بدھ , 19 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 06 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا محمد بن مخلد رضی اللہ عنہ

بن سحیم بن مستورد بن عامر بن عدی بن کعب بن نضلہ: یہ صحابی فتح مکّہ میں موجود تھے ابو موسیٰ نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ

بن خالد بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس الانصاری اوسی حارثی: یہ بنو عبد الاشہل کے حلیف تھے، اور کنیت عبد الرحمٰن تھی ایک روایت میں ابو عبد اللہ مذکور ہے۔ سوائے حجوک کے تمام غزوات میں شریک ہوئے ان کی وفات مدینہ میں ہوئی۔ وہ مدینہ کو چھوڑ کر کہیں نہ جاسکے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے انصار کے قبیلے بنو عبد الا شہل سے ان لوگوں کے ناموں کے سلسلے میں جو بدر میں موجود تھے بتایا کہ ان کے حلیفوں میں محمد بن مسلمہ بھی تھے۔ جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا۔ یہ محمد بن مسلمہ ان لوگوں میں شامل تھے، جنھوں نے کعب بن، اشرف یہودی کو قتل کیا تھا۔ بعض غزوات کے موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مدینے کی امارت تفویض فرمائی اک روایت کے رو سے اس غزوے کا نام قر قرۃ الکدر، اور ایک دوسری روایت کے مطابق غزوہ تب۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد ابو مہند المزنی رضی اللہ عنہ

مطین نے الوحدان میں ان کا ذکر کیا ہے۔ نصر بن مزاحم نے عمر الاعراج المزنی سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص کسی کو دو دفعہ قرض دیتا ہے۔ اسے اتنا ثواب ملتا ہے جتنا کہ وہ ایک دفعہ صدقہ کرے۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی صحبت ثابت نہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن نبیط بن جابر رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ان کا نام محمد رکھا اور گھٹی دی۔ یہ ابن القداح کا بیان ہے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن نضلہ الاسدی رضی اللہ عنہ

ہم ان کا نسب ان کے بھائی محرز کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ دونوں ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے اور ان کے والد نضلہ انصار کے حلیف تھے۔ ابن اسحاق نے دونوں بھائیوں کی ہجرت کی تصدیق کی ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن ہشام رضی اللہ عنہ

ان کا شمار اہلِ مدینہ سے ہوتا ہے۔ ان کا نام صحابہ میں لیا جاتا ہے، لیکن غیر معروف آدمی ہیں۔ قاضی ابو احمد نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے مدنی ہیں اور غیر معروف۔ ان سے مروی حدیث کی لیث نے تصدیق نہیں کی ابن الہاد نے صفوان بن نافع سے اُنہوں نے محمد بن ہشام سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری باہمی گفتگو امانت ہوتی ہے، اس لیے مومن کے لیے یہ حلال نہیں۔ کہ وہ اپنے بھائی سے بُری بات منسوب کرے۔ علی بن المدینی سے کسی نے ان کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا غیر معروف ہے۔ میں اسے نہیں جانتا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن ہلال بن معلّی رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام رکھا۔ فتح مکہ کے موقع پر موجود تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن یغدیذویہ رضی اللہ عنہ

کہتے ہیں ان کا نام بفودان تھا۔ حضور نے ان کا نام محمد رکھا۔ ایک روایت کے مطابق ان کا نام یفودان تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام محمد رکھ دیا۔ ابو اسحاق بن یاسین نے ان کا تذکرہ (اپنی کتاب تاریخ الہرات میں) ان صحابہ کے ساتھ کیا ہے۔ جو کسی نہ کسی طرح ہرات آگئے تھے۔ ابو اسحاق ابراہیم بن علی بالویہ الزنجانی بہراہ سے انہوں نے محمد بن مردان شاہ زنجانی سے (جسے وہ قابلِ اعتماد خیال کرتے ہیں اور اس باب میں ان سے ۱۶۹ آدمی متفق ہیں) انہوں نے احمد بن عبدۃ الجرجانی سے، انہوں نے بفودان بن یغدیذویہ الہروی سے روایت کی کہ میں نے شرک کی حالت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کی۔ پھر میں اسلام لے آیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام محمد رکھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دعائیں کم ہوجاتی ہیں تو آسمانی بلاؤں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ جب ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد بن یغدیذویہ رضی اللہ عنہ

کہتے ہیں ان کا نام بفودان تھا۔ حضور نے ان کا نام محمد رکھا۔ ایک روایت کے مطابق ان کا نام یفودان تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام محمد رکھ دیا۔ ابو اسحاق بن یاسین نے ان کا تذکرہ (اپنی کتاب تاریخ الہرات میں) ان صحابہ کے ساتھ کیا ہے۔ جو کسی نہ کسی طرح ہرات آگئے تھے۔ ابو اسحاق ابراہیم بن علی بالویہ الزنجانی بہراہ سے انہوں نے محمد بن مردان شاہ زنجانی سے (جسے وہ قابلِ اعتماد خیال کرتے ہیں اور اس باب میں ان سے ۱۶۹ آدمی متفق ہیں) انہوں نے احمد بن عبدۃ الجرجانی سے، انہوں نے بفودان بن یغدیذویہ الہروی سے روایت کی کہ میں نے شرک کی حالت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کی۔ پھر میں اسلام لے آیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام محمد رکھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دعائیں کم ہوجاتی ہیں تو آسمانی بلاؤں کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ جب ۔۔۔

مزید

سیّدنا محمد غیر منسوب رضی اللہ عنہ

ابو حفص بن شاہین نے ان کا شمار صحابہ میں کیا ہے۔ سلام بن ابی الصہباء نے ثابت سے روایت کی، ایک سال میں حج کو گیا، اور ایک ایسے حلقے میں جا پہنچا۔ جس میں دو ایسے آدمی بیٹھے تھے، جو حضور اکرم کی صحبت میں بیٹھ چکے تھے، وہ دونوں بھائی تھے۔ ان میں ایک کا نام محمد تھا اور وہ دونوں ’’وسواس‘‘ پر تبادلۂ خیال کر رہے تھے وہ کہنے لگے۔ اتنے میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، حضور نے دریافت فرمایا۔ کس بات پر بحث کر رہے ہو۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم وسواس کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ بخدا اگر ہم سے ایک، آسمان سے زمین پر گِر پڑے، تو ہمیں یہ اس سے کہیں بہتر معلوم ہوتا ہے، کہ ہم اپنے توہمات کا ذکر ہی کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ کیا تمہیں ایسی صورتحال پیش آئی ہے۔ انہوں نے کہا۔ ہاں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا۔ یہ خالص ایمان ہے۔ اس پر ج۔۔۔

مزید