کتاب کی ترتیب کے اعتبار سے ان کا ذکرزینب کے ضمن میں چوتھے نمبرپر ہے،لیکن یہاں حروف تہجی کے اعتبار سے درج کیا گیا ہے۔ زینب تمیمہ ،انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کی ،جس میں آپ نے اس بات کو نا پسند کیا،کہ والدین کوئی عطیہ دینے لگیں،تو لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دیں،ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن مخرمہ بن مطلب بن عبد المناف بن قصی: عبد اللہ بن محمد بن عبد العزیز لکھتے ہیں کہ مَیں نے ابن ابی داؤد کی کتاب میں جو صحابہ کے بارے میں ہے دیکھا کہ مصنّف نے محمد بن قیس بن مخرمہ کا شمار صحابہ میں کیا ہے۔ حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سُنی ہے۔ احمد بن عبد اللہ بن یونس نے ثوری سے اس نے عبد اللہ بن مؤمل سے اُس نے محمد بن عباد بن جعفر سے اُس نے محمد بن قیس بن مخرمہ سے سُنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حرمین میں فوت ہُوا۔ وہ قیامت کے دن امن و امان میں اُٹھے گا۔ غریانی نے ثوری سے اُس نے محمد بن قیس بن مخرمہ سے اور انھوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ابو احمد عسکری نے قیس بن مخرمہ کے ترجمے میں لکھا ہے کہ اِن کے دونوں بیٹے محمد اور عبد اللہ جو ابھی بچّے تھے وہ والد کے ساتھ ہولیے تھے اور جس حدیث کا ہم نے ذک۔۔۔
مزید
ذرہ کسی صحابی کی زوجہ تھیں،ان کا نسب معلوم نہیں ہوسکا،ان سے محمد بن منکدر اور زید بن اسلم نے اور ابوالنص ہاشم بن قاسم نے ابو جعفر رازی سے،انہوں نے لیث سے،انہوں نے محمد بن منکدر سے،انہوں نے ذرہ سے روایت کی، کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا،میں اور یتیم کا کفیل ان دو انگلیوں کی طرح بہشت میں اکٹھے ہونگے،اسی طرح بیوہ اور مساکین کی دیکھ بھال کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ یا اس روزہ دار کی طرح ہے جو اللہ کی رضا کے لئے متواتر روزے رکھتا ہے،ابنِ مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
زرینہ والدۂ امتہ اللہ ،ایک روایت میں رزینہ ہے،یحییٰ نے کتابتہً باسنادہ تا ابن ابی عاصم ،عقبہ بن مکرم سے،انہوں نے محمد بن موسیٰ سے،انہوں نے علیلہ دختر کمیت سے،انہوں نے والدہ سے انہوں نے امتہ اللہ سے روایت کی ،کہ انہوں نے زرینہ سے پوچھا،کہ رسولِ اکرم عاشورہ کے روزے کے بارے میں کیا فرماتے تھے،انہوں نے جواب دیا، کہ جب یہ دن آتا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے اور دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا کرتے تھے،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
زجاء ان سے ابن سیرین نے روایت کی،کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س بیٹھی تھیں،کہ ایک عورت اپنے بیٹے کو لئے حاضر ہوئی،ایک روایت میں رجا ر مذکور ہے۔ ۔۔۔
مزید
زنیرہ رومیہ،یہ خاتون ان لوگوں میں شامل ہیں،جو ابتدائے بعثت میں اسلام لائیں،یہ بنو مخزومہ کی کنیز تھیں،جنہیں ابو جہل سخت تکلیف دیا کرتا تھا،ایک روایت کی رُو سے وہ بنو عبداللہ کی لونڈی تھیں،جب اسلام لائیں تو اندھی ہو گئیں،مشرکین کہتے کہ اسے لات اور عزٰی کی نافرمانی نے اندھا کردیا ہے،وہ جواب میں کہتیں،کہ لات اور عزٰی کو تو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ان کو پوجنے والے کون ہیں،یہ تقدیر آسمانی ہے،اللہ چاہے تو میری بینائی کولوٹا سکتا ہے،حُسنِ اتفاق سے دوسرے دن ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں،تو مشرکین یہ کہنا شروع کردیا،کہ یہ کرشمہ محمد کےجادو کا ہے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے ہاتھوں انہیں بے تحاشہ پٹتے دیکھا تو انہیں خرید کر آزاد کر دیا،یہ خاتون ان سات افراد میں شامل ہیں،جنہیں خرید کر حضرت ابوبکر نے آزاد کردیا تھا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر یعار انصاریہ ابوحذیفہ مولی سلم کی زوجہ تھیں،ان کے نام کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں، ہم حرف تا کے تحت ان کا ذکر کر آئے ہیں،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر یسار بن ازیہر،بقول جعفر حضور کی صحبت نصیب ہوئی،ابو موسیٰ نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر یزید بن سکن بن رافع بن امراءالقیس انصاریہ اشہلیہ،بقول ابنِ حبیب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر یزید بن جون کلابیہ،ایک روایت میں ان کا نام عمرہ دختر یزید بن عبید بن رواس بن کلاب الکلابیہ ہے،یہ ابوعمرکا قول ہے،اور یہ صحیح ہے،ان سے حضورِاکرم نے نکاح کیا تھا،لیکن جب معلوم ہوا ،کہ وہ مبروص ہیں،تو آپ نے طلاق دے دی۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے روایت کی کہ حضورِ اکرم نے عمرہ دختر یزید بن کلابیہ سے نکاح کیا،جواس سے پیشتر فضل بن عباس کے پاس تھی،مگر اسے قبل از دخول طلاق دے دی،ایک روایت کے مطابق یہ وہی عورت ہے،جس نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر نعوذ باللہ منک کہاتھا،اور آپ نے طلاق دے دی تھی،اور فرمایا،تو نے پناہ دینے والے کے نام سے پناہ مانگی ہے،اس پر آپ نے زید بن حارثہ کو حکم دیا،کہ اسے تین کپڑے دے کر بنوکلاب میں چھوڑآؤ۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ،انہوں نے عائشہ سے روایت کی،اور ابوعبید کا قول ہے کہ یہ واقعہ اسماء د۔۔۔
مزید