اتوار , 24 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 12 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدناعقبہ ابن عبدان رضی اللہ عنہ

 کونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹی سی تلوارعنایت کی تھی اورفرمایاتھا کہ اگرتم اس سے لگانے کی قدرت نے پاناتواس سے نیزہ لگانااس کویحییٰ بن صالح حاظی نےمحمد بن قاسم طائی سے انھوں نے عقبہ سے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں۔ان کوطبرانی نے صحابہ میں بیان کیاہے اورانھوں نے (یعنی طبرانی نے) اپنی سندکے ساتھ عبدالرحمن بن عقبہ سے انھوں نے اپنے والدعقبہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں ان کے ایک تیرلگ گیاتھا۔وہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئےسناکہ جس مسلمان نے مجھ کودیکھاہے وہ دوزخ میں نہ ڈالاجائےگا اور نہ وہ مسلمان جس نے میرے دیکھنے والے کودیکھاہے نہ وہ مسلمان جس نے میرے دیکھنے والے کے دیکھنے والے کودیکھاہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابونعیم نے جبربن عتیک کے غلام عقبہ کے سواان کوکہاہے اوردونوں کودوشخص کہا ہے۔لیکن ابن مندہ نے کہاہے کہ عقبہ ابوعبدالرحمن جہنی جبربن عتیک کے غلام ہیں اور یہ متناقض ہے کیوں کہ جبربن عتیک کے غلام فارسی ہیں جہنی نہیں ہیں اورجبربن عتیک انصاری ہیں پس ان کو جہنیہ سے نسبت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔پھرابن م۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ عبداللہ رضی اللہ عنہ

 کے والد تھے شریک نے عبداللہ بن عمرسے انھوں نے عبداللہ بن عقبہ سے انھوں نے اپنے والدسے نقل کرکےمرفوع بیان کیاہے وہ کہتےتھےکہ تم مومن کو اس چیزمیں مجتہد پاؤگے جس میں وہ قدرت رکھتاہے اورجس چیزمیں قدرت نہیں رکھتا اس میں افسوس کرنے والاپاؤگے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابن عامربن نابی رضی اللہ عنہ

   بن زیدبن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری سلمی ہیں یہ عقبہ اولی اور بدراوراحد میں شریک تھے اس کوابوعمرنے بیان کیاہےاورابونعیم نے بھی ان کوذکرکیاہے مگر یہ نہیں کہاہے کہ بدروغیرہ میں شریک تھے اورکہاہے کہ ان کی حدیث زید بن اسلم سے مروی ہے عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اپنے والد سے انھوں نے عقبہ بن عامر سلمی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے لڑکے کولیے ہوئےآیااوروہ بہت کم سن تھامیں نے آپ سے عرض کیاکہ میرے والدین آپ پرفداہوں میرے لڑکے کو کچھ دعائیں تعلیم کردیجیے کہ اس کے وسیلے سے اللہ سے دعاکیاکرےاوراس پرآسانی ہوتوآپ نے فرمایااے لڑکے کہو۱؎ اللہم انی اسئلک صحتہ فی ایمان وایماناً فی حسن خلق وصلاحاً یتبعہ نجاح۔ ان کا تذکرہ ابوعمراورابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے مگرابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کو ابونعیم نے جہنی سے علیحدہ بیان کیاہے۔ابوموسی نے۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابن عامربن عبس رضی اللہ عنہ

   بن عمرو بن عدی بن عمرو بن رفاعہ بن مودوعہ بن عدی بن غنم بن ربعہ بن رشدان بن قیس بن جہنیہ ہیں ان کی کنیت ابوحمادتھی بعض نے کہاہے کہ ابولبیداورابوعمراورابوعبس اور ابواسیداوراسداوراس کے علاوہ اوربھی تھےان سے ابوعشانہ نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائےاورمیں اپنی بکریاں چرارہاتھا کہ ان کو چھوڑکر آپ کی خدمت میں حاضرہوااورمیں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ مجھ کوبیعت کرادیجیےآپ نے فرمایاتم کون ہومیں نے اپنی حالت بیان کی آپ نے فرمایاکون سی بیعت تم پسند کرتے ہوکہ تم کو بیعت کرادوں بیعت اعرابیہ یا بیعت ہجرت میں نے عرض کیا کہ بیعت ہجرت پس آپ نے مجھ کو بیعت کرادی یہ عقبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے ساتھیوں میں سے تھے یہ والی مصرکردیے گئے تھے وہیں انھوں نے سکونت اختیارکرلی تھی اور وہیں ۵۸ھ ہجری میں وفات پائی یہ سیاہ خضاب لگاتے تھےان سے صحابہ میں سےا۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابن طوبع رضی اللہ عنہ

   مازنی ان کوابن شاہین نے صحابہ میں ذکرکیاہے اوراپنی سند کے ساتھ مسلم بن خالد زنجی سے انھوں ابن جریج سے انھوں نے یزیدبن عبداللہ بن سفیان سےانھوں نے عقبہ بن طویع مازنی سے انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا(جب)ایک شخص نے غلاموں میں سے ایک انصاری عورت کے ساتھ نکاح کیاتوجیسا کچھ ابن مندہ نے عتبہ کے نام میں ذکرکیاہےوہی فرمایا۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاوراس میں شک نہیں ہے کہ ان دونوں میں کئی ایک نام کی تصحیف ہوگئی ہےکیوں کہ عتبہ عقبہ کے مشابہ ہے واللہ اعلم۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیدنا حاتم اصم بلخی

سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اسمِ گرامی:آپ کا نام حاتم بن اسمٰعیل تھا۔کنیت:ابو عبد الرحمٰن تھی۔حاتم اصم(بہرہ) کے نام سے مشہور ہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ نے تمام مروجہ علوم شفیق بلخی رحمۃ اللہ علیہ اور اصحابِ امام ابو یوسف سے حاصل کیے۔ بیعت وخلافت: آپ نے بیعت اپنے استاذ شفیق بلخی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر کی اور استاذ نے ہی آپ کو خلافت بھی عطافرمائی۔ سیرت وخصائص:سیدنا حاتم اصم بلخی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مشائخِ بلخ میں سے زاہدِ زمانہ، عابدِ یگانہ، معرض عن الدنیا و مقبل عقبیٰ، ریاضت وورع وصدق واحتیاط میں بے بدل تھے، حتٰی کےآپ کےحق میں شیخ جنید فرماتے تھے: کہ آپ ہمارے زمانہ کے" صدیق"(یہ ایک ولایت کادرجہ ہے) ہیں ۔آپ امام  اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ  کے متبعین  میں سے تھے ۔آپ کا قول ہے:"کہ جو شخص بغیر فقہ  کے عبادت کرے وہ مثل خراس (یہ ایک پتھر ہوتاہے،پہلے وقت۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابوسعید رضی اللہ عنہ

زرقی ہیں ان سے ان کے بیٹے سعد نے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سناکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان پرمیں قسم کھاتاہوں لوگوں نے کہا یارسول اللہ وہ کیاچیزیں ہیں آپ نے فرمایا کہ جو مومن اپنے مال میں سے کچھ کسی کونہ دے گاتواس کا مال ہمیشہ کم ہوتارہےگا۔پھرپوری حدیث بیان کی۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابن ربیع رضی اللہ عنہ

 انصاری ہیں بنی عوف بن خزرج کے حلیف تھے غزوۂ بدر میں شریک تھے یہ موسیٰ بن عقبہ کا قول ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعقبہ ابن رافع رضی اللہ عنہ

   بعض لوگوں نے کہاہے کہ ابن رافع بن عبدالقیس بن لقیط بن عامر بن امیہ بن حارث بن عامربن فہرقریشی فہری ہیں فتح مصرمیں شریک تھے اور(ملک)مغرب پربادشاہ تھےاورافریقہ میں شہیدہوئےاس کو ابونعیم نے کہاہے اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ عقبہ بن رافع ہیں ابونعیم نے ان کو اور عقبہ بن نافع کوایک کردیاہے مگرظاہریہ ہے کہ یہ دونوں دوشخص ہیں ہم کوابوالفضل بن ابی الحسن طبری مخزومی نے اپنی سند کوابویعلی احمد بن علی بن مثنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے کامل بن طلح جحدری نے ابن لہیعہ سے انھوں نے عمارۃ بن غزیہ سے انھوں نے عاصم بن عمرابن قتادہ سے انھوں نےمحمودبن لبیدسےانھوں نے عقبہ بن رافع سے نقل کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب اللہ بندےکواپنامحبوب زیادہ سمجھتاہےتواس کو دنیاسے متنفرکردیتاہے جیسا کہ تم اپنے مریض سے پرہیزکراتے ہو کہ اچھاہوجائے اس حدیث کو ابوالفضل کے علاوہ لوگوں نے۔۔۔

مزید