جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت مولانا سلام اللہ رامپوری قدس سرہٗ

زبدۃ المحدثین حضرت شاہ نور الحق[1] ابن امام عبد الحق محدث کے سو پوتے حضرت مولانا شاہ محمد فخر الدین محدث قدس سرہم کے پوتے اور اپنے زمانے کے مشہور محدث تھے،دہلی سے ترک وطن کر کےر ام پور جابسے تھے، محدث رامپوری کے نام سے مشہور تھے۔حدائق الحنفیہ میں مرقوم ہے کہ آپ فقیہہ فاضل،محدث کامل،مفسر متجر علامۂ عصر،محقق اور مدقق تھے،عربی زبان میں مطالب علمیہ کی تحریر پر کامل دستگاہ تھی،درس و تدریس،رشدو ہدایت دو مشغلۂ حیات تھے،۔۔۔تصانیف میں مؤطا کی شرح ‘‘محلی’’ آپ کے دفور علم پر شاہد عدل ہے،جلالین کا حاشیہ کمالین ۱۲۲۹؁ھ میں نجتبائی پریس سے چھپ چھپ کر شائع ہوا،فارسی زبان میں بخاری کی شرح بھی آپ نے لکھی، ماہ جمادہ الاخریٰ بوقت شام ۱۲۲۹؁ھ میں عمر طبع پاکر فوت ہوئے،زبدۃ الاولیاء شاہ عبداللہ بغدادی قدس سرہٗ کی درگاہ کے احاطہ میں مسجد کے قریب جانب جنوب دفن ہوئے۔ (تذکرہ علمائے ہند۔۔۔

مزید

سیّدنا یعلی رضی اللہ عنہ

عامری: ابو موسیٰ لکھتے ہیں۔ کہ ابن ماجہ نے سنن میں ان کا ذکر کیا ہے۔ اور انہوں نے عفان سے، انہوں نے وہیب سے، انہوں نے ابن خیثم سے، انہوں نے سعید بن ابو راشد سے انہوں نے یعلی العامری سے روایت کی، کہ امام حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ آئے۔ اور ایک حدیث پر غور کر رہے تھے لیکن راوی نے اس حدیث کا ذکر نہیں کیا، جو اس ترجمے میں بیان کی ہے۔ ابو عمر نے انہیں یعلی عامری اور بعض اور نے انہیں یعلی بن مرہ لکھا ہے۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کی فضیلت میں روایت کی ہے۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یعمر رضی اللہ عنہ

السعدی سعد ہذیم: پھر بنو حارث بن سعد سے اور حارث عذرہ بن سعد کے بھائی سے ان کی کنیت ابو خزامہ تھی۔ یہ ابو نعیم کا قول ہے۔ ایک روایت کے مطابق وہ ابو خزامہ کے والد ہیں اور یہی درست ہے۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کی روایت ہے۔ نیز ابو نعیم نے باسنادہ ابن وہب سے، انہوں نے یونس اور عمرو بن حارث سے اور انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابو خزامہ سے جو بنو حارث بن سعد کے فرد ہیں، روایت کی، کہ ان کے والد نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ ہم بیماریوں سے بچاؤ کے لیے دواؤں جنتر منتر اور اسی طرح کی کئی حفاظتی تدبیروں کا استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ اللہ کی تقدیر کو بدل سکتی ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ بھی اللہ کی تقدیر ہی ہے۔ اسی طرح ترمذی نے سعید بن عبد الرحمٰن مخزومی سے، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے ابو خزامہ سے، انہوں ن۔۔۔

مزید

سیّدنا یفوذان رضی اللہ عنہ

بن یفرید ویہ، ان سے مروی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! علم مومن کا دوست، عقل رہ نما، عمل قیم، صبر اور حلم اس کے لشکر کے امیر ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا الیمان رضی اللہ عنہ

بن جابر ابو حذیفہ: ایک روایت میں ان کا نام حسیل ہے۔ ہم ان کا نسب ان کے بیٹے حذیفہ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ ابو الطفیل نے حذیفہ سے روایت کی کہ وہ اور ان کے والد غزوۂ بدر میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے، مگر راستے میں انہیں کفارِ قریش نے پکڑ لیا۔ کیونکہ انہیں خدشہ تھا، کہ دونون باپ بیٹا اسلامی لشکر میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ جب انہوں نے کفار سے عہد کہا، کہ وہ مدینے جا رہے ہیں، اور ان کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوں گے، تو کفار نے رہا کردیا۔ انہوں نے دربارِ رسالت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایفائے عہد کی اجازت دے دی۔ اور فرمایا، اللہ ہمارا حامی و مدد گار ہو۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے، لیکن ابو عمر نے اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا کہ یمان کے بارے میں محدثین میں اختلاف ہے کہ یہ کس شخص کا لقب ہے۔ ابن کلبی اور ابن حبیب کے مطابق۔۔۔

مزید

سیّدنا یناق رضی اللہ عنہ

جدِ حسن بن مسلم بن یناق: ان کی حدیث کو علی بن حجر وغیرہ نے عمر بن ہارون سے، انہوں نے عبد العزیز بن عمر سے، انہوں نے حسن بن مسلم بن یناق سے روایت کی ہے، کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حجۃ الوداع کے موقعہ پر حاضری دی۔ جب زوال ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وعظ فرمانا شروع کیا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ سید محمد مختار اشرف رحمۃ اللہ علیہ

محمد مختار تاریخی نام، ۱۳۲۳؁ھ سال ولادت، عالم ربانی حضرت مولانا سید شاہ احمد اشرف ابن حضرت قطب المشائخ بحر الاسرار مخدوم شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہما کے فرزند ارجمند، گھر پر حضرت مولانا عماد الدین سنبھلی سے میزان سے شرح وقایہ تک پڑھا، اور حضرت مولانا مفتی عبد الرشید فتح پوری سے فنون کا درس لیا، بعدہٗ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین سے دورۂ حدیث کیا، اور جد امجد سے مرید ہوکر سلوک کے مراحل طے کیے انہوں نے ۲۵؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۷؁ھ میں آپ کو اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر کیا، آپ اس دورِ الحاد دبے بے دینی میں طریقت و شریعت کے پشت پناہ ہیں، اکابر ومشائخ اشرفیہ کی یادگار، اور صاحب کشف و کرامات و مقامات بزرگ ہیں، بلا وعرب و عجم میں بکثرت افراد آپ کے سلسلۂ فیض سے وابستہ ہیں، حضرت کے صاحبزادے حضرت مولانا شاہ سید اظہار اشرف مدظلہٗ علوم اسلامیہ کے فاضل اور آبائی خوبی۔۔۔

مزید

مولانا سید عبد الحمید دربھنگوی رحمۃ اللہ علیہ

صوبہ بہار ضلع دربھنگہ کے موضع ‘‘راجو’’ کے ساکن، محمد عبد الحمید نام، ابو سعید کنیت، ۱۳۰۰؁ھ پیدائش قرآن مجید کے حافظ، درس نظامی کی کتابیں چند مدرسین سے پڑھیں، خیر آباد کے مدرسہ نیاز یہ میں تعلیم پائی، ٹونک میں کئی سال امام المعقولات مولانا حکیم سید برکات احمد کے درس میں بیٹھے اور تکمیل کی، تدریس کا آغاز مدرسہ سُبحانیہ الہ آباد سے ہوا، تقریباً ۱۲؍برس مدرسہ سُبحانیہ میں مدرس اول رہے، پھر شہر دربھنگہ کے مدرسہ حمدیہ کا ۱۳۳۵؁ھ میں احیاء کیا اور ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے، تاحین حیات مدرسہ حمیدیہ کے ناظم رہے اور درس دیتے رہے، صوبہ بہار کے قابل فخر صاحب تدریس عالم تھے، ۱۳۴۹؁ھ میں فوت ہوئے، شاہی جامع مسجد قلعہ گھاٹ کے پہلے دروازہ کے جانب جنوب دفن کیے گئے، مدرسہ حمیدیہ کا قیام ۱۳۰۱؁ھ میں مولوی حسن علی مرحوم کی کوشش سے ہوا۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد مہر الدین رحمہ اللہ علیہ

۱۹۰۰؁ء میں اپنے نانی ہاں خاصہ ضلع امرت سر میں پیدا ہوئے، جامعہ نعمانیہ لاہور، جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور، مدرسہ کریمیہ جالندھر کے علماء مولانا مہر محمد وغیرہ سے فنون پڑھا دارالعلوم حزب الاحناف میں شیخ المحدثین حضرت مولانا سید دیدار علی شاہ الوری اور اُن کے صاحبزادے علامہ ابو البرکات سے دورۂ حدیث کر کے ۱۳۴۶؁ھ میں سند فراغت حاصل کی، ۱۹۵۴؁ء میں دار العلوم طب جدیدمشرقی شاہد رہ لاہور سے ‘‘افتخار الاطباء’’ کی سند حاصل کی، ۱۹۳۸؁ء میں ہرسہ کوٹ لائل پور میں حضرت پیر جماعت علی شاہ محدث علی پوری سے مرید ہوئے، آپ نے گیارہ برس دار العلوم حزب الاحناف، تین برس جامعہ نعمانیہ میں درس دیا آپ کے تلامذہ میں سلطان الواعظین علامہ محمد بشیر ایڈیٹر ماہ طیبہ کوٹلی لوھاران، ولانا سید محمود احمد رضوی شارح بخاری ایڈیٹر رضوان لاہور، پیر زادہ علامہ اقبال احمد فاروقی ناظم مکتبہ نبویہ لاہور وغیرہ مشہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبد الباری نعمانی حاجی پوری علیہ الرحمۃ

جڑدھا حاجی پور وطن، مدرسہ حنفیہ جڑوھا حاجی پور ضلع مظفر پور میں مدرس تھے، مجلس علمائے اہلسنت کے رکن خاص اور مفاسد جلس ندوہ کے دور کرنے والوں میں تھے، حضرت مولانا قاضی عبد الوحید فردوسی سے خصوصی تعلقات تھے، شاید کچھ قرابت بھی تھی۔ ۔۔۔

مزید