ام حذیفہ بن یمان ،حدیثِ حذیفہ میں ان کا ذکر آیاہے،اسرائیل نے میسرہ بن حبیب سے ،انہوں نے منہال بن عمرو سے،انہوں نے زربن حجش سے،انہوں نے حذیفہ سے روایت کی،کہ میری والدہ نے مجھ سے پوچھا تمہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کئے کتنا عرصہ ہوچکا ہے، میں نے جواب دیا،فلاں وقت کےبعد مجھے آپ سے ملاقات کا موقعہ نہیں ملا،چنانچہ میں حضور کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ نمازِ مغرب ادا کررہے تھے،فرمایا اے حذیفہ!یہ شخص جو ابھی ابھی آیاتھا،تونے دیکھا تھا،فرمایا،یہ فرشتہ تھا،جو مجھے یہ بشارت دینے آیاتھا،کہ حسن اور حسین جنتیوں کے سردار ہیں،اور فاطمہ جنتیوں کی سردار ہیں،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سعدی غیر منسوب، ان کی حدیث کو عبدالواحد بن زیاد نے عثمان بن حکیم سے ، انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ سے ،انہوں نےاپنی دادی سعدی سے(یااسماء سے)،کہ رسولِ اکرم ضباعتہ دختر زبیر بن عبدالمطلب کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں کہا چچی جان(راوی کو غلطی لگ گئی ہے،زبیر بن عوام حضور نبی کریم کے چچا تھے،ضباعہ آپ کی عمزاد ہوں گی)آپ ضرور حج کریں،انہوں نے معذرت کرلی،کہ میں کافی جسیم عورت ہوں،اور ایسے موقعہ پر میرادم گھٹ جاتا ہے،آپ نے فرمایا،اچھا آپ ا س شرط پر حج کریں،کہ اگر آپ کا دم گھٹنے لگے تو احرام کھول دیجیئے گا،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام اسحاق غنویہ،ان سے ام حکیم دختر دینار نے روایت کی،مہاجرہ تھیں،ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے بشارت بن عبدالملک سے،انہوں نے ام حکیم دختر دینار سے،جو ام اسحاق کی آزاد کردہ کنیز تھیں روایت کی،کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ آنحضرت کی ملاقات کے لیئے روانہ ہوئیں،ابھی تھوڑا فاصلہ ہی طے کیا تھا،کہ ان کے بھائی نے کہا،کہ وہ اپنازادِراہ مکے میں ہی بھول آیا ہے،بہن کو کہا،کہ وہ یہاں بیٹھ کر انتظار کریں،تاکہ وہ اپنا زادِسفر لے آئے،بہن نے کہا مجھے ڈر ہے کہ میرافاسق خاوند تمہیں آنے نہیں دے گا،اس نے مجھے تسلی دی،اور خود زادِسفر لینے چلاگیا،مجھے وہاں بیٹھے کئی دن گزر گئے، لیکن میرا بھائی نہ آیا،اتفاقا ایک دن وہاں سے ایک آدمی جسے میں جانتی تھی،گزرا،اس نے وہاں بیٹھنے کی وجہ پوچھی،اور میں نے بتائی،تو اس نے مجھے بتایا ،کہ میرے بھائی کو میرے خاوند نے قتل کردیا ہے،میں جب حضور کی خدمت میں پہنچ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر عبداللہ ،ان سے سعید بن مسیب نے روایت کی،موسیٰ بن عبیدہ نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ام جمیل سے روایت کی کہ ا ن کے خاوند نے انہیں پیٹا،چنانچہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےشکایت کی،آپ نے فرمایا،آیا تو اس سے صلح کرنے کو آمادہ ہے،حضورِ اکرم کے ارشاد کے مطابق میں مصالحت کرلی،ابن مندہ ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر حزم بن عتیک بن نعمان انصاریہ از بنو مالک،بقولِ ابن حبیب حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر جلاس بن سوید انصاریہ از بنو عبدالاشہل،بہ قول ابنِ حبیب،انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ثبیتہ رضی اللہ عنہادختر ضحاک بن خلیفہ انصاریہ اشہلیہ،ان کی ولادت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عہد میں ہوئی، ان کا نام اکثر علمأ نے ثبیتہ اور بعض نے بثینہ تحریر کیا ہے،ان کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے۔ ابو موسیٰ نے کتابتہً ابو نصر احمد بن عمر الغازی سے ، انہوں نے اسماعیل بن زاہر سے،انہوں نے خطان سے، انہوں نے عبداللہ بن جعفر بن درستویہ سے ،انہوں نے یعقوب بن سفیان سے،انہوں نے عمرو بن عون سے ،انہوں نے ابو شہاب سے ،انہوں نے حجاج بن ابی ملیکہ سے،انہوں نے محمد بن سلیمان بن ابی حثمہ سے،انہوں نے اپنے چچا سہل بن ابی حثمہ سے روایت کی،کہ انہوں نے محمد بن مسلمہ کو دیکھا،کہ وہ ثبیتہ نامی ایک عورت کی طرف جو ایک بالا خانے میں تھی،بغور دیکھ رہاتھا،انہوں نے محمد بن مسلمہ سے کہا،تم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صحابی ہو،اور ایک غیر محرم عورت کو تاڑ رہے ہو،محمد بن مسلمہ ن۔۔۔
مزید
بن امیہ بن عمرو السلمی: بنی اسد بن خزیمہ کے حلیفوں سے تھے۔ غزوۂ بدر میں شامل تھے اور جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔ ابو عمر نے مختصراً اس حدیث کی تخریج کی ہے اور نسب مالک بن امیہ بن عمرو لکھا ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں ابوجعفر نے بروایت یونس بن بکیر از ابنِ اسحاق بیان کیا ہے انھوں نے بنو کثیر بن دودان بن اسد کے ان حلیفوں کا ذکر کیا ہے، جو غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر خطاب جو حضرت عمر کی ہمشیرہ تھیں،اور سعید بن زید کی زوجہ ،ان کا نام فاطمہ تھا، ہم ان کا ترجمہ لکھ آئے ہیں،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر مجلل بن عبداور ایک روایت میں عبید بن ابی قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی ہے،انہوں نے اپنے شوہر حاطب بن حارث کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی،انکے بیٹے کا نام محمد بن حاطب تھا،ان کے شوہر حبشہ میں فوت ہوگئے ،تو زید بن ثابت نے ان سے نکاح کرلیا، ان سے بھی اولاد ہوئی اور پھر وہ ہجرت کرکے مدینے آگئیں ان کے بیٹے محمد نے ان سے روایت کی۔ ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابراہیم بن ابوالعباس اور یونس بن محمد سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن عثمان بن ابراہیم بن محمد بن حاطب سے،انہوں نے اپنی والدہ جمیل دختر محلل سے سُنا انہوں نے بیان کیاکہ تجھے حبشہ سے لے کر مدینے کو روانہ ہوئی،جب میں مدینے سے ایک دن یا دو دن کی مسافت پر تھی،تو میں نے تیرے لئے ہانڈی میں کچھ پکانا چاہا،لکڑیاں ختم ہوگئیں،تو میں تلاش میں جنگل کو نکل گئی،پک جانے پر می۔۔۔
مزید