اتوار , 16 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 03 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا نعم رضی اللہ عنہ

ابو اسحاق نے البراء سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے اس کا نام دریافت کیا اس نے نعم بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر عبد اللہ کردیا۔ ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعامہ رضی اللہ عنہ

الضبی یزید کے والد تھے حبان عبدی نے یزید بن نعامۃ الضبی سے روایت کی کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دعا پڑھتے۔ ’’سبحانک ما اکثر مااعطیّنا سبحانک مااعظم ما عافیتنا، اللہم اوسع علینا وعلی فقراء المسلمین‘‘۔ ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو زہرہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تو فرماتے ’’اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ‘‘: یحییٰ بن یونس نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمان نے ان سے روایت کی جعفر کا قول ہے کہ وہ تابعی تھے۔ جس شخص نے ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ثابت کی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن صمہ بن عمرو بن جموح: احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے اور حرہ کے موقع پر مارے گئے۔ یہ معاذ بن عمرو بن جموح کے بھتیجے تھے۔ ہم ان کا ذکر بھی کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن عثمان بن معاذ قرشی تیمی: محمد بن ابراہیم تیمی نے اپنی قوم کے ایک فرد سے جن کا نام معاذ بن عثمان تھا۔ سُنا ان کا بیان ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دے رہے تھے۔ اور فرما رہے تھے کہ رمی جمرات میں چھوٹے چھوٹے پتھر پھینکو۔ یہ ابن عینیہ کی روایت ہے اور انہوں نے ان کا نام معاذ بن عثمان یا عثمان بن معاذ لکھا ہے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

سیّدنا معاذ بن عمرو بن جموح بن زید بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمۃ الانصاری خزرجی سلمی: یہ صاحب عقبہ اور بدر میں اپنے والد عمرو بن جموح (ان کے والد کے نام کے بارے میں اختلاف ہے) کے ساتھ موجود تھے۔ عمرو بن جموح احد میں شہید ہوگئے تھے، بہر حال معاذ بن عمرو کے بارے میں، عبد الملک بن ہشام نے زکریا البکائی سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے روایت کی کہ یہ معاذ وہی آدمی ہیں، جنہوں نے ابو جہل کی ٹانگ کاٹ ڈالی تھی اور عکرمہ نے ان کا ایک بازو کاٹ دیا تھا۔ اس کے بعد معوذ بن عفراء پر دوسرا وار کر کے انہیں بالکل بے بس کردیا تھا۔ ابھی ابو جہل میں زندگی کی رمق باقی تھی کہ عبد اللہ بن مسعود نے اس کا کام تمام کردیا۔ بکائی نے ابن اسحاق سے، انہوں نے ثور بن یزید سے اُنہوں نے عکرمہ سے اُنہوں نے ابن عباس اور عبد اللہ بن ابوبکر سے بیان کیا۔ معاذ بن عمرو بن جموح کہتے ہیں کہ مَیں نے ایک جم۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن قیس بن عبد العزی بن غزیہ بن عمرو بن عدی بن عوف بن مالک بن نجار انصاری خزرجی: احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ یہ غسانی کی روایت ہے ابن القداح سے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن ماعض (ایک روایت میں ناعص ہے) ایک دوسری روایت کے رو سے معاض بن قیس بن خلدہ بن عامر بن زریق الانصاری۔ خزرجی الزرتی: یہ صاحب غزواتِ بدر اور احد میں موجود تھے اور بٹر معونہ کے موقع پر قتل ہوئے تھے۔ یہ واقدی کی روایت ہے۔ ان کے علاوہ بعض اور مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ غزوۂ بدر میں زخمی ہوئے اور کچھ عرصہ کے بعد اسی زخم کی وجہ سے فوت ہوگئے۔ ابن مندہ کے مطابق ابراہیم بن منذر الخزامی نے محمد بن طلحہ سے روایت کی کہ معاذ بن ماعض ابو قتادہ، ابو عیاش، زرقی، ظہیر بن رافع، عباد بن بشیر، سعد بن زید الاشہلی اور مقداد بن اسود کے ساتھ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں کی تلاش میں نکلے، جب عینیہ بن حصن نے چرا گاہ میں اِن پر چھاپا مارا تھا اور حدیث نقل کی۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا کہ یحییٰ نے اپنے دادا پر استدراک کیا ہے۔ اور اس کے دادا ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن معدان: انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ قطبہ بن جریر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ ان سے عمران بن جریر نے روایت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اِن کی روایت مرسل ہے۔ ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن یزید بن سکن: یہ حواء بنتِ یزید بن سکن کے بھائی تھے۔ جو ثابت بن قیس بن خطیم کی والدہ تھیں۔۔۔۔

مزید