ثبیتہ دختر نعمان بن عمرو بن نعمان بن خلدہ بن عمرو بن امیہ بن عامر بن بیاضہ، انصاریہ، خززحیہ، بیاضییہ،اس خاتون،ان کے والد اور دادا کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،بقول محمد بن سعد بعد از قبول اسلام انہوں نے حضور سے بیعت کی،ابن حبیب نے بھی ان کا سلسلۂ نسب اسی طرح بیان کیا ہے،اور انہیں بنو حججبا میں شمار کیا ہے،اور بنوبیاضہ یہ نسب مشہور ہے،کیونکہ نعمان ان کے والد کا نام تھا،اور ان کے والد کا نام عمرو تھا اور دونوں کو حضور کی صحبت نصیب ہوئی،اور وہ دونوں بنو بیاضہ سے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر قطبہ بن عامر بن جدیدہ انصاریہ از بنو سواد،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ثبیتہ دختر ربیع بن عمرو بن عدی بن جشم بن حارثہ،انصاریہ،ابو عیسیٰ بن جبر کی والدہ تھیں،بقول ابن حبیب انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر حباب بن منذر بن جموح الانصاریہ از بنو حرام،بقول ابنِ حبیب انہوں نے حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام جمیل دختر اوس مزنیہ از بنو امراء القیس،ان کا قول ہے کہ وہ حضورِ اکرم کی خدمت میں والد علی ذوائب اور قنزعہ کے ساتھ حاضر ہوئیں،ہم ان کا ذکر ان کے والد کے ترجمے میں کر آئے ہیں،یہ جعفر کا قول ہے،ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ثبیتہ دختر سلیط بن قیس انصاریہ ازبنو عدی،بقول ابن حبیب انہوں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
بن اوس بن عبداللہ بن حجر الاسلمی: انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کی اور جحفہ کے مقام سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کس کا ہے یہ اونٹ، انھوں نے عرض کیا، بنو اسلم کے ایک شخص کا ہے، فرمایا سَلَّمْتَ: بچ گئے تم، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے مالک سے اس کا نام پوچھا، اس نے عرض کیا: مسعود، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت ابوبکر کو مخاطب ہوکر فرمایا: سَعَدْتَ ان شاء اللہ: اگر خدا نے چاہا تو خوش بختی تمہارا ساتھ دے گی، میرا والد حضور اکرم کے قریب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اونٹ پر بٹھالیا، ابوعمر، ابونعیم اور ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے ۔۔۔
مزید
ام جندب ازویہ،عبدالوہاب بن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے والد سے ،انہوں نے یزید سے،انہوں نے حجاج بن ارطاہ سے،انہوں نے ابویزید مولیٰ عبداللہ بن حارث سے،انہوں نے ام جندب ازویہ سے روایت کی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،کہ کنکریاں آہستہ آہستہ پھینکو،اور ایک دوسرے کو زخمی نہ کرو،یہ ابوعمر کا قول ہے،اور ان کا کہنا ہے کہ ام جندب سے مراد ام سلیمان بن عمر و بن احوص ہیں۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے ام جندب ازویہ کا ذکر کیا ہے،لیکن ابن مندہ نے یہ نہیں لکھا،کہ اس سے مراد ام سلیمان ہیں،ہاں البتہ ابونعیم نے لکھا ہے،کہ ان کے مطابق یہ خاتون ام سلیمان ہیں،اور ان سے رمی جمار کی حدیث روایت کی،اور دونوں نے اس سندیوں بیان کی،ابویزید نے ام جندب سے، انہوں نے جندب سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں،صحیح ام۔۔۔
مزید
ام جندب دختر مسعود بن اوس انصاریہ ظفریہ،بقول ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ثبیتہ دختر یعار بن زید بن عبید بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف انصاریہ،یہ خاتون ان لوگوں میں شامل تھیں،جنہوں نے آغاز کار میں ہجرت کی تھی،اور ان کا شمار فاضل خواتین میں ہوتا تھا،یہ خاتون ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کی زوجہ تھیں،اور سالم مولی ابو حذیفہ کی آزاد کردہ کنیز تھی،انہیں آزادی کے بعد سالم نے ان کی ولایت ابو حذیفہ کو دے دی تھی،ایک روایت میں سالم کو ابو حذیفہ آزاد کردہ غلام کہا گیا ہے،اور سالم جنگ یمامہ میں مارے گئے تھے۔ اس خاتون کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،مصعب نے ثبیتہ لکھا ہے،ابو طوالہ نے عمرہ دختر یعار کہا ہے،ابن اسحاق کا قول ہے قول ہے،کہ سالم ایک انصاریہ کے آزاد کردہ غلام تھے،موسیٰ بن عقبہ نے ابنِ شہاب سے روایت کی کہ سالم بن معقل سلمی دختر تعار کے آزاد کردہ غلام تھے،لیکن ابراہیم بن منذر نے اس خاتون کا نام یعار لکھا ہے،ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید