بن زید بن اکال ہم ان کا نسب ان کے بھائی سعد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ہشام بن کلبی سے مروی ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد جناب نعمان بہ غرضِ حج نکلے اس دوران میں ابو سفیان نے انہیں روک لیا اسے کہا گیا کہ فدیہ لے کر انہیں رہا کردو اس نے کہا میں انہیں اس وقت تک رہا کروں گا جب تک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) میرے بیٹے عمرو کع، جسے غزوۂ بدر میں جنگی قیدی بنالیا تھا رہا نہیں کرتے۔ اس موقعہ پر ابو سفیان نے کہا۔ ارہط ابن اکال اجیبوا دعائہ تعاقد تم لا تسلموا السیّد الکہلا ۔۔۔
مزید
سبائی یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جب واپس گئے تو اسود عنسی نے انہیں قتل کردیا۔ واقدی نے کتاب الردہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن سنان جو پہلے بنو سلمہ کے مولی تھے۔ بعد میں بنو عبیلہ بن عدی غنم کعب بن سلمہ کے مولی بن گئے وہ انصاری خزرحی سلمی تھے اور بدر اور احد کے غزوات میں شریک تھے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن شریک الشیبائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہ مقام منی اپنے دو دوستوں مفروق بن عمرو اور ہانی بن قبیصہ کے ساتھ حاضر ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دی اب مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عجلان بن نعمان بن عامر بن زریق انصاری زرقی یہ صاحب فصیح البیان شاعر تھے اور اپنی قوم کے سردار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ان کی عیادت کو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کی ’’نعمان کہو تمہارا کیا حال ہے‘‘ انہوں نے عرض کیا، ’’یا رسول اللہ! سخت تکلیف میں ہوں‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کے لیے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے اللہ اگر یہ مرض عارضی ہے تو مریض کو شفائے حاجل عطا فرما اور اگر اسے لمبا کرنا ہے تو نعمان کو صبر کی توفیق دے اور اگر اس کی زندگی ختم ہورہی تو اسے دنیا سے نکال کر اپنی رحمت میں جگہ دے۔‘‘ اور جناب نعمان نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیوہ خولہ دختر قیس سے شادی کرلی تھی مندرجہ ذیل اشعار میں انہوں نے انصار کی ان خدمات کا ذکر کیا ہے جن سے اسلام کی پیش رفت میں مدد ملی اور نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کے واقعات قل۔۔۔
مزید
بن عدی بن نضلہ ایک روایت کے مطابق نضلہ بن عبد العزی بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب القرشی العدوی ہے باپ بیٹا دونوں ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تھے جہاں جناب عدی فوت ہوگئے اور نعمان کو ان کی وراثت منتقل ہوئی اسلام میں جناب نعمان پہلے وارث تھے۔ حضرت عمر نے اپنے دورِ خلافت میں انہیں میسان کا عامل مقرر کیا ان کی بیوی نے خاوند کا ساتھ دینا چاہا لیکن اجازت نہ مل سکی چنانچہ وہاں سے انہوں نے ذیل کے اشعار لکھ کر اپنی بیوی کو بھیجے۔ فمن مبلغ الحسناء ان حلیلہا بمیسان یسقی فی زجاج و حنتم ۔۔۔
مزید
بن عصر بن ربیع بن حارث بن اویم بن امیہ بن خدرہ بن کاہل بن رشد(مرادا فرک بن ہرم بن ہرم بن ہنی بن بلی ہے) ایک روایت میں ان کا نسب یوں مذکور ہے نعمان بن عصر بن عبید بن وائلہ بن حارثہ بن ضبیعہ بن حزام بن جعل بن عمرو بن جشم بن دوم ہن ذبیان بن ہمیم بن ذہل بن ہنی بن بلی بن عمرو بن حاف بن قضاعہ بلوی جو انصار کے حلیف تھے بعد میں بنو معاویہ بن مالک بن عوف کے حلیف ہوگئے) جناب نعمان بدر کے علاوہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے انہوں نے جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ عبد اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر از بنو معاویہ بن مالک بن عوف النعمان البلوی کا جوان کا حلیف تھا ذکر کیا ہے۔ ابن اسحاق، موسیٰ بن عقبہ، ابو معشر اور واقدی نے ان کے والد کا نام عَصَر بہ کَسرۂَ اول و سکون ثانی بیان کیا ہے ہشام بن کلبی۔۔۔
مزید
بن عمر و دبن رفاعہ بن سواد اور بردایتے رفاعہ بن حارث بن سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار انہیں نعیمان بھی کہتے تھے آخری بیعت عقبہ میں ستر افصام میں یہ بھی موجود تھے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شامل رہے بقول داقدی انہوں نے امیر معاویہ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو بن خلدہ بن امیہ بن عامر بن بیافت الانصاری البیاضی یہ صاحب جنگ احد میں مسلمانوں میں شامل تھے۔ ابن الکلبی نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن غصن بن حارث البلوی انصار کے حلیف تھے ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے با سنادہ ابو نعیم سے انہوں نے اب شہاب سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر جن کا تعلق انصار کے ادس قبیلے سے تھا اور جونبو معاویہ بن مالک النعمان بن غصن سے تھا اور جونبوبلی سے ان کے حلیف تھے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ ان بیانات کا تعلق ابو نعیم اور ابو موسیٰ سے ہے لیکن جناب عصر کو جن کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں انہوں نے تصحیف کرکے غصن بنادیا ہے اور ہم اپنی رائے نعمان بن عصر کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں اور اسی طرح ابن مندہ پر اعتراض بھی مبنی بروہم ہے کیونکہ ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ ان کا نسب نہیں بیانس کیا ہاں ابن مندہ نے انہیں بلوی لکھا ہے اور چونکہ ابن مندہ نے ان کا نسب نہیں بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انہیں علیٰحدہ آدمی تصوّر کرتے ہیں اور اگرچہ ہم نے ۔۔۔
مزید