آپ شیخ شاہی موئے تاب کے بھائی تھے، شاہی موئے تاب کی وصیت کے مطابق آپ خواجہ قطب الدین کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوئے تو خواجہ صاحب نے فرمایا آئیے شیخ بدرالدین آپ تو خود ولی ہیں، آپ کا مزار بدایوں میں نماز گاہ شمسی کے عقب میں واقع ہے، آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
آپ بدایوں کے رہنے والے تھے، قاضی حمید الدین ناگوری آپ کو ’’شاہ روشن ضمیر‘‘ کہا کرتے تھے، آپ کو قاضی صاحب موصوف نے خرقہ پہنا کر شیخ محمود موئینہ دوز کی طرف کہلا بھیجا، کہ آج میں نے یہ کام کیا ہے کہ ایک بادشاہ کو گوڑی پہنادی ہے اُمید ہے کہ یہ بات آپ کو پسند آئے گی، چنانچہ شیخ محمود موئینہ دوز نے قاضی صاحب کو جواب میں کہا کہ آپ جو کچھ کریں قابل پسندیدگی ہے۔ دوستی ہو تو ایسی: ایک دن شیخ شاہی موئے تاب کے کچھ دوست دھوپ میں اتنی دیر تک کھڑے رہے کہ ان کے بدن سے خون پسینہ بہنے لگا، اپنے دوستوں کی یہ حالت دیکھ کر شیخ نے اسی وقت ایک خون نکالنے والے کو بلوایا، لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اس سے کیا کام لینا چاہتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میرے دوستوں کا جتنا پسینہ نکلا ہے میں اتنا خون اپنے بدن سے نکلوادوں گا۔ خیر المجالس میں یہ تمام واقعہ اس تفصیل سے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ۔۔۔
مزید
آپ سلطان شمس الدین کے زمانہ کے مشہور بزرگوں میں سے تھے اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے ہم زمانہ تھے، شیخ نظام الدین نے بھی آپ کو دیکھا ہے، میر حسن اپنی (مشہور) کتاب فوائد الفوائد میں تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ شیخ نظام الدین اولیا سے پوچھا کہ آپ کبھی ابوالموید کی مجلس وعظ میں تشریف لے گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا، ہاں! مگر اس وقت میں کم عمر لڑکا تھا، اس لیے آپ کے وعظ میں مضامین کے مطالب کو اچھی طرح اخذ نہ کرسکتا تھا، ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں ان کی مجلس وعظ میں گیا، دیکھا کہ وہ جوتا پہنے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہیں، پھر انہوں نے اپنا جوتا اتار کر اپنے ہاتھ میں لیا اور مسجد میں تشریف لاکر دو رکعت نفل ادا کیے، میں نے ان کی طرح کسی کو اطمینان اور سکون سے نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا،ا نہوں نے پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی، بعد میں منبر پر تشریف لائے، قبل اس کے کہ آپ ۔۔۔
مزید
آپ شیخ شہاب الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ، روحانی مقتدا اور دہلی کے شیخ الاسلام تھے، سلطان شمس الدین کے زمانہ میں آپ کو ’’میر دہلی‘‘ کہا جاتا تھا۔ فوائد الفواد میں لکھا ہے کہ ایک روز شیخ نظام الدین ابوالموید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بزرگی میں گفتگو ہوئی کہ ایک مرتبہ بارش نہیں ہورہی تھی آپ سے لوگوں نے عرض کیا کہ بارش کے لیے دعا کیجیے، آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور بارش کے لیے دستِ دُعا اٹھایا اور یوں عرض کیا کہ اے اللہ! اگر تو نے بارش نہ برسائی تو میں اس سے پہلے کسی بھی آبادی میں نہ جاؤں گا، یہ کہہ کر منبر سے نیچے اتر آئے اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمادی، اس کے بعد سید قطب الدین کی آپ سے ملاقات ہوئی، سید قطبِ الدین نے آپ سے کہا کہ آپ کے بارے میں ہماری عقیدت بہت مضبوط ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کو نیاز&nbs۔۔۔
مزید
عالم با عمل، مرد مجاہد مولانا تاجدین ابن شیخ محمد عیٰسی ، موضع میاں وال رجیاں تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کھالوں کا کا روبار کرتے تھے ، نہایت متقی اور درویش منش تاجر تھے ، جب ہوش سنبھالا تو اپنے گائوں کی مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی ۔ درس نظامی کا استفادہ مولانا سید غلام رسول سے کیا ، درس حدیث کے لئے لاہور تشریف لائے ، ان دنوں جامع مسجد ٹپولیاں اندروں لوہاری دروازہ لاہور میں مولانا شہاب الدین نے یکی دروازہ پولیس لائن کے سامے ایک چھوٹی سی مسجد میں اقامت اختیار کی اور درس حدیث مولانا شہاب الدین سے لیتے رہے ۔ حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ اور حضرت مولانا غلام قادر بھیروی قدست اسراہما سے آپ کے گہرے مراسم تھے ، آپ فرمایا کرتے تھے : ’&rsqu۔۔۔
مزید
عالم با عمل، مرد مجاہد مولانا تاجدین ابن شیخ محمد عیٰسی ، موضع میاں وال رجیاں تحصیل پھالیہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کھالوں کا کا روبار کرتے تھے ، نہایت متقی اور درویش منش تاجر تھے ، جب ہوش سنبھالا تو اپنے گائوں کی مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی ۔ درس نظامی کا استفادہ مولانا سید غلام رسول سے کیا ، درس حدیث کے لئے لاہور تشریف لائے ، ان دنوں جامع مسجد ٹپولیاں اندروں لوہاری دروازہ لاہور میں مولانا شہاب الدین نے یکی دروازہ پولیس لائن کے سامے ایک چھوٹی سی مسجد میں اقامت اختیار کی اور درس حدیث مولانا شہاب الدین سے لیتے رہے ۔ حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ اور حضرت مولانا غلام قادر بھیروی قدست اسراہما سے آپ کے گہرے مراسم تھے ، آپ فرمایا کرتے تھے : ’&rsqu۔۔۔
مزید
حضرت مالانا مفیت محمد امین ابن جنا سراج الدین بد ایونی ۱۳۳۲ھ/۱۹۱۴ میں موضع ندائل تحصیل سہسوان ضلع بد ایوں میں پیدا ہوئے۔ سکو ل میں جماعت تک پڑھنے کے بعد علم دین حاسل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ کچھ عرصہ دادوں کے ایک دینی مدرسے میں پڑھتے رہے ، پھر جامعہ نعیمیہمراد آباد حضرت صدر الا فاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ کی خدتم میں حاضر ہوئے اور تمام علوم دفنو ن کی تکمیل کے بعد حضرت صدر الا فاضل سے درس حدیث لیا ، سلسلہ چشتیہ مینائیہ میں حضرت پیر سیددانش علی شاہ صفی پوری کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے مفتی صاحب عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ فن نبوت میںبھی کمال رکھتے تھے ۔ تحصیل علوم کے بعد کچھ عرصہ جامعہ نعیمیہ مراد آباد اور دار العلوم حنفیہ رضویہ امر رتسر میں مدرس رہ۔۔۔
مزید
عارف کامل حضرت پیر امیر شاہ ابن حضرت پیر شاہ بھیر ہ ضلع سر گدھا میں پیدا ہوئے[1] آپ کا سلسلۂ نسب انیس ۱۹ واسطوں سے حضرت شیخ الا سلام بہاء الحق والدین حضرت زکریا ملتانی قدس سرہ سے ملتا ہے قدر ت نے آپ کو ابتداء ہی سے زوق عرفان سے سر فراز فرمایا تھے سن بلوغ کو پہچنے سے پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کر دیا اور تا عمر یہ سلسلہ جاری رہادس سال کی عمر میں والد ماجد کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا لیکن تائید یزدی نے قدم قدم پر آپ کی راہنامئی اور حفاظت فرمائی ، ابتداء میں حضرت پیر بہادر شاہ گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ (بھیرہ ) سے فیض روحانی حاصل کیا ، پھر حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوء اور حلقۂ ارادات میں داخل ہو گئے اور آفتاب معرفت کے انوار و برکات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔ آپ کے ف۔۔۔
مزید