۱م شباب،یہ امی منیع ہیں،جن کا ذکر ہم ان کے بیٹے شباب کے ترجمے میں کر آئے ہیں،ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام فروہ دختر ابوقحافہ تیمیہ،ہم ان کا نسب ان کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،یہ خاتون حضرت ابوبکر صدیق کی ہمشیرہ تھیں،ان کی والدہ کا نام ہند دختر بجیر بن عبد بن قصی تھا،جنہیں ان کے بھائی ابوبکر اشعث بن قیس کندی کے ساتھ بیاہا تھا،اور پھر ان سے محمد،اسحاق ،قریبہ اور حبابہ چاراولادیں ہوئی تھیں،ام فروہ نے حضورِ اکرم سے بیعت کی تھی اور آپ سے بقول ابن عمر یہ حدیث روایت کی،کہ سب اعمال میں بہترین عمل اول وقت میں نماز اداکرنا ہے،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے اسے مختصر کردیا ہے،کہ ام فروہ ابو قحافہ کی بیٹی اور ابوبکر کی ہمشیرہ تھیں،ان کا ذکر فتحِ مکہ کی حدیث میں آیاہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابنِ اثیر لکھتے ہیں،کہ ابوعمر نے یہ حدیث اس ترجمے میں بیان کی ہے اور آگے چل کر لکھتے ہیں کہ بعض لوگ اس خاتو ن (ام فروہ) کو انصاریہ گردانتے ہیں،حالانکہ یہ غلط ہے،لیکن یہ روایت موجود۔۔۔
مزید
حضورِاکرم کی رضاعی والدہ تھیں،جعفر مستغفری نے اسی طرح ان کا ذکر کیا ہے،اور انہوں نے باسنادہ اسحاق بن ابواسرائیل سے،انہوں نے مؤمل سے،انہوں نےسفیان سے،انہوں نے ابواسحاق سے،انہوں نے ام فروہ سے روایت کی کہ آپ نے انہیں فرمایا،جب تم بستر پر رات کو لیٹو تو سورۂ کافرون پڑھ لیا کرو،کہ یہ تمہاری طرف سے شرک سے اعلانِ بیزاری شمار ہوگا۔ اس حدیث کے راوی کے بارے میں اختلاف ہے،کسی نے فروہ،کسی نے ام فروہ اور کسی نے نوفل بتایا ہے،اور یہ قو ل عجیب و غریب ہے،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام غادیہ،انہوں نے مدینے کو ابوالغادیہ اور حبیب بن حارث کے ساتھ ہجرت کی،محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی نے عاصی بن عمرو طفاوی سے،انہوں نے حبیب بن حارث اور ابوالغادیہ سے روایت کی،کہ وہ دونوں ام غادیہ کے ساتھ مدینے کو روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر انہوں نے اسلام قبول کرلیا،ام غادیہ نے گزارش کی،یارسول اللہ،مجھے کوئی نصیحت فرمائیے،آپ نے فرمایا،تو ایسی گفتگو سے بچ جس سے کا ن متاثر ہوں،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،بقولِ ابوعمر اس کا اسناد مجہول ہے۔ ۔۔۔
مزید
امِ غطیف ہذلیہ،یہ وہ خاتون ہیں جنہیں ملیکہ نے حمل بن مالک بن بابغہ کی حدیث میں ماراتھا،اسباط کی روایت میں جسے انہوں نےسماک سے،انہوں نے عکرمہ سےروایت کی ہے،ان کا نام اسیِ طرح مذکور ہے،ابونعیم اور ابوبکر خطیب کا یہی قول ہے،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ہانی انصاریہ،مجھے ان کا نسب معلوم نہیں،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،کسی نے ام قیس اور کسی نے ام ہانی لکھا ہے،واللہ اعلم۔ یحییٰ بن محمود نے باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے ابوبکر سے،انہوں نے حسن بن موسیٰ سے، انہوں نے ابنِ لہیعہ سے،انہوں نے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے،انہوں نے درہ دختر معاذ سے،انہوں نے ام ہانی انصاریہ سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا،یارسول اللہ ،کیا ہم مرنے کے بعد ایک دوسرے سے ملاقات کیا کریں گے،آپ نے فرمایا،روحیں پرندوں کی صورت میں درختوں سے لٹکتی رہیں گی،اور جب قیامت بپاہوگی،تو اپنے اپنے جسموں میں داخل ہوجائیں گی،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ہانی دخترابی طالب قرشیہ ہاشمیہ،حضور کی عمزاد تھیں،اور حضرت علی کی ہمشیرہ ان کی والدہ فاطمہ دختر اسد تھیں،ان کے بارے میں اختلاف ہے،کسی نے ہند کسی نے فاطمہ اور کسی نے فاختہ لکھاہے، ان کا شوہر بھاگ کر نجران چلاگیا اور مندرجہ ذیل اشعار بطور اعتذار کہے۔ (۱)لعمرک ماولیت ظھری محمداً واصحابہ حیناًولاخیفۃ القتل (ترجمہ)مجھے تیری عمرکی قسم کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب سے بزدلی اور قتل کے ڈر کی وجہ سے پیٹھ نہیں پھیری۔ (۲)ولکننی قلبت امری فلم اجد یسفی غناء ان ضربت ولانیلی (ترجمہ)لیکن میں نے اپنے کام کو پلٹ دیا(مسلمان نہ ہوا)اور تلوار چلانے اور تیراندازی میں کوئی فائدہ نہ دیکھا۔ (۳)وقفت فلماخفت ضیقۃ موقفی رجعت لعودلالھزبرالی الشبل (ترجمہ)میں مقابلے کے لئے اڑا رہا،لیکن مجھے اپنے موقف کے بارے میں خطرہ پیداہوا،تو میں مڑا، تاکہ دوبارہ حملے کے۔۔۔
مزید
رُبَیع دختر معوذ بن عفراء انصاریہ،ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،انہیں صحبت نصیب ہوئی،اور اہل مدینہ نے ان سے روایت کی،اس خاتون نے بارہا حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ غزا میں شرکت کی،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں،اور مقتولین کو مدینے پہنچانے کا بندوبست کرتی تھیں،حضورِ اکرم سے بیعت رضوان کے موقعہ پر بیعت کی تھی۔ زبیر نے اپنے چچا سے،انہوں نے واقدی سے روایت کی،کہ دختر محزبہ،مدینے میں عطر کی خرید وفروخت کرتی تھیں، اور عیاش اور عبداللہ پسران ابو ربیعہ کی والدہ تھیں،یہ خاتون (اسماء) ربیع دختر معوذ کےگھر عطر بیچنے گئی ،انہوں نے اسماء سے عطر مانگا،تو اسماء نے ربیع کے والد کا نام لیکر کہا،کہ تو اس آدمی کی بیٹی ہے،جس نے اپنے سردار ابوجہل کو قتل کیا تھا،میں ہرگز تجھے عطر نہیں بیچوں گی،ربیع نے جواب میں کہا،میراوالد اپنے سردار کا نہیں بلکہ اپن۔۔۔
مزید
ام حارث انصاریہ،عمارہ بن غزیہ کی دادی تھیں اور صلح حدیبیہ کے موقعہ پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں،ابوعمر نے مختصراًان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام حارث دختر عیاش بن ابو ربیعہ مخزومیہ،انہیں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی یحییٰ بن محمود نے باسنادہ ابنِ ابی عاصم سے،انہوں نے ہشام بن عمار سے،انہوں نے شعیب بن اسحاق سے،انہوں نے ابنِ جریج سے،انہوں نے محمد بن یحییٰ حبان سے،انہوں نے ام حارث دختر عیاش سے روایت کی،کہ انہوں نے بدیل بن ورقاکو ایک خاکستری رنگ ناقہ پر سوار اہلِ منازل کے گھروں میں گھومتے دیکھا،وہ لوگوں کو بتارہے تھے،کہ حضورِ اکرم نے ان ایام میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے،کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید