سوداء دختر عاصم بن خالد بن ضرار بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوئی القرشیہ عدویہ بقولِ ابن مندہ اور ابو نعیم ان سے ام عاصم نے روایت کی،ابوعمر نے انہیں بنواسد سے منسوب کیا ہے،بعض نے انہیں سوداء دختر عاصم لکھا ہے،اور خضاب کے بارے میں ان سے حدیث روایت کی ہے۔ یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے ابوبکر سے،انہوں نے ابواسحاق اودی سے،انہوں نے نائلہ سے(جو ابوالعیزارکوفی کی آزاد کردہ کنیز تھی) انہوں نے ام عاصم سے،انہوں نے سوداء سے روایت کی،کہ وہ حضورِاکرم سے بیعت کے لئے حاضر ہوئیں،فرمایا ،جاؤ،پہلے خضاب لگاؤ اور پھر بیعت کے لئے حاضر ہو،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر ابوایوب خالد بن زید انصاریہ ان کے والد مشہور ابوایوب انصاری ہیں،بقول ابن حبیب حضورِاکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
سودہ دخترِ مسرح،ایک روایت میں سوادہ مذکور ہے،جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سوادہ دختر مِسرح کندیہ،ایک روایت میں سودہ مذکور ہے،ان سے عروہ بن فیروز نے روایت کی کہ میں ان لوگوں میں موجود تھی،جب خاتونِ جنت دردزہ میں مبتلا تھیں،رسولِاکر علیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لائے پوچھا،فاطمہ کا کیا حال ہے،میں نے عرض کیا،کہ ابھی تکلیف کم نہیں ہوئی،فرمایا، جب وضع حمل ہوجائے،تو کسی سے کچھ نہ کہنا،حسن پیدا ہوئے تو میں نے انہیں اٹھا کر ایک زرد رنگ کے کپڑے میں لپیٹ دیا،اتنے میں حضورِاکرم تشریف لائے،اور میں نے آپ کو وضع حمل اور بچے کو زرد رنگ کے کپڑے میں لپیٹنے کے بارے میں بتایا،آپ نے بچے کو بلوایا،اور زرد رنگ کا کپڑا اتار کر سفیدکپڑے میں لپیٹ لیا،پھر بچے کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈال کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلوایا،اور پوچھا،بچے کا کیانام تجویز کیا ہے،انہوں نے کہا،جعفر(ایک روایت میں حرب بھی آیا ہے)فرمایا ،نہیں،اس کا نام حسن ہے،اور اسے کے بعد آنے والے کا۔۔۔
مزید
عمرہ دختر حارث بن ابوضرار خزاعیہ مصطلقیہ،ہم ان کا نسب ان کی ہمشیرہ جویریہ کے ترجمے مین بیان کرآئے ہیں۔ یحییٰ بن ابوالرجاءنےاذناً باسنادہ ابوبکر بن ابوعاصم سے ،انہوں نے صلت بن مسعود حجدری سے ، انہوں نے محمد بن خالد بن سلمہ مخزومی سے انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے محمد بن عمرو بن حارث بن ابو ضرار سے،انہوں نے اپنی پھوپھی عمرہ سے روایت کی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،دنیا سبز اور شیریں ہے،جسے اس کی کوئی چیز مل گئی،اللہ کی اس میں برکت ہوتی ہے،بہت سے ایسےلوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں در آتے ہیں،انہیں قیامت میں آگ نصیب ہوگی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عمرہ دختر ہزال بن عمرو بن قرواش انصاریہ،از بنو عوف بن خزرج،بقولِ ابنِ حبیب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام سلیمان بن عمرو الاحوص،ان سے ان کے بیٹے سلیمان نے روایت کی،یحییٰ نے باسنادہ ابوبکر بن ابوعاصم سے،انہوں نے ابوبکر بن ابوشیبہ سے،انہوں نے علی بن مسہر سے،انہوں نے یزید بن ابوزیاد سے،انہوں نے سلیمان بن عمروبن احوص سے،انہوں نے اپنی والدہ سےروایت کی،کہ انہوں نے آپ کو جمرۂ عقبہ کے پاس ایک خچر پر سوار دیکھا،آپ کے ساتھ ایک اور آدمی تھا،جو آپ کو لوگوں کے ہجوم سے دُور رکھتا تھا،مجھے بتایاگیا کہ یہ فضل بن عباس ہیں، آپ نے ہجوم سے خطاب کر کے فرمایا،اے لوگو،ایک دوسرے کو زخمی نہ کردینا،جب تم کنکریاں پھینکنے لگو،تو چھوٹی کنکریاں پھینکو،آپ وادی میں داخل ہوئے اور آپ نے سات کنکریا ں پھینکیں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے، پھر آپ مڑ گئے۔ اس حدیث کے راوی کے بارے میں اختلاف ہے،کوئی کہتا ہے کہ اس کے راوی ان کے دادا سلیمان بن عمرو احوص ہیں، بعض کے نزدیک ان کی والدہ ہیں،بعض کہت۔۔۔
مزید
ام سلیط،حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی،اور غزوۂ احد میں شریک تھیں،اور بقول حضرت عمرفاروق غازیوں کے لئے پانی کی مشکیں بھر کر لاتی تھیں،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام سنبلہ اسلمیہ،ان کا شمار اہلِ مدینہ میں ہوتا ہے،زید بن حباب نے عمروبن قنیطی بن شداد بن اسید المدنی سے،انہوں نے سلیمان زرعہ اور محمد بن حصین بن سنان بن سوار سے،انہوں نے ام سنبلہ سے(جوان کی داددی تھیں)روایت کی،کہ وہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اورازواج مطہرات کو کوئی ہدیہ دینا چاہا،لیکن انہوں نے لینے سے انکار کردیا،اتنے میں حضورِ اکرم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا،کہ ہدیہ قبول کرلو،یہ ہماری اہل بادیہ سے ہے،اور ہم اس کے اہلِ شہر ہیں،آپ نے اس خاتون کو فلاں فلاں وادی بطور عطیہ کے دے دی،پھر ان سے عبداللہ بن حسن بن حسین بن علی بن ابوطالب نے خرید لی،اور انہیں ان کے بدلے میں چند اُونٹ دے دئیے عمرو بن قینطی کہتے ہیں،کہ انہوں نے ان میں سے بعض کو دیکھا تھا۔ اور سلیمان بن بلال اور عبدالعزیز بن ابی حازم وغیرہ نے عبدالرحمٰن بن حرملہ سے،انہوں نے عبد۔۔۔
مزید
سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ بن عمرو بن عتیک بن عمرو بن مبذول اور وہ عامر بن مالک بن النجار انصاری، خزرجی، نجاری ہیں: مالک اس جمعے کے دن فوت ہوئے تھے جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلح ہوکر اُحد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر اُحد کی طرف کوچ فرمایا تھا۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید