پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت مولانا سید مظفر حسین کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ

شیخ المشائخ حضرت شاہ اشرف حسین برادر اکبر حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی کے فرزند ارجمند، اساتذۂ دار العلوم اشرفیہ کچھوچھہ شریف سے درسیات پڑھی۔ اور حدیث کا دور جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین قدس سرہٗ سے کیا، بیعت وخلافت والد ماجد سے ہے، بکثرت افراد آپ سے بیعت ہیں۔ آپ جادوبیان اور شعلہ نوا مقرر ہیں، اہل سنت کے اسٹیج کو آپ سے رونق ہے، مراد آباد سے ہند پارلی منٹ کےممبر رہے، کل ہند جماعت رضائے مصطفیٰ اور آل انڈیا تبلیغ سیرت کے ناظم ہیں، اہل سنت کے بہت سے مسائل آپ کے تدبر سے حل ہوئے، شعر گوئی کا بھی ذوق ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا نذیر احمد خاں رام پوری قدس سرہٗ

عثمان زئی پٹھان گھیر شرف الدین خاں رام پور میں پیدا ہوئے، والد کا نام مولوی محمد خاں، علمائے رام پورو دھلی سے درسیات پڑھی، اطباء دھلی سے طب بھی حاصل کیا، عربی کے زبردست ادیب تھے، ندوۃ العلماء کی ضلالت ومگراہی کے دور کرنے والوں میں ممتاز تھے، پیشوائے دیوبندیت مولانا رشید احمد گنگنوہی کی کفری عبارت پر سب سے پہلے ۱۳۰۹؁ھ میں فتویٰ تکفیر صادر فرمایا، یہ فتویٰ خیر المطابع میرٹھ میں طبع ہوا تھا،۔۔۔۔ آپ نہایت متقی، متورع، صاحب عرفان تھے، مدرسہ طیبہ احمد آباد گجرات میں مدس تھے، آپ کو تمام علوم و فنون پردستگاہ کامل حاصل تھی تصانیف میں السیف المسلول علیٰ منکر علم غیب الرسول استدلال اور زور بیان کے اعتبار سے عمدہ اور اچھی کتاب ہے، خاکسار راقم کی نظر سے گذر چکی ہے، ۱۳۲۳؁ھ میں وصال ہوا (تذکرہ کاملان رامپور) ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد نظام الدین بلیاوی رحمۃ اللہ علیہ

محمد نظام الدین نام، ضلع بلیا وطن، مدرسہ حمیدیہ دربھنگہ میں مولانا مقبول احمد خاں اور مولانا مقبول احمد صدیق ودیگر اساتذہ سے پڑھنے کے بعد مدرسہ فیض الغرباء آرہ میں حضرت مولانا محمد ابراہیم قادری آروی سے پڑھا، اجمیر شریف دارالعلوم معینیہ عثمانیہ میں حضرت مولانا غلام جیلانی میرٹھی مدظلہٗ سے ملا حسن پڑھا، حضرت مولانا حبیب الرحمٰن مدظلہ سے خصوصی درس لیا، مؤخر الذکر بزرگ سے مدرسہ سبحانیہ الہ آباد میں تکمیل علوم کی، حضرت ملک العلماء مولانا ظفر الدین نے ہئیت وتقویت وریاضی کا درس لیا، ۱۹۵۳؁ء تک مدرسہ سبحانیہ کے ناظم تعلیمات اور صدر مدرس رہے، پھر اُستاذ کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ حبیبیہ میں اسی عہدہ پر درس دیا، ۱۹۵۸؁ء میں رام پور کی شہرۂ آفاق عربی درسگاہ مدرسہ عالیہ میں صدر مدرس ہوئے، اب گورنمنٹ کالج الہ آبادی میں اُردو فارسی کے لیکچر رہیں۔۔۔۔۔ نہایت ذہین، وقیقہ رس، دور اندیش، اور معاملہ فہم ہیں، درس۔۔۔

مزید

حضرت مولانا وصی احمد سہسرامی رحمۃ اللہ علیہ

سہسرام ضلع آرہ، صوبہ بہار وطن، اور مولد ومنشاء مختلف اساتذہ سے پڑھنے کےبعد دار العلوم کانپور میں حضرت مولانا مشتاق احمد کانپوری سے تکمیل کی۔۔۔۔ نامور صاحب کمال علماء میں آپ کا شمار تھا، درس نظامی کے تمام فنون میں مہارت تامہ تھی، تدریس کی ابتداء جامعہ نعیمیہ مراد آباد سےہوئی، برسہا برس صدر مدرس رہنے کے بعد دار العلوم نعمانیہ دہلی میں صدر مدرس ہوئے، اس کے بعد دوبارہ جامعہ نعیمیہ کے اراکین کے اصرار پر تشریف لےگئے، بوڑھاپے میں بھی حاضر العلم تھے، آخر میں باطنی اشغال میں انہماک اور تصوف کی کتابوں کی خواندگی دو مشغلۂ حیات تھے۔ وطن میں انتقال ہوا،۔۔۔ حضرت مولانا حبیب اللہ شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ، حضرت مولانا محمد یونس سبنھلی مہتمم جامعہ، مولانا محمد عمر نعیمی وغیرہ مشہور اور متبحر عالم تلامذہ م یں ہیں۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبد العزیزی خاں فتح پوری رحمۃ اللہ علیہ

محلہ زبدون شہر فتح پور، ہسوہ میں آپ کی ولادت ہوئی، سنکرت اور حساب کی اعلیٰ تعلیم پاکر مراد آباد حضرت صدر الافاضل مولاناسید نعیم الدین فاضۂ مراد آبادی کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کامل شغف وانہماک سے درس نظامی کی تحصیل و تکمیل کی، مولانا اجمل شاہ سنبھلی قدس سرہٗ آپ کے ہم درس تھے، تدریس کی ابتداء اُستاذ نامور کی نگرانی میںد ور طالب علمی سے ہی ہوچکی تھی، استاذ زادوں کی تعلیم بھی آپ کے سپر دہوئی، آپ نے راقم سے فرمایا، حضرت پہلےپڑھانےو الا سبق پڑھادیتے میں اُسی کو حضرات صاحبزادگان کو پڑھا دیتا، اطراف آگرہ کے مشہور فتنہ ارتداد کے انسداد کے لیے آپ نے حضرت صدر الافاضل کی معیت میں ملکانوں میں تبلیغ اسلام کا پیز بہا فریضہ انجام دیا، اور پنڈت شردھائد کی ارتداد کی مہم کو رد کار، بابا خلیل داس چر دیدی بنارسی جن دنوں مراد آباد میں حضرت صدر الافاضل کے زیر تربیت تھے حضرت کے ایماء سے چاروں دیدوں کا آپ کی نگر۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ عبد الرشید خاں فتح پوری مدظلہٗ العالی

حضرت مولانا محمد عبد العزیزی خاں مدظلہٗ العالی کےچھوٹے بھائی، حضرت صدر الافاضل مولانا نعیم الدین فاضل مراد آبدی اور اساتذۂ جامعہ نعیمیہ سے علوم و فنون کی تکمیل کی اور قطب المشائخ حضرت شاہ علی حسین اشرفی میاں سرکار کچھوچھہ سےمرید ہوکر تکمیل سلوک کیا، اور اجازت وخلافتپائی، مرتاض متقی، اور صاحب مقامات ہیں، چھبیس ۲۶برس قبل سی۔ پی ناگ پور میں نشر علوم دین کے لیے جامعہ عربیہ قائم کیا، اور انتہائی جاں نشانی سے مدرسہ کو ترقی کے اعلیٰ منازل تک پہونچایا، ابتداء میں درس بھی دیا، آپ حضرت صدر الافاضل کے ارشد تلامذہ میں ہیں، آپ کا شمار ہندوستان کے جید علما میں ہے آپ نے جامعہ اشرفیہ کچھوچھا شریف واقع آستانہ سرکار کلاں میں بھی ایک عرصہ تک تدریسی فرائض انجام دیئے حضرت شمس المشائخ، قطب عالم مولانا شاہ سید محمد مختار اشرف سجادہن شین نے یہاں آپ سے خصوسی درس لیا۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدنا)عبداللہ(رضی اللہ عنہ)

  ابن معبرہ۔مغیرہ کی کنیت ابوسفیان ہے وہ بیٹے ہیں حارث بن عبدالمطلب کے قریشی ہیں ہاشمی ہیں۔ ان سے سماک بن حرب نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ کوئی ایسی امت نہیں گذری کہ جس میں ضعیف کا حق قوی سے بدون کسی طرح کی اذیت پہنچنے کے نہ لیاہوگا یہ حدیث عبداللہ کے واسطے کے ساتھ ان کے والد سے بھی مروی ہے۔الغرض کوئی راوی ہواتناضروری ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسہم کو دیکھا ہے اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوکر آپ کے ساتھ رہے؟ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔پھران کا تذکرہ عبداللہ بن ابی سفیان کے ذکرمیں کیاجائے گا۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سید ابو الحسنات قدس سرہٗ

مشہور صوفی عالم،محدث،حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ الوری کے فرزند ارجمند۔ولادت الور میں ہوئی،تعلیم کا آغاز والد ماجد سے کیا مجدد عصر حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی،صدر الافاضل مولانا حکیم نعیم الدین فاضل مراد آبادی قدس اسرارہم سے اکتساب علم کیا، برسوں جامع مسجد آگرہ،الوری بمبئی میں امام وخطیب اور مقبول خاص وعام رہے، اطراف ہند میں بے شمار محافل و مجالس میلاد،اور کانفرنس میں اہل نظر سے داد خطابت حاصل کی،۱۹۳۶؁ھ میں تبلیغی کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور گئے شہرت عام کی وجہ سے زندہ دلانِ لاہور کا جم غفیر خطاب سننے کے لیے جمع ہوگیا، تقریر کا اعلان ہوا تو پُر جوش لغروں سے استقبال کیا گیا،علم واستدلال سے بسریزہ تقریری کی،کہ لاہور والوں کے دلوں پر چھاگئے، ختم تقریر آپ سے لاہور میں قیام کرنے کی درخواست کی گئی،جس میں ارکین مسجد وزیر خاں پیش پیش تھے، آپ نے درخواست کو قب۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن ضمرہ بن فیض بن منقذ بن وہب بن بداء بن غاضرہ حبشہ بن کعب بن عمر: بروایت ہشام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھے۔ اشتری نے ان کا ذکر، الاستیعاب کے حاشیے پر ابو عمر کے ترجمے میں کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

عالمِ باعمل مولانا محمد انور علی رضوی بہرائچی ایم اے

شیخ الادب دار العلوم منظر اسلام بریلی شریف ولادت ماہر علم ادب، ملک التدریس حضرت مولانا محمد انور علی رضوی بن محمد وارث علی بن محمد اسلم ۲۲؍ ستمبر ۱۹۵۶ھ بروز دو شنبہ مبارکہ کو موضع درگا پور واپوسٹ میٹر اسٹیشن ضلع بہرائچ شریف میں پیدا ہوئے۔ مولانا محمد انور علی کے جد امجد بہت نیک اور سچے آدمی تھے۔ نماز پنجگانہ کے اس قدر پابند تھے کہ مہ وقت نماز کی فکر رہتی تھی۔ مسجد میں برابر جاکر اذان بڑے اہتمام سے کہا کرتے تھے انہیں کی صحبتِ کیمیا اثر نے مولانا محمد انور علی کو دس گیارہ سال کی عمر میں نمازی بنادیا، اور والد ماجد بھی دینی تعلیم سے خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں، تاریخ اور مسائل دینیہ پر اچھا عبور حاصل ہے۔ تسمیہ خوانی جناب وارث علی کے خاندان میں یہ پہلی خوشی تھی کہ بڑی دھوم دھام سے مولانا محمد انور علی کی رسم بسم اللہ خوانی ہوئی، اس تقریب مین احب۔۔۔

مزید