جمعہ , 21 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 08 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ ) امِ مغیث( رضی اللہ عنہا)

ام مغیث،انہیں صحبت نصیب ہوئی،اور دونوں قبلوں کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی،اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے محمد بن یوسف سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ام معیث سے روایت کی کہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمر اور زبیب ملانے سے منع کیا ،اور ام مغیث ربیعہ بن عبدالرحمٰن کی دادی تھیں،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ منیع( رضی اللہ عنہا)

ام منیع انصاریہ،ایک روایت میں ان کی کنیت ام شباب ہے،اور ان کا نام اسماء دختر عمروبن عبدی بن نابی بن عمرو بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ تھا،اور بیعت عقبہ میں ام منیع اور ام عمارہ نسیبہ کے علاوہ اور کوئی خاتون موجود نہ تھی،ابونعیم،ابوعمر اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ المسیب( رضی اللہ عنہا)

ام المسیب یاام السائب انصاریہ،ابوموسیٰ نے کتابتہً ابوعلی سے،انہوں نے احمد بن جعفر سے،انہوں نے یحییٰ بن مطرف سے،انہوں نے مسلم بن ابراہیم سے،انہوں نے حسن بن ابوجعفر سے،انہوں نے ابوالزبیر سے،انہوں نے جابر سے روایت کی،کہ حضورِ اکرم ایک بار انصار کی ایک خاتون ام المسیب کے یہاں تشریف لائے،اور وُہ خاتون بخار سے کانپ رہی تھیں،دریافت فرمایا،ام المسیب تمہیں کیا تکلیف ہے،انہوں نے کہا،یارسول اللہ! خدااس کا بھلا نہ کرے،بخار ہوگیا ہے،فرمایا،اسے برابھلا نہ کہو،اس سے گناہ یوں ختم ہوجاتے ہیں،جس طرح آگ سے لوہے کا زنگ۔ اس حدیث کو عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے ،انہو ں نے ابوالزبیر سے،انہوں نے جابر سے روایت کیا اور کہا کہ ان کی کنیت ام السائب تھی،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ مطاع( رضی اللہ عنہا)

ام مطاع اسلمیہ مدنیہ،ان کی حدیث کے راوی عطاء بن ابومروان ہیں،انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ام مطاع سے روایت کی،کہ وہ غزوۂ خیبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل لشکر تھیں،انہیں مال غنیمت سے ایک مرد کے حصے کے برابر حصہ دیاگیاتھا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو عمر لکھتے ہیں،خیبر میں ام مطا ع کی موجودگی درست ہے،لیکن مرد کے برابر حصہ پانا مشکوک ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام نبیط( رضی اللہ عنہا)

ام نبیط انصاریہ،ان کے نام میں اختلاف ہے،اور ان کے راوی نبیط ان کے بیٹے ہیں،حسن بن محمد بن ہبتہ اللہ دمشقی نے محمد بن خلیل بن فارس سے،انہوں نے ابوالقاسم علی بن محمد بن علی بن ابوالعلاء سے انہوں نے ابومحمد بن عثمان بن ابونصر سے،انہوں نے ابراہیم بن ابی ثابت سے،انہوں نے یزید بن محمد سے،انہوں نے عتبہ بن زبیر(ازاولادکعب بن مالک)سے انہوں نے محمد بن عبدالخالق (ازاولادبن بشیر)سے،انہوں نےعبدالملک بن نبیط انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے،انہوں نے اپنی دادی ام نبیط سے روایت کی کہ بنو نجار کی ایک کنیز ہمیں بطور ہدیہ کسی نے دی، میرے پاس ایک دف تھی،میں گاتی تھی اور بجا تی تھی۔ اٰتَینَاکُم اٰتَینَاکُم فَحَیُّونَاتَحیِیکُم لَولَااَلذَّھبَ الاَحمَرُمَاحَلَّت بِوِادِیکُم (ترجمہ)ہم تمہارے پاس آئے ہیں،ہم تمہارے پاس آئے ہیں،تم ہمیں خوش آمدید کہو،ہم تمہیں خوش آمدید کہت۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ نائلہ( رضی اللہ عنہا)

ام نائلہ خزاعیہ،ان سے ام الاسود خزاعیہ نے روایت کی،ابراہیم بن نصر نے مسلم بن ابراہیم سے، انہوں نے اسود خزاعیہ سے،انہوں نےام نائلہ خزاعیہ سے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جس کا نام قیس تھا،دریافت کیا،آپ نے فرمایا،اس کسی قطعئہ زمین پر آرام نہیں آتا،جہاں جاتا ہے،کچھ دنوں کے بعد وہاں سے چل دیتا ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے،ابونعیم لکھتے ہیں،کہ ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن راویوں میں بریدہ کا نام نہیں لیا،ان کا نام نائلہ خزاعیہ ہے،اور عبداللہ بن جعفر نے اسماعیل بن عبداللہ سے انہوں نے مسلم بن ابراہیم سے،انہوں نے ام الاسود خزاعیہ سے،انہوں نے بریدہ سے روایت کی۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن ہبیرہ بن خالد بن مسلم الکندی الکوفی رحمۃ اللہ علیہ

ان کا شمار مصریوں میں ہوتا ہے۔ ان سے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ الخیری نے روایت کی ہے۔ جناب مالک امیر معاویہ کی فوجوں کے کماندار رہے ہیں۔ ہمیں اسماعیل بن علی اور ابراہیم وغیرہ نے اسناد سے جو ترمذی تک پہنچتا ہے بتایا کہ ان سے ابوکریب نے اور اس سے عبداللہ بن مبارک اور یونس بن بکیر نے محمد بن اسحاق سے اس نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے مرثد بن عبداللہ الیزنی سے بیان کیا کہ جب مالک بن ہبیرہ کسی شخص کی نماز جنازہ پڑھاتے، تو وہ آدمیوں کی تین صفیں بنایا کرتے اور کہتے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص نمازِ جنازہ میں تین صفیں بناتا ہے وہ اپنے بھائی کے ساتھ بہت بڑی بھلائی کرتا ہے۔ یہ روایت بن اسحاق نے کئی آدمیوں سے روایت کی۔ ابراہیم بن سعد نے بھی ابنِ اسحاق سے یہ روایت نقل کی ہے، لیکن اُنھوں نے مرثد اور مالک کے درمیان حادث بن مالک بن مخلد کو داخل کردیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن ہدم رضی اللہ عنہ

ابن لہیو نے یزید بن ابی حبیب سے اس نے ربیعہ بن لقیط سے،اس نے مالک بن ہدم سے روایت کی کہ ہم ایک لڑائی میں تھے اور عمرو بن العاص ہمارے امیر تھے اور عمر بن خطاب اور ابو عبیدہ بھی اس دن وہیں تھے۔ سوئے اتفاق سے اس دن ہمارے ہاں راشن کی شدید قلت تھی میں تلاشِ معاش میں نکلا اور ایک ایسی جماعت کے پاس سے گزرا، جو کسی ایسے آدمی کے انتظار میں تھے، جو انہیں بکری ذبح کردے۔ میں نے اپنی خدمات پیش کیں۔ انھوں نے مجھے اجازت دے دی، میں نے بکری کو ذبح کیا۔ کھال اتاری اور گوشت کو حسبِ ہدایت کاٹا۔ انھوں نے مجھے حق الخدمت ادا کیا اور میں وہ گوشت لیے کیمپ میں آگیا اور اسے پکایا اور حضرت عمر کی خدمت میں پیش کیا۔ ان کے پوچھنے پر جب میں نے واقع بیان کیا، تو انھوں نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسی طرح ابوعبیدہ بن جراح نے بھی کھانا گوارا نہ کیا۔ آخر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گی۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن ولید رضی اللہ عنہ

عبدان نے ان کا ذکر کیا ہے۔ خالد بن ولید نے، مالک بن جبر الزیادی سے روایت کی کہ جناب مالک نے بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نصیحت فرمائی کہ اگر تمہیں امارت دی جائے تو ادھر کو ایک قدم بھی مت اٹھاؤ، اور اگر کسی آدمی سے معاہدہ کرو تو اس سے ایک سوئی بھی مت قبول کرو اور اسی طرح یہ بھی فرمایا میں حاکم کی برائی کی وجہ سے اس کے خلاف بغاوت نہ کروں۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن وہب الخزاعی رضی اللہ عنہ

عبدالعزیز بن ابوبکر بن مالک بن وہب الخزاعی نے اپنے باپ سے اس نے اپنے دادا مالک بن وہب سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیط اور سفیان بن عوف الاسلمی کو دشمن کے لشکر کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے کے لیے جنگ احزاب کے موقع پر مامور فرمایا۔ جب وہ صحرا میں پہنچے تو ابوسفیان کے لشکر سے آمنا سامنا ہوگیا اور اس چپقلش میں یہ دونوں صحابی مارے گئے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا یا جب ان کی لاشیں آپ کے سامنے لائی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دونوں شہیدوں کو ایک قبر میں دفن کردیا جائے۔ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید