آپ سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ خاص تھے علوم ظاہری اور باطنی میں معروف زمانہ ہوئے طریقت و شریعت کے امام مانے گئے تھے حرمین الشریفین کی زیارت کو گئے کتاب عوارف العارف آپ کی گران مایہ تصنیف ہے تصوّف میں ایک اور کتاب تکملہ بھی آپ نےلکھی اسی طرح تصوّف میں مشاہدہ کتاب بھی لکھی آپ کی وفات ۸۶۲ھ کو ہوئی مزار پُر انوار کالپی میں ہے۔ چو رفت از عالم فانی بجنت شہ اہل یقین ہادی ابوالفتح چو سال انتقالش جستم ازدل بگفتا میر دیں ہادی ابوالفتح ۔۔۔
مزید
آپ حضرت شیخ ید اللہ چشتی قدس سرہ کے مرید تھے اور پھر سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر روحانی فیض پایا کہتے ہیں جس دن حضرت گیسو دراز کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا۔ اے نوجوان۔ تم کبھی زندگی میں عشق و محبت میں بھی گرفتار ہوئے ہو۔ آپ نے ازرۂ ادب عرض کیا۔ حضور! میں عشق و محبت کو کیا جانوں میں تو آپ سے یہ چیزیں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں آپ نے فرمایا میرے اس سوال کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہارے دل کی کیفیت معلوم کر سکوں اور تمہارے نظریات کا اندازہ کر سکوں تم پردہ نہ ڈالو بلا کم و کاست میرے سوال کا جواب دو۔ آپ نے فرمایا۔ حضور جوانی کے جوش میں مجھے ایک خوبصورت ہندو عورت سے محبت ہوگئی تھی میں اس کو ترستا تھا مسلمان ہونے کے با وجود میں نے زنار پہننا شروع کردیا اور اپنی محبوبہ کے اشارے پر وہاں رہنا شروع کردیا جہاں ہندو عورتیں بلا جھجک جاسکتی تھیں اتنی بات سُنی تو حضرت خو۔۔۔
مزید
آپ قطب العالم شیخ نور الدین قدس سرہ کے خلیفہ اعظم تھے صاحب اخبار الاخیار نے آپ کو سید کبیر اور بزرگ بلند مرتبت لکھا ہے آپ ایک سو پچاس سال جیے۔ اپنے مرشد کے علاوہ آپ کو خواجہ معین الدین حسن سنجری سے بھی فیض ملا تھا۔ آپ نہایت محبت اور عقیدت سے اجمیر شریف میں رہے اس عرصہ میں ادبا اجمیر کے شہر میں نہ آپ نے تھوکا اور نہ ہی ناک صاف کیا پیشاب کے لیے شہر اجمیر سے دُور باہر چلے جاتے تھے۔ شہر میں داخل ہوتے یا رہتے تو با وضو رہتے تھے یہ احترام تھا اس شہر پر نور کا جس میں حضرت خواجہ اجمیری آسودۂ خاک ہیں۔ آپ کی وفات ۸۸۱ھ میں ہوئی تھی۔ چو شمس الدین بفردوس بریں رفت وصال پاک آن خورشید آفاق با ولی جلوہ گر شد تاج عزت دوبارہ گشت روشن شمع عشاق ۸۸۱ھ۔۔۔
مزید
آپ حضرت شیخ پیارا کے خلیفہ اعظم ہیں بڑے صاحب تصرف اور کامل شیخ طریقت تھے آپ کا وطن گجرات تھا۔ مگر بنگال میں زندگی بسر کی۔ اخبار الاخیار اور معارج الولایت میں لکھا ہے کہ آپ اپنی خانقاہ میں ایک شاہانہ تخت پر بادشاہوں کی طرح بیٹھتے تھے اور اپنے مریدوں اور خادموں کے نام بادشاہوں کی طرح فرمان جاری کیا کرتے تھے آخر ایک بد باطن شخص نے بادشاۂ وقت کے کان بھرے کہ شاہ جلال الدین آپ کی سلطنت کے اندر ایک متبادل سلطنت چلا رہا ہے یہ سلسلہ قائم رہا تو ایک دن آپ کو اپنی سلطنت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے بادشاہ اس کی باتوں میں آگیا اور فوج کو حکم دیا کہ شاہ جلال الدین اور ان کے مریدوں کو قتل کردیا جائے۔ چنانچہ فوج نے بڑھ کر خانقاہ پر حملہ کر کے آپ کے مریدوں سمیت قتل کردیا۔ فوج خانقاہ میں آپ کے مریدوں کو تہہ تیغ کر رہی تھی تو شاہ جلال الدین یا قہار یا قہار کا نعرہ لگا رہے تھے۔ مگر جب آپ پر تلوار چلائی گئی تو آپ نے۔۔۔
مزید
آپ حضرت نور الدین قطب عالم کے خلیفہ تھے اور اپنے وقت کے عظیم مشائخ میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے ملفوظات رفیق العارفین میں آپ کے مقامات اور کرامات کو بیان کیا گیا ہے۔ آپ خود لکھتے ہیں کہ خلافت حاصل کرنے کے بعد میں نے سات سال تک فاقہ کشی کی۔ اور فقیری میں بسر کی۔ پیاس لگتی تو پانی لیتا اور یاد خداوندی میں مشغول ہوجایا کرتا تھا۔ ایک روز میرے ایک بیٹے نے بھوک اور پیاس سے تنگ آکر روتے روتے میرے گلے میں باہیں ڈال دیں۔ میں نے بیٹے کی تکلیف اور رونے سے متاثر ہوکر صرف اتنا کہا۔ اے عجبا ۔ چوں توئی ۔ ہمچومنی ۔ دانہ بس۔ (ترجمہ: تعجب ہے۔ جب تو میرا مالک ہے۔ اور میں تیرہ بندہ ہوں۔ تو ایک ایک دانے کو ترس جاؤں۔ اسی وقت ایک شخص کھانے کا ایک طباق اٹھائے آیا حالانکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ ایک اور شخص ایک من دال لے کر آگیا مجھے بڑی ندامت ہوئی۔ کہ میں نے کیا کردیا کہ لوگ کھانا اور دال لیے آرہے ہیں۔ می۔۔۔
مزید
آپ ایک واسطہ سے حضرت سید محمد گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ کامل درویش اور اکمل عالم دین تھے آپ کے زمانہ میں مندو کے علاقہ میں آپ کےمرتبہ کا کوئی بزرگ نہیں ہوا تھا۔ آپ اس ولائیت کے شیخ طریقت تھے۔ ایک سو بیس سال زندگی پائی تھی۔ جبکہ آپ کے پیر ایک سو پچاس سال جئے تھے۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں کہ آپ رجب کی پہلی تاریخ سے اعتکاف والے حجرے کو پتھروں کی چٹائی کرکے بند کردیا کرتے تھے اس طرح آپ چھ ماہ تک کھائے پیے بغیر ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے جس دن حجرے سے باہر آنے کا ارادہ کرتے تو اندر سے زور زور سے آوازیں دیتے اور لوگوں کو ہدایت کرتے کہ حجرے کے دروازے سے دُور دُور چلے جاؤ۔ جب مرید چلے جاتے تو آپ دروازے کے پتھر ہٹا کر باہر تشریف لاتے۔ اگر کوئی اتفاقاً سامنے آجاتا شیخ کی جلالی نظر اس پر پڑجاتی تو وہ دو دن تک بے ہوش پڑا رہتا تھا۔ اس شہر کا قاضی آپ کے کمالات کا منکر تھا۔ اس نے کئی با۔۔۔
مزید
آپ ابتدائے کار میں حضرت شیخ احمد بدایونی کے مرید تھے ریاضت و مجاہدہ میں ایک خاصا وقت دیا۔ پھر حضرت جلال گجراتی کی صحبت میں آئے اور عشق کے معاملات کو درست کرکے اعلیٰ مقامات پر پہنچے۔ کہتے ہیں ایک دن حضرت شیخ محمد مجلس سماع میں تشریف فرما تھے۔ قوالوں نے ایک ایسی غزل چھیڑی جس میں بعد و فراق کے احوال و کیفیت کی ترجمانی تھی۔ شیخ کو اس قدر رقت اور وجد طاری ہوا کہ روح جلنے لگی ایک واقف حال نے قوالوں کو کہا کہ اب ایسی غزل چھیڑو جس میں قرب وصال کی کیفیت بیان کی گئی ہو قوالوں اشعار وصل شروع کیے تو شیخ کے دل کی کیفیت خوشگوار ہوگئی اور چہرے پر رونق آگئی یوں محسوس ہوتا تھا کہ از سرِ نو زندگی آگئی ہے اور شیخ میں تازہ روح کام کرنے لگی ہے۔ ایک بار آپ کے گھر آگ لگ گئی غلہ دان میں جس قدر آئندہ فصل کے لیے بیج رکھا تھا تمام کا تمام جل گیا۔ فصل کا موسم آیا تو آپ کو بتایا گیا کہ سارا بیج تو عرصہ ہوا جل گیا تھا ۔۔۔
مزید
آپ حضرت فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے۔ بڑے صاحب کرامت اور کمالات تھے۔ وہ تحریر میں اس قدر تیز قلم تھے کہ محسوس ہوتا تھا کہ قلم نہیں کرامت ہے تین دن میں مکمل قرآن پاک اعراب کے ساتھ صحیح صحیح لکھ لیا کرتے تھے ان کے بے شمار کرامات مشہور ہیں وہ اپنے ایک رسالے میں اس دنیا اور اس دنیا سے مادرای کئی جہانوں کے واقعات قلمبند کرچکے ہیں جو عقل و فکر سے بھی ماورای ہیں۔ ان کی اولاد نے ان واقعات کو رسالے سے اس لیے مٹادیا تھا کہ لوگوں کو دھوکا نہ ہو۔ حضرت شیخ جنید ۹۰۰ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار حصار میں واقع ہے شیخ عالم عالم و عاقل جنید سال ترحیلش جو چشم از خرد گفت کامل خواجہ د اصل جنید ۹۰۰ھ شیخ عالم و عاقل جنید شد چو از دنیا بفردوس بریں سال ترحیلش جو چشم از خرد گفت کامل خواجہ واصل جنید ۹۰۰ھ ۔۔۔
مزید
آپ جونپوری کے اہم علماء کرام میں سے تھے۔ آپ نے درسی اور فنی کتابیں لکھ کر بڑا نام پایا تھا کافیہ کی شرح ہدایہ یزدی ار تفسیر مدارک کی شرحیں لکھی تھیں دینی علوم میں حضرت قاضی شہاب الدین کے شاگرد تھے اور روحانی طور پر حضرت راجی حامد شاہ کے مرید تھے۔ جن دنوں حضرت طاہر حسن قدس سرہ حضرت راجی حامد شاہ قدس سرہ کے مرید ہوئے تو مولانا اللہ داد نے انہیں ایک مخلص دوست کی حیثیت سے کہا یار تم نے طالب علموں کی عزت کو پامال کردیا ہے اور اپنے علم و فضل کو ایک درویش راجی حامد شاہ کی مریدی میں ڈال دیا ہے حضرت طاہر حسن نے کہا حضرت آؤ کسی دن راجی حامد شاہ سے مل لیں پھر جو رائے ہوگی اس پر عمل کریں گے حضرت حسن طاہر مولانا اللہ داد کو لے کر حضرت راجی کی خدمت میں پہنچے راستہ میں مولانا اللہ داد نے چند ایسے مشکل اور دقیق مسائل ذہن میں رکھ لیے کہ حامد شاہ راجی سے پوچھوں گا تاکہ وہ عملی طور پر زیر ہوجائیں حضرت راجی ح۔۔۔
مزید
شاہ سید و بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے حضرت شیخ حسان الدین نانک پوری کے خلیفہ خاص تھے ابتدائی عمر میں بڑے صاحب ثروت اور دولت مند تھے۔ شاہی دربار میں ایک اہم عہدے پر مقرر تھے بڑی ٹھاٹھ سے رہا کرتے تھے آپ ایک خوبصورت عورت کے گرویدہ ہوگئے مگر اسی اثنا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذوق و طلب سے نوازا حضرت نانک پوری کی خدمت میں رہنے لگے اعلیٰ لباس ترک کرکے فقیرانہ لباس پہن لیا پھر اسی فقیرانہ لباس میں اپنی محبوبہ کے پاس جاپہنچے اس نے دیکھتے ہی کہا سیدو! سنا ہے تم الٰہیہ دولی اللہ ہوگئے ہو اس دن سے لوگ اسے سیّدو الیہٰ کہنے لگے کچھ دن گزرے تو اس عورت نے بھی توبہ کرلی اور حضرت حسام الدین نانک پوری کی مرید ہوگئی دونوں نے ساری زندگی یاد خداوندی میں بسر کردی سیدو اچھے سخنور اور شاعر بھی تھے ان کا یہ شعر بڑا مقبول ہوا۔ دل گو یدم سید و بگو احوال خودیک یک باد آندم کہ خودمی آید او سید و کجا گفتار گو آپ ۹۔۔۔
مزید