ابن منیب۔ازدی۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عاصم تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابراہیم بن محمد بن یوسف قربانی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن بکیر نےبیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے حارث بن عبیدہ بن رباح غسانی نے اپنے والد عبیدہ سے انھوں نے منیب بن عبداللہ ازدی سےانھوں نے عبداللہ بن منیب سےروایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کل یومہ ھوفی شانپس ہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ یہ شان کیاہے توآپ نےجواب دیا (وہ یہ ہے کہ) گناہوں کو معاف کرتاہے اور سختی تکلیف کودورکرتاہے اور کسی قوم کوعزت دیتاہے اور کسی قوم کو پستی میں ڈالتا ہے ۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ابن مقرن۔مزنی۔ان سے ابن سیرین اورعبدالملک بن عمیر نے حدیث روایت کی ہے انشاء اللہ تعالیٰ ان کا پورانسب ان کے بھائی نعمان وغیرہ کے تذکرہ میں لکھاجائےگا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔اورابونعیم نے یہ بھی کہا ہےکہ ان کا ذکربعد میں متاخرین یعنی ابن مندہ نے کیا ہے۔مگر ان سے کوئی حدیث روایت نہیں کی۔۔۔۔
مزید
ملیکہ دختر عویمر ہذلیہ ،ان دوعورتوں میں سے ایک ہیں،جنہوں نے دوسری کے پیٹ پر ضرب لگائی تھی اور اس کا حمل ساقط ہوگیاتھا،لڑنے والی دونوں عورتیں بنو ہذیل سے تھیں،ابن عباس کے مطابق ایک کانام ملیکہ اور دوسری کا نام امِ غطیف تھا،اسے سماک نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابنِ عباس سے روایت کیا،ابو عمر اور ابو موسیٰ دونوں نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابوموسیٰ نے ان کے والد کا نام عویم(بغیر راء) لِکھاہے،بقول ابوموسیٰ ایک روایت میں ان کے والد کا نام ساعدہ ہےاور دوسری عورت کا نام عفیف لکھا ہے،نیز ام موسیٰ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ملیکہ عویم بن ساعدہ کی بیٹی تھیں یا بہن اور سقوطِ حمل کا قِصہ جو ابوموسیٰ نےبیان کیا ہے،اس میں ایک غلام یا کنیز آزاد کرنے کا حکم بھی مذکورہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملیکہ کا تعلق بنو ہذیل سے تھا۔ ۔۔۔
مزید
ملیکہ جواسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کی دادی تھیں،ایک روایت میں ہے ، کہ انس بن مالک کی دادی تھیں،انہیں صحبت ملی،اور انس بن مالک نے ان سے روایت کی،ابوالحرم مکی بن ریان نحوی نے باسنادہ یحییٰ بن یحییٰ سے،انہوں نے مالک سے،انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے،انہوں نے انس بن مالک سےروایت کی ،کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی، آپ نے کھانے کے بعد فرمایااٹھو میں تمہیں نماز پڑھاؤں،انس چٹائی لانے کواُٹھے،وہ کثرت استعمال سے سیاہ ہوچکی تھی،پانی سے دھوکر صاف کی،حضور آگے کھڑے ہوئے اور جناب انس اور ایک یتیم بچہ پیچھے کھڑے ہوئے،اور ہمارے پیچھے بڑھیا کھڑی ہوئی،آپ نے دورکعت نماز ادا کی اور پھر تشریف لے گئے،ترمذی نے اسحاق انصاری سے انہوں نے معن سے،انہوں نے مالک سے روایت کی۔ ایک روایت کے مطابق یہ خاتون ام سلیم اور ایک کے مطابق ام حرام ہیں،لیکن ی۔۔۔
مزید
ملیکہ جو سائب بن اقرع ثقفی کی والدہ تھیں،اور عطر بیچاکرتی تھیں،عطاء بن سائب نے بعض دوستوں سے،انہوں نے سائب بن اقرع سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی،کہ وہ حضور نبیِ کریم کی خدمت میں عطر بیچنے کو حاضر ہوئیں،آپ نے پوچھا،ملیکہ ،تجھے مجھ سے کوئی کام ہے،اس نے کہا،ہاں یارسول اللہ!فرمایا کہو،تاکہ میں اسے پورا کروں،عرض کیا،یارسول اللہ !پہلے میرے بیٹے کے لئے دعا فرمائیے،حضورِ اکرم نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا،اور دعا فرمائی،اِبنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
شرفتہ الدار دختر حارث بن قیس بن ہبشہ انصاریہ از بنو معاویہ ،بقولِ ابنِ حبیب حضور اکر م سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ملیکہ زوجۂ خباب بن ارت،حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زیارت کی،اور ان کی حدیث کو ابو خالد دالائی نے منہال بن عمرو سے موقوفاً روایت کیا،ابن مندہ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
شُریرہ دخترحارث بن عوف بن فتیرہ ام الحکم بن حارثہ بن سلامہ زحارثہ تجیبی،بقولِ ابنِ عقبہ، انہوں نے حضور ِاکرم سے بیعت کی،اس بات کو ان کے بیٹے حکم بن حارثہ نے ان سے روایت کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
مندوس دخترِ عبادہ بن دلیم بن حارثہ بن ابوخزیمہ انصاریہ ساعدیہ،سعد بن عبادہ کی بہن تھیں، بقولِ ابن حبیب حضورِاکرم سےبیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
شیماءدختر حارث سعدیہ ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضاعی بہن تھیں،ابوجعفر نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی ،کہ حضورِاکرم کی رضاعی والدہ کا نام حارث بن عبدالعزی بن رفاعہ بن ملان بن ناضرہ بن بکر بن ہوازن تھا،اور رضاعی بھائی کا نام عبداللہ بن حارث اور رضاعی بہنوں کے نام انیسہ اور حذیفہ تھے،اور اسی خاتون کا عرف شیماء تھا،اور شیماء ہی حضورِ اکرم کی دیکھ بھال میں ماں (حلیمہ سعدیہ)کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔ ابنِ اسحاق نے ابووجزہ سے روایت کی،کہ جب شیماء کو جنگ ہوازن میں حضور نبی کریم کے سامنے لایاگیا،تو انہوں نے کہا،کہ میں آپ کی رضاعی بہن ہوں،دریافت فرمایا،تیرے پاس اس کا کیا ثبوت ہے،انہوں نے جواب دیا،ایک بار آپ نے اپنے دانت میری پیٹھ میں چبھوئے تھے،جب میں نے آپ کو پیٹھ پر اُٹھایاہواتھا،آپ نے اس علامت کو پہچان لیا،اور بہن کو چادر پر بٹھایا،ہم ان کا ذکر پہلے حذافہ ک۔۔۔
مزید