جمعرات , 20 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 07 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ)سُنَینہ(رضی اللہ عنہا)

سُنَینہ دختر محتف بن زید نکریہ،انہیں حضورِاکرم کی صحبت نصیب ہوئی اور ان سے ایک حدیث حبہ دختر شماخ نکریہ نے روایت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کلثم( رضی اللہ عنہا)

کلثم ایک روایت میں کلیبہ ہے،دختر برثن عنبریہ ام زینب بن ثعلبہ،ابوموسیٰ نے اذناً ابو غالب سے، انہوں نےابوبکر سے(ح) ابوموسیٰ نے حسن بن احمدسے ،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے سلیمان بن احمدسے،انہوں نے محمد بن صالح بن ولید نرسی سے،انہوں نے سعد بن عمار بن شعیب بن زبیب سے سُنا،کہ انہیں کلیبہ دختر برثن عنبریہ نے بلایا اور کہا،اے بیٹے!اس شخص نے میری چادر جو میں اوڑھاکرتی تھی لے لی ہے،میں اس آدمی کے پاس گیا،اور اسے حضورِاکرم کے پاس لے گیااور عرض کیا کہ اس شخص نے میری ماں کی چادر لے لی ہے،حضور اکرم نے حکم دیا کہ واپس کردو،ابوموسیٰ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )مسیکہ( رضی اللہ عنہا)

مسیکہ ،عبداللہ بن ابی منافق کی لونڈی تھیں،ان کے اور امیمہ کے بارے میں قرآن حکیم کی یہ آیت اتری،" لاتکرھوافتیاتکم علی البغاء "ان اور تم اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو،یہ ابن ِمندہ کا قول ہے۔ ابومعاویہ نے اعمش سے،انہوں نے ابوسفیان سے انہوں نے جابر سے روایت کی،کہ امیمہ اور مسیکہ نے عبداللہ بن ابی کے خلاف حضورِ اکرم کے پاس شکایت کی،جس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ ابوالفضل بن ابوالحسن طبری فقیہ نے ابویعلی احمد بن علی سے،انہوں نے ابنِ نمیر سے،انہوں نے ابنِ ابی عبیدہ سے ،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نےاعمش سے،انہوں نے ابوسفیان سے، انہوں نے جابر سے روایت کی،کہ عبداللہ بن ابی نے اپنی لونڈی کو بدکاری پر مجبور کیا،تو کنیز نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور مذکور آیت نازل ہوئی،ابن ِمندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے،اور ہم نے معاذ کے ترجمے میں اسے زیادہ تف۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کریمہ( رضی اللہ عنہا)

کریمہ دختر حدرد سلام اسلمی،بروایتے انہیں صحبت حاصیل ہوئی،اور کریمہ درداءالکبریٰ کی والدہ تھیں،ان سے اہل ِشام نے روایت کی،ایک روایت میں ان کا نام خیرہ آیا ہے،امام بخاری کے مطابق انہیں صحبت نصیب ہوئی،بقول جعفر مستغفری یہ ابوادرداء کی زوجہ نہیں،اور یہ قول صِرف جعفری کا ہے،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کریمہ( رضی اللہ عنہا)

کریمہ دختر کلثوم حمیریہ،ابو موسیٰ نے اجازۃً ابو غالب سے ،انہوں نے ابوبکر سے،انہوں نے ابوالقاسم سے،انہوں نے محمد بن احمد جذوعی سے انہوں نے قاضی سے(ح) ابوموسیٰ نے ابوعلی سے ،انہوں نے ابونعیم سےانہوں نے عبدالجبار بن عاصم سے،انہوں نے بقیہ بن ولید سے،انہوں نے معاویہ بن یحییٰ سے ،انہوں نے سلیمان بن موسیٰ سے،انہوں نے مکحول سے،انہوں نے عفیف بن حارث سے،انہوں نے عطیہ بن بشر زمانی سے روایت کی،کہ عکاف بن وداعہ ہلالی حضورِ اکرم کے پاس آئے،آپ نے دریافت فرمایا،کیا تو نے شادی کی ہے،انہوں نے نفی میں جواب دیااور کہا، جب تک آپ کسی عورت سے نکاح نہیں کرائیں گے،میں ازخود کچھ نہیں کروں گا،فرمایا،میں اللہ کے نام پر کریمہ دختر کلثوم سے تیرا نکاح کرتا ہوں،ابونعیم اور ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )مسرہ( رضی اللہ عنہا)

مسرہ،ان کانام غبرہ تھا،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر مسرہ کردیا،ان کا ذکر اس حدیث میں ہے،جسے زید بن انیسہ نے زہر ی سے مرسلاً روایت کیا،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کریمہ( رضی اللہ عنہا)

کریمہ دختر حدرد سلام اسلمی،بروایتے انہیں صحبت حاصیل ہوئی،اور کریمہ درداءالکبریٰ کی والدہ تھیں،ان سے اہل ِشام نے روایت کی،ایک روایت میں ان کا نام خیرہ آیا ہے،امام بخاری کے مطابق انہیں صحبت نصیب ہوئی،بقول جعفر مستغفری یہ ابوادرداء کی زوجہ نہیں،اور یہ قول صِرف جعفری کا ہے،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )مزیدہ عصریہ( رضی اللہ عنہا)

مزیدہ عصریہ،سود بن عبداللہ بن سعد نے اپنی دادی مزیدہ سے روایت کی،کہ حضورنے انصار کے علَم تیار کرائے،اور ان پر زرد رنگ کرادیا،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے اُ ن کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں،کہ ابونعیم نے اس ترجمے میں مزیدہ کو خاتون بتایا ہے،لیکن خود ابونعیم اور باقی علماء نے مزیدہ کومرد شمار کیا ہے،اور مزیدہ بن جابر العصری العبدی کو ہود بن عبداللہ بن سعد کا دادا لکھا ہے،اور یہی درست ہے،اور مزیدہ کو عورت شمار کرنا وہم ہے،بخاری نے انہیں مزید ہ غفری عہدی لکھاہے اور ان کی صحبت کے قائل ہیں،اور ان سے ہود بن عبداللہ نے روایت کی،یہ بصری شمار ہوتے ہیں،ابوعروبہ حرانی اور ابوعمرو وغیرہ نے اسی طرح ان کا ذکر کیا ہے،ابوموسیٰ نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور تحریر کیا کہ مزیدہ مرد کا نام ہے،خاتون کا نام نہیں،واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )معاذہ غفاریہ( رضی اللہ عنہا)

معاذہ غفاریہ،ابو موسیٰ نے کتابتہً ابوسعد بن عبداللہ معدانی سے،انہوں نے ابو حسین بن ابو قاسم سے،انہوں نے احمد بن موسیٰ سے،انہوں نے محمد بن علی سے،انہوں نے جعفر بن احمد بن رزین سے،انہوں نے یعقوب دورتی سے،انہوں نے یعلی بن عبید سے،انہوں نے حارثہ بن ابوالرجال سے،انہوں نے عمرہ سے روایت کی کہ انہیں معاذہ غفاریہ نے بتایاکہ میں ایک بار آپ کا ساتھ دینے کے لئے تاکہ مریضوں کی عیادت اور زخمیو ں کی مرہم پٹی کرسکوں،حضرت عائشہ کے حجرے میں حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی،میں اندر داخل ہوئی تو حضرت علی نکل رہے تھے،میں نے حضور اکرم کو فرماتے سُنا،"اے عائشہ!علی مجھے سب آدمیوں سے زیادہ عزیز اور مکرم ہے،تُواس کے حق کو پہچان،اور جب تیرے پاس آئےتو احترام سے پیش آ"،راوی نےاس حدیث کو حضرت علی کی عبادت گزاری کے پیش نظر بیان کیا ہے،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )خیرہ( رضی اللہ عنہا)

خیرہ دختر ابو حدردجودرداء الکبری کی والدہ تھیں،ایک روایت میں ان کا نام ہجمہ تھا،اور ابوالدردا کی زوجہ تھیں،ان کی حدیث کو سہل بن معاذ نے اپنے والد صفوان بن عبداللہ اور عبداللہ بن باباہ سے،انہوں نے ابومحمد ابوالقاسم دمشقی سے ،انہوں نے والدسے ،انہوں نے والد سے،انہوں نے ابو منصور محمود بن احمد بن عبدالمنعم سے،انہوں نے ابو علی حسن بن عمر بن حسن بن یونس سے،انہوں نے ابوعمر قاسم بن جعفر سے،انہوں نے ابوہاشم عبدالفافر بن سلامہ سے،انہوں نے یحییٰ بن عثمان سے،انہوں نے محمد بن حمیر سے،انہوں نے اسامہ بن سہل سے،انہوں نے اپنے والد سےروایت کی انہوں نے ام الدرداء سےسُنا، کہ میں نہا کر حمام سے نکلی،کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سامنا ہوگیا،دریافت فرمایا کہاں سے آرہی ہو،عرض کیا حمام سے،فرمایا،تم میں سے جو عورت بھی کسی غیر کے گھر میں کپڑے اتارتی ہے،بخدا وہ ان تمام حجابات کو۔۔۔

مزید