سلمی ہیں ان کی کنیت ابونجیح تھی۔ان سے عبدالرحمن بن عمرواورجبیربن نفیراور خالد بن معدان وغیرہم نے روایت کی ہے یہ شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوبکریعنی محمد بن عبدالوہاب بن عبداللہ معروف بابن شیرجی دمشقی وغیرہ نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں حافظ ابوالقاسم یعنی علی بن ہبتہ اللہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالعلاء یعنی احمد بن مکی بن حسنویہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابومنصور یعنی محمدبن احمد بن علی شکرویہ نے خبردی وہ کہتےتھےابوعبداللہ یعنی محمدبن ابراہیم بن جعفرنبردی نےبیان کیاوہ کہتےتھےہم سے اصم نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمد بن فرج حمصی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بقیہ بن ولیدنے بجیربن سعدسے انھوں نے خالد بن معدان سے انھوں نےعبدالرحمن بن عمروسے انھوں نےعرباض بن ساریہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نہایت بلیغ نصیحت فرمائی(کہ جس کی وجہ سے) آن۔۔۔
مزید
سلمی ہیں ان کی کنیت ابونجیح تھی۔ان سے عبدالرحمن بن عمرواورجبیربن نفیراور خالد بن معدان وغیرہم نے روایت کی ہے یہ شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوبکریعنی محمد بن عبدالوہاب بن عبداللہ معروف بابن شیرجی دمشقی وغیرہ نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں حافظ ابوالقاسم یعنی علی بن ہبتہ اللہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالعلاء یعنی احمد بن مکی بن حسنویہ نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابومنصور یعنی محمدبن احمد بن علی شکرویہ نے خبردی وہ کہتےتھےابوعبداللہ یعنی محمدبن ابراہیم بن جعفرنبردی نےبیان کیاوہ کہتےتھےہم سے اصم نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے احمد بن فرج حمصی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بقیہ بن ولیدنے بجیربن سعدسے انھوں نے خالد بن معدان سے انھوں نےعبدالرحمن بن عمروسے انھوں نےعرباض بن ساریہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نہایت بلیغ نصیحت فرمائی(کہ جس کی وجہ سے) آن۔۔۔
مزید
کے والدتھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے ان کی سندوں میں ان کا ذکر ہے اوراس سے زیادہ ان کی نسبت اورکچھ نہیں بیان ہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
جہنی ہیں ۔یہ اس تحریرمیں گواہ تھے جس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء بن حضرمی کے لیے بحرین بھیجنے کے وقت لکھدی تھی۔اس کودباغ نےاس میں ذکرکیاہے کہ جس میں ابوعمر پر استدراک کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
بن قنیطی بن عمروبن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری اوسی پھرحارثی ہیں ان کے والداوس بن قنیطی ان منافقوں کے سرداروں میں سے تھے جو کہتےتھے کہ ان بیوتناعورۃ۱؎اور ابن اسحاق نےذکرکیاہےکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کواحد میں بوجہ کم سنی کے چنداورلوگوں کے ہمراہ جن میں ابن عمراوربراء بن عازب بھی تھے واپس کردیاتھایہ عرابہ اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھےبڑے سخی تھے سخاوت میں عبداللہ بن جعفر اورقیس بن سعد بن عبادہ کے مقابل سمجھے جاتے تھے۔ابن قتیبہ اورمبردنےذکرکیاہے کہ (ایک مرتبہ)عرابہ نے شماخ شاعرکودیکھاوہ مدینہ جارہاتھااس سےپوچھاکہ مدینہ کیوں جاتے ہو اس نے کہااپنے گھروالوں کے واسطے غلّہ لینے جاتاہوں اس کے ساتھ دواونٹ تھے پس انھوں نے چھوہارےاورگیہوں سے ان کوبھردیااوراس کوکپڑے پہنادیےاوراس کی بڑی عزت کی پس وہ مدینہ سے (اپنے مکان)چلاگیااوران کی اپنےاس ق۔۔۔
مزید
بن مرہ بن حجر بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ بن حارث اصغربن معاویہ کندی ہیں ابوعائذ ان کی کنیت تھی یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوکرآئےتھے اس کوابن دباغ نے ابن کلبی سے نقل کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید
ن عبدالعزی بن قصی اسدی قریشی ہیں یہ نوفل کے دونوں بیٹوں ورقہ اورصفوان کے بھائی تھے ان کی والدہ آمنہ بنت جابربن سفیان تابط شرافہمی کی بہن تھیں اس زبیر نے بیان کیاہے عدی فتح مکہ میں اسلام لائےتھےپھرحضرت عمروعثمان رضی اللہ عنہما کی طرف سے حضرموت کے عامل رہےام عبداللہ بنت ابی بختری بن ہشام ان کی زوجہ تھیں عدی ان کوبرابر لکھ لکھ بھیجتے تھےکہ تم میرے پاس چلی آؤمگروہ نہ آتی تھیں بلآخرعدی نےان کویہ شعرلکھ بھیجا ؎ ۱؎ اذاماام عبداللہ لم تحمل بوادیہ ولم تمس قریباً ہیج الشوق وداعیہ توام عبداللہ سے ان کے بھائی اسودبن ابی بختری نے کہاکہ تمھارے چچازادبھائی کااب یہ حال ہورہاہے تم اس کے پاس چلی آؤ چنانچہ یہ (ان کے پاس)چلی گئیں۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھا ہے۔ ۱؎ترجمہ جب ام عبداللہ نے اس کے۔۔۔
مزید
اسی طرح ابن اسحاق اورواقدی نے کہاہےاورابن کلبی نے کہاہے کہ ابن نضیلہ اور یہ نضیلہ بن عبدالعزی بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن کعب قریشی عدوی ہیں اورعدی کی والدہ مسعود بن حذافہ بن سعد بن سہم کی بیٹی تھیں انھوں نےاورانکےبیٹے نعمان نے حبش کی طرف ہجرت کی تھی اوروہیں یہ عدی ابن نضلہ نے وفات پائی یہ اسلام میں اول مورث ہیں کہ ان کے بیٹے نعمان نے ان کی میراث پائی۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔
مزید