آپ اپنے زمانہ کی صالحات قاتتات، اور عارفات میں سے تھیں، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور دوسرے بزرگانِ جنت کے ملفوظات میں آپ کا ذکر ملتاہے کہتے ہیں کہ حضرت سلطان المشائخ بی بی فاطمہ کے روضہ میں بہت مشغول ذکر رہا کرتے تھے حضرت فرید الدین گنج شکر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فاطمہ سام کو عورتوں کی شکل میں مرد حق بناکر بھیجا ہے آپ کو حضرت شیخ مسعود شکر گنج اور شیخ نجیب الدین ترک سے رابطہ تھا اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی فرمایا کرتے تھے کہ بی بی فاطمہ سام بڑی صاحب تقویٰ اور باصلاحیت عورت تھیں، وہ نہایت بوڑھی ہوچکی تھیں جب میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ ایک محبوب خدا عورت تھیں، بعض اوقات مناسب احوالِ خود اشعار کہتیں، ان کا ایک شعر مجھے ابھی تک یاد ہے۔ ہم عشق طلب کنی وہم جاہ بخواہی ہر دو طلبی اوے تیسر نشود آپ ۶۴۳ھ میں فوت ہ۔۔۔
مزید
حضرت شاہ عبدالمجید بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قدوۃ العلماء، زبدۃ العرفاء، عروس حجلۂ تقدیس، نوشاہ خلوت توحید، حضرت مولانا شاہ عین الحق عبد المجید سرمست بادہ توحید حضرت شاہ عبد الحمید عثمانی المتوفی ۱۲۳۳ھ کے بڑے صاحبزادے ۲۹؍رمضان المبارک ۱۱۷۷ھ کو پیدا ہوئے،‘‘ ظھور اللہ ’’تاریخی نام تجویز ہوا، بزرگ خاندان اور والد ماجد کے پھوپھا بحر العلوم حضرت مولانا شاہ محمد علی عثمانی اور اپنےماموں حضرت مولانا محمد عمران خطیب اور پھوپھا حضرت مولانا مفتی شاہ عبدالغنی قدست اسرارھم سے پڑھنے کے بعد لکھنؤ میں حضرت مولانا ذوالفقار علی دیوی سےتکمیل علوم کی، باشارہ حضور سرور کائناتفخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم حضرت شاہ اچھے میاں کو خبر ہوجاتی تو حضرت وطن جانے کی تاکید فرماتے، آپ اچھا کہہ کر تعمیل حکم والا کا قصد فرماتے لیکن دل جدائی پر راضی نہ ہوتا، ادھر اُدھر پھر کر حاضر ۔۔۔
مزید
آپ حضرت شیخ نظام الدین ابوالموید قدس سرہ کی والدہ تھیں، ریاضت و عبادت میں بے نظیر تھیں، فقہیہ اور بزرگ تھیں۔ ایک بار دہلی میں بارش کی کمی سے خشک سالی ہوگئی، خلق خدا حضرت شیخ نظام الدین ابوالموید کی خدمت حاضر ہوئی، حضرت شیخ منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ کے حضور میں التجائے باران کرتے وقت اپنی والدہ ماجدہ کا ایک پرانہ کپڑا اپنی جیب سے نکالا اور اپنے ہاتھوں پر رکھ لیا اور کہنے لگے اے اللہ اپنی نیک بندی کے اس کپڑے کی طفیل ہمیں نا امید نہ فرما اور بارش بھیج دے دعا کے فوراً بعد بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور شدید بارش ہوئی۔ حضرت بی بی سارہ کا سالِ وفات ۶۳۸ھ تھا، آپ کا مزار دہلی میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی قدس سرہ کے متصل ہے۔ رفت چوں سارہ زین جہان فنا گفت تاریخ رحلتش سرور گشت در جنت خدا ولی قدس اللہ سرہ العالی ۶۳۸ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
سیدہ عالی قدر تھیں زہد و ریاضت میں کمال رکھتی تھیں مجاہدہ میں مقام بلند کی مالک تھیں، بڑے مدارج پر فائز تھیں کہتے ہیں اپنی ساری زندگی میں صرف تین بار گھر کی چار دیواری سے باہر قدم رکھا، آپ کی وفات ۵۷۳ھ میں ہوئی۔ فاطمہ عالمہ کز فضل خویش سالِ وصالش چو بجستم ز دل بُرد ز دنیاش بجنت خدا گفت بگو مشفقۂ اولیا (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
والد کا اسم گرامی حسین بن حسن تھا، آپ کی مجلس میں نیک عورتیں آتیں اور آپ کے وعظ سے فیض یاب ہوئی تھی، آپ کی وفات ۵۲۱ھ میں ہوئی۔ فاطمہ چوں از جہاں پُر فنا فاطمہ منصور گو تاریخ اُو ۵۲۱ھ رفت باحق یافت جنت در وصال ہم بخواں مشعوقۂ سال ارتحال (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کے والد کا اسم گرامی احمد بن محمد بن ابی حاتم تھا، آپ بڑی عالمہ، عابدہ اور بزرگ تھیں، صوری اور معنوی رموز کی جامع تھیں، ظاہری اور باطنی علوم میں یکتا تھیں، حدیث کا درس دیا کرتی تھیں آپ کی وفات ۴۶۳ھ میں ہوئی تھی۔ سفینۃ الاولیاء میں تذکرۃ النساء کے حوالے سے سالِ وفات ۴۷۵ھ لکھا ہے۔ چوں کریمہ مکرمہ اھل کرم شدز دل زاہد بدیعہ عارفہ ۴۶۶ھ رفت از دنیا بخلد جاودان سرور سال وصالِ اُو عیاں (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کبار عارفات و صالحات میں سے تھیں حضرت غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی پھوپھی تھیں، کہتے ہیں ایک بار جیلان میں خشک سالی ہو گئی لوگ بارش کے لیے دعا کرنے باہر نکلے دعا کی مگر بارش نہ ہوئی آخر کار تمام لوگ حضرت بی بی خدیجہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارش کے لیے دعا کی درخواست کی، آپ اٹھیں، اپنے صحن میں چھاڑو دیا اور کہنے لگیں یا اللہ! میں نے جھاڑو دے دیا ہے، اب اس پر آب پاشی تو فرمادے! اُسی وقت بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا، اتنی بارش ہوئی کہ تمام علاقہ سیراب ہوگیا۔ آپ ۴۷۵ھ میں ۷۴ سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔ چوں خدیجہ سیدہ باغرد جاہ عاشقہ تحریر کن ترحیل او ۴۷۶ھ یافت از دنیا بقرب حق وصال محرم حق سیدہ وال ارتحال ۴۷۶ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
والد کا اسم گرامی محمد بن علی بن عبداللہ تھا، آپ ابن سمعوں کی مجلس کی فیض یافتہ تھیں، صدق و صلاح اور ورع و تقویٰ میں یگانہ روزگار تھیں، زہد و ریاضت میں بے مثال تھیں، آپ کی ولادت باسعادت ۳۷۴ھ میں ہوئی اور وفات حسرت آیات ۴۶۰ھ میں ہوئی۔ آپ کا مزار حضرت ابن سمعون کے پہلو میں ہے۔ حضرت ام محمد ام دین طاہرہ محبوبہ کامل بگو ۳۷۲ھ رحلتش معصومہ صدیقہ است ۴۶۰ھ سالکہ بود ست در راہ خدا سال تولیدش بقول اصفیاء ۳۷۲ھ شد بدل ازہاتف غیبی ندا (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کے والد گرامی کا نام نامی قاضی ابوبکر بن کامل بن خلف تھا آپ حضرت شیخ محمد اسماعیل اجلانی کی شاگردہ تھیں، بڑے فضائل اور کمالات کی مالک تھیں، شیخ زاہدی اور ابو علی قدس سرہما آپ کے ہی شاگرد تھے آپ ظاہری اور باطنی علوم میں عاملہ اور کاملہ تھیں۔ سکینۃ الاولیاء نے آپ کی ولادت ۳۱۸ھ اور وفات ماہ رجب المرجب ۳۹۵ھ میں لکھی ہے۔ شہ عفت ولیہ اُم اسلام تی لیدش سلیمہ اُم اسلام ۳۹۵ھ کہ آمد ختم بر وے نام تفصیل بگو سرور فقیر سالِ ترحیل ۳۹۵ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید