہ کی قوت سے کہا کرتے تھے، آپ کا ایک غلام تھا جس کا پیشہ روئی دھننا تھا وہ شام کو آکر آپ کو ایک درہم دیا کرتا تھا جس سے آپ اپنی ضروریات زندگی کو پورا فرمایا کرتے تھے۔ ایک دن  سلطانہ رضویہ نے آپ کی خدمت میں کچھ سونا، بھیجا، اتفاقاً اس وقت آپ کے۔۔۔

مزید

حضرت شیخ علی کرد

سیرالاولیاء میں لکھا ہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء نے فرمایا کہ جب میں ہانسی گیا تو شیخ فریدالدین اس زمانے میں داؤدی روزہ رکھ رہے تھے، چنانچہ شیخ فریدالدین نے افطار کے وقت شیخ کرد کو دعوت دی، انہوں نے دعوت قبول کرلی اور تشریف لے آئے، چنانچہ  دونوں بزرگ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ شیخ علی کرد کے دل میں یہ خیال آیا کہ شیخ اگر صائم الدہر ہوتے تو بہت ہی اچھا ہوتا، یہ بات  شیخ فریدالدین کو بوجہ نور باطن کے معلوم ہوگئی اور اسی وقت کھانے سے ہاتھ روک لیا، شیخ علی کرد کا وطن میرٹھ کے علاقہ میں تھا اور آپ کا مزار بھی وہیں ہے۔ دل کی جو بات جان لے روشن ضمیر ہے اس مردے باصفا کو ہمارا سلام ہو (مغیلانِ مدینہ) اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت علامہ مولانا غلام حیدر ﷫

            مولانا غلام حیدر قدس سرہ اپنے دور کے متجرفاضل اور یگانۂ روز گار مدرس تھے، علم میراث میںتخصص کا درجہ کررکھتے تھے، جامعہ فتحہ اچھرہ (لاہور ) میں استاذ الاساتذہ مولانا مہر محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے استفادہ کرنے والے منتہی طلباء خاص طور پر سراجی پڑھنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے،علم میراث میں کمال دسترس کی وجہ سے آپ سراجی بابا کے لقب سے مشہور تھے۔ آپ موضع پھلیاں تحصیل پلندری(آزاد کشمیر ) میں پیداہوئے گجرات (پنجاب ) اور پشاور کے فضلاء سے علمی استفادہ کرنے کے بعد لاہور آئے اور اہل سنت و جماعت کے مایہ ناز فاضل مولانا غلام قادر بھیر وی قدس سرہ کے سامنے زا نوئے تلمذطے کیا اور علمی جواہر پاروں کو دامن مراد میں سمیٹا،کچھ عرصہ مدرسہ امداد الاسلام میرٹھ میں بھی پڑھتے رہے۔          ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالعزیز

آپ کے والد محترم کا نام شیخ حمیدالدین تھا، آپ کی وفات شباب ہی کے زمانے میں  اس وقت ہوئی جبکہ آپ سماع سن رہے تھے، واقعہ یوں ہوا کہ ایک رات کو ایک صوفی کے گھر پر محفل سماع کا پروگرام بنایا گیا، اس محفل میں غزل خواں نے یہ شعر پڑھا جاں بدہ، جاں بدہ، جاں بدہ فائدہ گفتن بسیار چیت ترجمہ: (جان قربان کردے، جان قربان کردے، جان قربان کردے، زیادہ  باتوں میں کیا فائدہ) یہ سنتے ہی شیخ عبدالعزیز نے ایک چیخ ماری اور کہا، دیدی، دیدی، دیدی۔ چنانچہ فوراً جان جانِ  آفریں کے سپرد کردی۔ آپ کے تین صاحبزادے تھے۔ شیخ وحید، شیخ فرید، شیخ نجیب، آپ نے ہر ایک لڑکے کی بابت الگ الگ پیشین گوئی فرمائی، چنانچہ شیخ وحید کے متعلق فرمایا کہ یہ میری طرح یکتا ہے اور ایسا ہی ہوا کہ وہ غیر شادی شدہ اور آزاد رہے اور خلافت حاصل کرنے کے بعد لوگوں کو ہدایت کرتے کرتے عالمِ پائدر میں چلے گئے اور شیخ فرید و نجیب کے متعلق۔۔۔

مزید

خطیب پاکستان مولانا غلام الدین قدس سرہ العزیز          

  اشرفی ہوں بندئہ مسکین ہوں کادم قوم و غلام دین ہوں           مجاہد تحریک ختم نبوت ، خطیب پاکستان حضرت مولانا دین ابن مولانا میاں سید احمد ابنمیاں فضل دین ابن میاں کرم دین چکوڑی ضلع گجرات میں پیدا ہوئے (گجرات سے ۰ میل دور سرگودھا روڈ پر کنجاہ اور منگوال کے درمیان چکوڑی بکھو کا اسٹاپ ہے) قرآن مجید والد ماجد سے پڑھا ، ڈیڑھ میل دور قصبہ کنجاہ کے سکول میں سات جماعت تک تعلیم حاصل کی ، مولانا محمد عبد اللہ کنجاہی سے سکندر نامہ تک فارسی کی کتابیںپڑھیں، پھر لاہور آگئے،استاذ الفضلاء مولانا محمد مہرالدین (مؤلف تسہیل المبانی شرح مختصر المعانی) مفتی ٔ اعظم پاکستان مولانا ابو البرکات سید احمد دامت برکاتہم العالیہ اور اما المحدثین مولانا سید دعدار علی شاہ قدس سرہ سے درس نظامی اور حدیث پاک کی تکمیل کی[1] اور ۱۳۵۲ھ میں سند فراغت حاصل کی ، سند فراغت۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابو بکر طوسی حیدری

آپ قلندر صفت تھے اور شیخ جمال الدین ہانسوی کے ساتھ ان کی بے حد دوستی تھی شیخ ہانسوی جب ہانسی سے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی زیارت کے لیے آتے تو جمنا کے  کنارے شیخ طوسی کی خانقاہ میں ٹھہرتے، جہاں فقیروں کی ملاقات کے علاوہ مجالس سماع بھی منعقد ہوا کرتی تھیں، حضرت خواجہ نظام الدین بھی آپ کی خانقاہ میں آتے اور مجلس میں شریک ہوا کرتے تھے۔ ایک دفعہ شیخ جمال الدین ہانسوی کی دہلی میں آمد کے موقع پر مولانا حسام الدین اندرپتی نے جو دہلی کے صدر خطیب اور قاضی القضاۃ تھے، علاوہ ازیں شیخ جمال الدین کے مرید بھی تھے اپنے پیر و مرشد شیخ جمال الدین کا استقبال کیا جب یہ استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے تو شیخ طوسی نے مولانا حسام الدین سے کہا کہ آپ شیخ جمال الدین سے کہہ دیں کہ میں حج کے لیے جا رہا ہوں، شیخ جمال الدین نے آتے ہی مولانا حسام الدین سے دریافت فرمایا کہ ہمارا سفید ہاتھی یعنی ابوبکر طوسی کس ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا حکیم غلام احمد حافظ آبادی قد س سرہٗ

            عارف با للہ حضرت مولانا حکیم غلام احمد بن شیر محمد بن جان محمد بن فقیر اللہ (رحمہم اللہ تعالیٰ ) موضع سہار ن خورد تحصیل وزیر آباد میں پیدا ہوئے ۔اپنے دور کے مشہور افاضل سے علوم دینیہ کی تحصیل کی جن میں سے حضرت مولانا محمد موسیٰ فتح پوری اور مولانا غلام رسول ساکن علی پور تحصیل وزیر آباد خاص طور پر قابل ذکر ہیں سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے استاذ حضرت مولانا محمد موسیٰ خیلفۂ حضرت مولانا محمد علی مکھڈوی خلیفہ حضرت پیر پٹھان خواجہ محمد سلیمان تونسوی (قدست اسرارہم ) سے بیعت ہوئے اور خلافت سے سر فراز ہوئے ۔           مولانا غلام اپنے وقت کے عارف ربانی اور فال یگانہ تھے،شعر و ادب ، طب اور خطاطی میں خاصی دسترس رکھتے تھے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے محب ص۔۔۔

مزید

حضرت سیدی مولہ

آپ سلطان غیاث الدین بلبن کے زمانے میں دہلی میں تھے، آپ کے مرید اور عقیدت مند کثرت سے ہیں، لوگوں کو کھانا کھلاتے اور خوارق العادات اور کرامات دکھایا کرتے  تھے، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کیمیا گر تھے بعض لوگ آپ کے تصرف و کرامات کے معتقد   تھے اور بعض لوگوں کا گمان تھا کہ آپ جادو گر اور شعبدہ باز تھے، سلطان جلال الدین خلجی کے زمانے میں شیخ ابوبکر طوسی کے قلندروں نے آپ کو مار ڈالا تھا، آپ  کو جس روز قتل کیا گیا اس دن آسمان پر بے انتہا گرد و غبار تھا اور اتنا اندھیرا چھاگیا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا گویا قیامت آگئی، سلطان جلال الدین اس سے پہلے آپ کے معتقد نہ تھے مگر ان حالات کو دیکھنے کے بعد آپ کے خاصے معتقد ہوگئے تھے، واللہ اعلم نہ کسی کے وجد پہ طنز کر نہ کسی کے غم کا مذاق اڑا جسے چاہیں جیسے نواز دیں یہ درِ حبیب کی بات ہے اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

استاذ الافاضل مولانا غلام احمد حافظ آبادی قدس سرہٗ العزیز

            فاضل متجر استاذ العلماء فقیہ اجل مولانا غلام احمد بن شیخ احمد ۱۲۷۳ھ/ ۱۸۵۶ء میں کوٹ اسحٰق (مضافات حافظ آباد) میں پیدا ہوئے ۔ قرآن مجید اور فارسی کی کتابیں گھر میں پڑھیں پھر مولانا علاء الدین بھابڑہ ضلع ہوشیار پور ، مولانا محمد دین ، مولانا شاہ دین احمد نگر (ضلع گوجرانوالہ) مولانا ابو احمد رائو د علی ( کپور تھلہ ) اور مولانا گلام قادر بھیروی وغیرہم ممتاز افاضلس سے کسب فیض کیا ۔ فراغت کے بعد جامعہ نعمانیہ لاہور میں تدریس کا آغاز کیا اور تمام عمر صدر مدرس رہے[1]             آپ کا شمار اپنے دور کے اکابر مدرسین میں ہوتا تھا ، بیشمار فضلاء آپ کے شاگرد ہوئے جن میں سے مندرجہ ذیل بہت مشہور ہوئے: ۱۔       مولانا فیض الحسن جہلمی ۲۔    &n۔۔۔

مزید