پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

پسنديدہ شخصيات

خواجہ یعقوب رحمتہ اللہ علیہ

سیرتِ خوب، اہل دلوں کے نزدیک محبوب، خواجہ یعقوب ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے سب فرزندوں میں چھوٹے اور فیاضی و سخاوت میں مشہور تھے آپ کی کرامتیں آشکار تھیں اور  دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ آپ اہل ملامت کی راہ چلتے اور اس  کے مخالف خلق پر ظاہر کرتے مشغول بحق رہتے۔ طبع فیاض اور لطافت تام رکھتے تھے۔ کاتبِ حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد کرمانی سے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں اکثر اوقات سفر و حضر میں شیخ زادہ عالم صاحبزادہ داریں خواجہ یعقوب کا مصاحب رہتا تھا بہت کم ایسے موقع پیش آئے ہوں گے جن میں کسی ضرورت خاص کی وجہ سے آپ کے ہمراہ نہ رہا ہوں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر  ہے کہ خطہ  اودھ میں آپ کے ساتھ گیا۔ جب اودھ میں پہنچے تو ایک سرا میں اترے۔ شیخ زادے مجھے سرا میں چھوڑ کر شہر کی سیر و  تماشے کے لیے باہر تشریف لے گئے ایک پہر رات گزر چکی تھی لیکن آپ سرا میں تشریف نہیں لائے اور کسی جگہ ۔۔۔

مزید

شیخ علاؤ الدین رحمتہ اللہ علیہ

مشائخ طریقت کے افضل اولیائے حقیقت میں اکرم شیخ علاؤ الملۃ والدین ابن شیخ بدر الدین سلیمان ہیں جو علو درجات اور رفعت مقامات اور شدت مجاہدات اور ذوق مشاہدات میں اپنے زمانہ میں نظیر نہیں رکھتے تھے اور بذل و ایثار میں بے مثل تھے۔ ظاہر و باطن کی طہارت کے مبالغہ میں مشائخ وقت میں کوئی آپ کا دعویدار نہیں تھا۔ یہ بزرگوار سولہ سال کے تھے کہ شیخ شیوخ العالم کے سجادے پر اپنے والد بزرگوار شیخ بدر الدین سلیمان کی جگہ بیٹھے اور کامل چون سال تک اس سجادہ کا حق کماینبغی ادا کیا یہاں تک کہ آپ کی عظمت و کرامت کا شہرہ آپ کی عزیز و قیمتی زندگی ہی میں تمام عالم میں مشہور ہوگیا تھا اور آپ کا اسم مبارک اولیاء اللہ کے ناموں کی فہرست میں مذکور و معروف ہوگیا تھا چنانچہ آپ کے انتقال کے بعد دیار اجودھن اور دیپالپور اور جھالی میں جو کشمیری کی سمت میں واقع ہیں ان شہروں کے باشندوں نے غایت محبت اور اعتقاد کی وجہ سے بہت سے۔۔۔

مزید

شیخ عزیز الدین رحمتہ اللہ علیہ

شیخ زادہ عالم خواجہ عزیز الملۃ والدین  ابن خواجہ یعقوب رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو فیاضی و سخاوت و مروت و مردمی میں بے مثل تھے آپ مستجاب الدعوات اور صاحب فتوح تھے۔ دیوگیر اور تلنگ کے اطراف کے تمام باشندے آپ کے معتقد اور غلام تھے۔ کاتب حروف نے ان بزرگ زادہ سے دیوگیر میں ملاقات کی ہے۔ حقیقت میں آپ زیباہئیت اور شوکت و دبدبہ بہت کچھ رکھتے تھے۔ آپ کے برادر حقیقی خواجہ قاضی سادہ باطن تھے اور عام اخلاق رکھتے تھے۔ یہ دونوں بھائی جو عالم کے شیخ زادے تھے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں بہت مدت تک رہے ہیں۔ اور آپ سے ایک زمانہ دراز تک پرورش پائی۔ شیخ عزیز الدین  نے دیوگیر ہی میں شہادت پائی اور وہیں دفن ہوئے اور خواجہ قاضی سلطان المشائخ کے خطیرہ میں یاروں کے چوترے کے سرے پر مدفون ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہما۔۔۔۔

مزید

شیخ کمال الدین رحمتہ اللہ علیہ

کمال طریقت جمال حقیقت شیخ زادہ کمال الحق والدین ابن شیخ زادہ بایزید ابن شیخ زادہ نصر اللہ ہیں جن کا لباس تکلف و بناوٹ سے ہمیشہ خالی ہوتا تھا اور جو فیاضی  سخاوت میں عدیم المثال اور بے نظیر تھے۔ آپ بہت سی روٹیاں پکواتے اور محتاج و مساکین کو تقسیم کرتے اور لذیذ و مزیدار کھانوں سے ہمیشہ احتراز کرتے اگر آپ سفر کا قصد کرتے تو رویٹوں کے بہت سے بھرے ہوئے تھیلے آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے جس زمانہ میں یہ بزرگوار سلطان محمد تغلق کے عہد حکومت میں دہارے جو آپ کی سکونت کا مقام تھا دہلی میں تشریف لائے تو کاتب حروف اس خاندان معظم کے ان حقوق کی رعایت کی وجہ سے جو اس کے آباؤ اجداد رکھتے تھے ان بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت شیخ حجرہ کے اندر چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی کاتب حروف کو دیکھا حجرہ کے اندر سے ایک دیگچی ہاتھ مبارک میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور ایک مٹی کا بڑا  ساطباق خدام نے ل۔۔۔

مزید

خواجہ محمد رحمتہ اللہ علیہ

شیخ شیوخ العالم کے عام نواسوں کے سر دفتر شیخ زادہ معظم و مکرم خواجہ محمد ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جن کی والدۂ محترمہ شیخ شیوخ العالم کی صاحبزادی تھیں۔ یہ شیخ زادے تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف اور علوم دینی اور تقویٰ و طہارت موزونی طبع ذوق سماع  جگر سوز گریہ اور فیاضی طبع سخاوت  شجاعت  میں مشہور  و مذکور تھے۔ بچپنے کے زمانے سےلے کر بڑھاپے تک حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی۔ کلام ربانی کے حافظ ہوئے اور علوم و افر عشق کامل حاصل کیا حتی کہ سلطان المشائخ کی حالت زندگی ہی میں آپ کی خلافت  کے معزز و ممتاز  مرتبے کو پہنچ گئے۔ اور سلطان المشائخ کی حیات  میں خلق خدا سے بیعت لینے لگے۔ خواجہ محمد سلطان المشائخ کی امامت کے ساتھ مخصوص تھے۔ چنانچہ آج کے دن تک لوگ آپ کو خواجہ محمد امام کہہ کر پکارتے ہیں۔ سلطان المشائخ کو آپ کی امامت میں رقت و ذوق ح۔۔۔

مزید

خواجہ موسیٰ رحمتہ اللہ علیہ

علم میں مشہور حلم میں مذکور زہد و تقوی کے ساتھ موصوف خواجہ موسیٰ ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جو خواجہ محمد امام کے برادر حقیقی تھے۔ ان بزرگوار نے بھی جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور تمام علوم میں کمال حاصل کیا تھا اپنے زمانہ کے ذو فنون اور فرزانہ عصر تھے آپ نے اصول فقہ میں بزودی مولانا وجیہہ الدین پائلی سے پڑھی تھی اور کلام ربانی کے حافظ تھے تحقیق سخن میں کوشش کرتے اور طبع فیاض اور  لطافت بہت کچھ رکھتے تھے عربی و فارسی اشعار  و نظم میں پورا حصہ حاصل تھا اور اکثر اوقات پر سوز غزل کہتے تھے جو لوگ علم موسیقی میں مہارت نامہ اور ورک کامل رکھتے تھے خاص کر علم حکمت میں وہ کمال پایا تھا جس کی نظیر اس زمانہ میں باوجود تلاش کے بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی او رساتھ ہی تجربات حکمت میں بھی پرلے درجہ کا کمال حاصل تھا اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد  امام کی غیبت میں خود سل۔۔۔

مزید

میر سید محمد کالپی قدس سرہ

ابتدائے کار میں حضرت ابو الاعلیٰ نقشبندی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوکر مرید ہوئے اور سلسلہ نقشبندیہ کی تربیت حاصل کرتے رہے ایک بار حضرت خواجہ اجمیری کے دربار میں حاضر ہوئے روضہ کی زیارت کی حضرت خواجہ خواب میں ملے اور ارشاد فرمایا کہ ہمارے ملک میں آکر ہمارے طریقہ چشتیہ پر ہی چلنا چاہیے سماع کی مجالس میں حاضر دینی چاہیے چنانچہ آپ روحانی طور پر حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کے مرید ہوگئے اور باطنی طور پر اس چشمہ فیض سے سیراب ہونے لگے فیضاں چشتیہ کے علاوہ آپ کو دوسرے سلاسل تصوف سے بھی فیض ملا تھا آپ سماع میں بڑا غلو فرماتے اور ہر سال حضرت خواجہ اجمیری کے مزار پر انوار کی زیارت کو جاتے ایک دن آپ کے روضہ انور کے سامنے بیٹھے تھے کہ آپ پر بے ہوشی اور بے خودی طاری ہونے لگی کہ حضرت خواجہ روضے سے باہر تشریف لائے اور آپ کے منہ میں پان رکھا تو آپ ہوش میں آگئے اگرچہ یہ ملاقات روحانی اور باطنی تھی مگر جب ۔۔۔

مزید

حضرت بایزید تبک زئی قدس سرہ

  اپنے وقت کے کاملین میں سے تھے حضرت شیخ تبک سے تربیت روحانی ملی تھی معارج الولایت کے مولّف لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت بایزید مجلس سماع میں موجود تھے طبیعت پر سخاوت کا غلبہ آیا فرمانے لگے ہے کوئی ہے جسے میں خدا رسیدہ بنادوں مجلس میں شورہ قبیلے کے تین پٹھان بیٹھے تھے ایک شیر خان امجوزی دوسرا پایندہ امجودی تیسرا شیخ صدر الدین و توزی تھا تینوں اٹھے حضرت شیخ سے معانقہ کیا اُسی وقت تینوں خدا رسیدہ بن گئے اس کے بعد حضرت شیخ جب بھی مجلس سماع میں بیٹھتے تو وجد کی حالت میں یہی کلمہ زبان پر لاتے اور اس طرح سینکڑوں لوگ خدا رسیدہ ہوگئے ایک دن مجلس میں ایسا بیگانہ آدمی موجود تھا جو ان مقامات کو نہ جانتا تھا اُٹھا اور شیخ سے معانقہ کرنا چاہا تو دیکھا اُس کے اور شیخ کے درمیان ایک بڑی صندوق ہے جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں تو فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ حضرتِ شاہ بایزید کی اہلیہ فرماتی ہیں کہ میں صبح کی نماز ۔۔۔

مزید

حضرت بایزید تبک زئی قدس سرہ

  اپنے وقت کے کاملین میں سے تھے حضرت شیخ تبک سے تربیت روحانی ملی تھی معارج الولایت کے مولّف لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت بایزید مجلس سماع میں موجود تھے طبیعت پر سخاوت کا غلبہ آیا فرمانے لگے ہے کوئی ہے جسے میں خدا رسیدہ بنادوں مجلس میں شورہ قبیلے کے تین پٹھان بیٹھے تھے ایک شیر خان امجوزی دوسرا پایندہ امجودی تیسرا شیخ صدر الدین و توزی تھا تینوں اٹھے حضرت شیخ سے معانقہ کیا اُسی وقت تینوں خدا رسیدہ بن گئے اس کے بعد حضرت شیخ جب بھی مجلس سماع میں بیٹھتے تو وجد کی حالت میں یہی کلمہ زبان پر لاتے اور اس طرح سینکڑوں لوگ خدا رسیدہ ہوگئے ایک دن مجلس میں ایسا بیگانہ آدمی موجود تھا جو ان مقامات کو نہ جانتا تھا اُٹھا اور شیخ سے معانقہ کرنا چاہا تو دیکھا اُس کے اور شیخ کے درمیان ایک بڑی صندوق ہے جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں تو فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ حضرتِ شاہ بایزید کی اہلیہ فرماتی ہیں کہ میں صبح کی نماز ۔۔۔

مزید

شیخ علی غواص ترمذی قدس سرہ

  آپ حضرت شیخ نظام الدین تھانیسری کے مرید اور خلیفہ تھے اپنے دَور کے بڑے باکمال ولی اللہ تھے۔ جب حضرت شیخ نظام الدین بلخ تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت سے بیعت کی اور ایک عرصہ تک آپ کے زیر تربیت رہے تکمیل کے بعد یوسف زئی قبیلہ کی طرف چلے گئے یوسف زئی قبیلہ کے بے شمار افغان آپ کے حلقۂ ارادت میں آئے حضرت مولانا دہرویزہ اور ان کے لڑکے عبد الکریم آپ کے مرید ہوئے اور صاحبِ کمال ہوئے مخزن اسلام میں آپ کے احوال و مقامات ملتے ہیں اس کتاب میں لکھا ہے کہ آپ اپنے زمانہ کے غوث اعظم ثانی تھے آپ کو قطبیت اور غوثیت کا درجہ ملا تھا چونکہ آپ اسرار تصوّف و عرفان کے موتی چننے میں غواصی کرتے تھے اس لیے حضرت مرشد نے آپ کو غواص کا خطاب دیا تھا آپ ۱۰۴۰ء میں فوت ہوئے آپ کا مزار پر انوار یوسف زئیوں کے علاقہ میں مرجع خلائق ہے۔ چو زود غوطہ در بحرِ وصل خدا علی شاہ نحواص والی ولی سخی پیرا محمد علی سال اوست ۱۰۴۰ھ بفر ۔۔۔

مزید