ان کا نام مرداس بن عقفان التمیمی العنبری ہے۔ انہوں نے صحبت میسر آئی۔ وہ راوی ہیں کہ مَیں حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے میرے لیے دعا خیر فرمائی۔ ان سے ان کے بیٹے بکر نے روایت کی۔ ابو عمر نے اختصاراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن جذع بن یزید: باپ بیٹے دونوں نے اسلام قبول کیا۔ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر موجود تھے اور خیبر کی پیدا وار سے دو حصّے وصول کرنے کےلیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امین تھے۔ غسانی نے ابن الکلبی اور العدوی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ہم ان کا ذکر مرداس بن عمر والفد کی کے ترجمے میں کر آئے ہیں۔ ابو عمر نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن امراؤ القیس بن عمر والمقصور بن حجر آکل المرار بن عمر و بن معاویہ بن حارث الاکبر الکندی: یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشعث بن قیس کندی کے ساتھ حاضر ہوئے تھے۔ یہی ابن الکلبی کا بیان ہے۔ ۔۔۔
مزید
ایرانی تھے، صنعا میں رہتے تھے۔ رسولِ کریم کی زندگی میں مسلمان ہوئے۔ بعض لوگوں نے یہ حال کبود سے نقل کیا ہے۔ میرے خیال میں ان سے غلطی ہوئی ہے۔ صحیح نامی وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن زید بن حارث بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی، سلمی: جب مسلمان ہوئے، کافی بوڑھے ہوچکے تھے۔ ان کے بیٹے مرداس صلح حدیبیہ میں موجود تھے۔ اور حضور سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور خیبر کی پیدا وار کے دو حصّوں کے امین تھے۔ ابن الکلبی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے سماع کیا اور وہ انصار کے مولی تھے، ابو الحکم الصیقل الحمصی نے مرزوق سے روایت کی، کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذوالفقار نامی تلوار کو صیقل کیا۔ اس تلوار کا قبضہ، حلقے اور کنڈے چاندی کے تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی العاص بن امیّہ بن عبدشمس بن عبد مناف قرشی اموی: اس کی کنیت ابو عبد الملک تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عمزاد تھا۔ کہتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوا۔ کوئی کہتا ہے، ہجرت کے دوسرے سال پیدا ہوا۔ مالک کے مطابق غزوۂ احد کے دن، کسی کے نزدیک غزوہ خندق کے دن، کسی کے خیال میں فتح مکہ کے دن اور بعض کی رائے میں غزوۂ طائف کے دن پیدا ہُوا۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے محروم رہا۔ کیونکہ بچپن میں جب حضور نے ان کے والد کو جلا وطن کردیا تھا تو یہ طفلِ نادان تھا۔ اس نے یہ عرصہ طائف میں بسر کیا تھا۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہُوئے تو انہوں نے خط لکھ کر حَکم کو بُلا لیا اور اسے اپنے قریب کرلیا۔ ایک دن حضرت علی نے حَکُمْ کو دیکھا تو کہنے لگے خدا تجھے تباہ کرے۔ اللہ امّتِ محمدیہ کو تم سے اور تمہارے بیٹے کے شر سے محفوظ رکھے۔ [۱۔ اس۔۔۔
مزید
سیّدنا مروان بن قیس الاسدی رضی اللہ عنہ ایک روایت میں سلمی آیا ہے۔ امام بخاری نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ان کے لیے بیئے خیثم بن مروان نے ان سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نعیمان نامی ایک شخص کے پاس سے گزرے، جو شراب کے نشے میں تھا۔ حضور کے حکم سے اسے دُرّے لگائے گئے، دوبارہ گزرے تو اسے پھر اسی حالت میں پایا۔ اسے پھر دُرّے لگائے گئے۔ تیسری اور چوتھی بار بھی یہی صورتِ حال پیش آئی۔ اس موقعہ پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! آپ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ شخص چار بار ارتکابِ جرم کر چکا ہے۔ کیوں نہ اس کی گردن ماردی جائے۔ اس پر ایک آدمی بول اٹھا۔ مَیں نے اسے غزوۂ بدر میں دلیری سے لڑتے دیکھا ہے۔ ایک دوسرے شخص نے کیا کہ مَیں نے غزوۂ بدر میں اس کی قابلِ تحسین کار گزاری دیکھی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ۔۔۔
مزید
عبد الملک بن ہشام نے قبیلہ داری کے ان لوگوں کے ناموں کے سلسلے ہیں۔ جن کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے، خیبر کی پیداوار سے حصص عطا فرمائے تھے۔ دو بھائیوں عرفہ بن مالک اور مروان بن مالک کے نام لکھے ہیں۔ ابن اسحاق نے مرار بن مالک کا نام لیا ہے جس کا تذکرہ ہم مرار کے ترجمے میں کر آئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید