بن جابر بن مالک بن عدی بن زید مناہ بن عدی بن عمر و بن مالک بن بخارم الانصاری خزر جی غزوۂ احد میں موجود تھے ان کی اولاد تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی فریعہ نبت ابی امامہ اسعد بن زرارہ سے کی تھی اور فریعہ ان عورتوں سے تھیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ان کے بطن سے جو بیٹا پیدا ہوا ان کا نام عبد الملک تھا جناب اسعد بن زرارہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ جناب فریعہ اور ان کی ہمشیرگان کی خانہ آبادی کا انتظام فرمایا جائے جناب نبیط حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرصے تک زندہ رہے۔ ابو عمر کا قول ہے کہ جناب نبیط کا ایک اور بیٹا بھی تھا جن کا نام سلمہ تھا جن سے بعض احادیث مروی ہیں ابو نعیم ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ علامہ ابن اثیر، ابو عمر کے اس خیال کو اہم قرار دیتے ہیں ان کے خیال میں سلمہ بن نبیط سے مراد ابن نبیط بن۔۔۔
مزید
الجہنی ایک روایت میں نبہ الجہنی آیا ہے ابن معین کے مطابق ان کا نام ینہ الجہنی ہے ابن السکن نے بھی ان کا نام ینہ کہا ہے۔ ابو زبیر نے جابر سے انہوں نے نبیہ الجہنی سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ایک دوسرے کو تلوار دو تو اسے پہلے نیام میں ڈال لو ابو عمر نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حزیفہ بن غانم بن عامر بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب بن لوئی قرشی عددی یہ ابو جہم بن حزیفہ کے بھائی تھے لیکن ابن اثیر نہ انہیں جانتے ہیں اور نہ ان کے بھائیوں میں سے کسی کو جن سے ابو عمر نے ایک مختصر سی روایت بیان کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن صواب الجہنی دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور فتحِ مصر میں شریک رہے تھے اور ان چار آدمیوں میں شامل تھے جنہوں نے قبلۂ مصر کی سمت درست کی تھی ان سے یزید بن حبیب عبد المالک بن رائطہ اور عبد العزیز بن ملیل نے روایت کی تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عثمان بن ربیعہ بن وہب بن خدافہ بن حمج القرشی حمجی۔ قدیم الاسلام ہیں اور حبشہ کی ہجرۂ ثانیہ میں شریک تھے یہ روایت واقدی کی ہے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حبشہ کو ہجرت کرنے والے ان کے والد تھے موسی بن عقبہ اور ابو معشر نے دونوں باپ بیٹے کا نام مہاجرین حبشہ میں شامل نہیں کیا ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابو مریم الفسانی ابو بکر بن عبد اللہ بن ابو مریم کے دادا تھے ابو حاتم رازی کہتے ہیں، کہ انہوں نے بعض شامیوں سے ابو مریم کا نام دریافت کیا نہوں نے بتایا نذیر بقیر بن دلید نے ابو بکر بن ابو مریم سے انہوں نے اپنے دادا ابو مریم سے روایت کی کہ انہوں ے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شرکت کی چنانچہ آپ نے ان کی تیر اندازی کی تعریف فرمائی ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن غیس بن زید بن عامر بن سواد بن کعب(اور کعب سے مراد ظفر الانصاری الظفری ہیں) انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور روایت کا موقعہ ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کافی غزوات میں شریک رہے عبد اللہ بن محمد بن قداح نے ان کا ذکر انصار میں کیا ہے اور ان کا نام نسیر لکھا ہے دار قطنی نے بشیر تحریر کیا ہے مگر اوّل الذکر ثابت ہے یہی رائے ابن ماکو لاکی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارث بن عبید بن رزاح بن کعب(اور کعب سے ظفر الانصاری اوسی ظفری مراد ہیں) ایک روایت میں ان کا نام ابن عبد رزاح اور بروایت ابو موسیٰ ابن عبد اللہ تھا پہلی دونوں روأیتیں درست تر ہیں اکثر ان کی کنیت ابو الحارث مذکور ہے غزوۂ بدر میں موجود تھے اور ان کے والد ابو الحارث کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسر آئی اور اکثر اہل السیر والا نساب نے ان کا نام نصر بن حارث لکھا ہے ابن سعد نے ابن اسحاق سے ان کا نام نمیر بن حارث نقل کیا ہے اب سعد کے خیال ہیں یہ ان صاحب کی غلطی ہے جنہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے وہ ابراہیم بن سعد الزہری تھے ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر کہتے ہیں کہ ابن سعد نے غلطی کا انتساب ابراہیم بن سعد سے کیا ہے حالانکہ یونس بن بکیر اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے نمیر ہی نقل کیا ہے اور ہشام نے بکائی سے انہوں نے ابن اسحاق سے نضر(ضاد سے) روایت کیا ہے یہ۔۔۔
مزید
بن حزن النصری ایک روایت میں عبدہ بن نصر آیا ہے انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی ابن ابی عدی نے شعبہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے انہوں نے نصر بن حزن سے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انبیا کے بکریاں چرانے کے بارے میں روایت بیان کی ابو داؤد نے شعبہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے روایت کی اور نام بشر بن حزن لکھا ہے اور ایک روایت میں ابو داؤد نے شعبہ سے انہوں نے ابو اسحاق سے عبدہ بن حزن لکھا ہے بقول ابو عمر یہی درست ہے واللہ اعلم تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن دہر بن اخرم بن مالک الاسلمی ان کے والد کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور وہ مدنی تھے۔ یحیٰ بن محمود بن سعد نے باسنادہ ابن ابی عاصم سے انہوں نے محمد بن خالد بن عبد اللہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے محمد بن اسحاق سے انہوں نے محمد بن ابراہیم سے انہوں نے ابو الہیشم بن نصر بن دہر اسلمی سے انہوں نے اپنے والد نصر سے سنا کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر خیبر کے دوران میں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن اکوع سے جو سلمہ بن عمر و بن اکوع کے چچا تھے فرمایا اے ابن اکوع سواری سے نیچے اترو اور اپنے اشعار میں سے کچھ سناؤ تعمیلِ ارشاد میں انہوں نے مندرجہ ذیل رجزیہ اشعار پڑھے۔ واللہ لولا اللہ مااھتد نیا ولا تصد قنا ولا صلینا ترجمہ: بخدا اگر ذات باری نہ چاہتی تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے اور نہ نماز پڑ۔۔۔
مزید