جمعرات , 20 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 07 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )خولہ( رضی اللہ عنہا)

خولہ دخترِ عاصم،ہلال بن امیہ کی زوجہ تھیں،انہوں نے اپنے خاوند سے لعان کا ذکر کیا تھا،اور حضورِ اکرم نے دونوں میں علیحدگی فرمادی،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )خولہ( رضی اللہ عنہا)

خولہ دختر عبداللہ انصاریہ،بصری شمار ہوتی ہیں،رقیہ دختر سعد نے اپنی دادی خولہ سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو فرماتے سنا،"انسان میل کچیل ہے،مگر انصار ایک سایہ دار درخت ہیں،اے اللہ! تو انصار کو معاف کر اور ان کے بیٹوں اور پوتوں کو معاف کر"۔اس کے بعد جناب خولہ نے کہا،میرا اندازہ ہے کہ حضورِ اکرم کی اس دعا سے مجھے بھی حِصہ ملے گا،تینوں نے ذکر کیا ہے،لیکن بقولِ ابو عمر اس کے اسناد میں شبہے کی گنجائش ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )مطیعہ( رضی اللہ عنہا)

مطیعہ دختر نعمان بن مالک انصاریہ ازبنوعمروبن عوف،ان کا نام عاصیہ تھا،حضورِ اکرم نے بدل دیا، بقولِ ابن ِحبیب انہیں بیعت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )خولہ( رضی اللہ عنہا)

خولہ دختر یمان عبیسہ،حذیفہ بن یمان کی ہمشیر ہ تھیں،یحییٰ نے کتابتہً باسنادہ ابن ابی عاصم سے ،انہوں نے صلت بن مسعود سے،انہوں نے علی بن ثابت سے،انہوں نے وازع سے،انہوں نے نافع سے،انہوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے خولہ دختر یمان سے روایت کی ،حضورِ اکرم نے فرمایا،عورتوں کے اجتماع میں کوئی بھلائی نہیں،سوائے اس کے جب وہ کسی میت پر جمع ہوتی ہیں،تو بے تحاشہ باتیں کرتی ہیں۔ ربعی بن خراش اپنی زوجہ سے،انہوں نے حذیفہ کی ہمشیر ہ سے روایت کی،کہ ایک بار حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبے کے لئے کھڑے ہوئے،اور حمد و ثناء کے بعد فرمایا،اے خواتین،چاندی کے زیور جو تم پہنتی ہو، اس میں کوئی حرج نہیں،لیکن وہ خواتین جن کے پاس سونے کے زیور ہیں،اور وہ ان کی نمائش کرتی ہیں انہیں ضرور جہنم میں عذاب دیا جائے گا،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )نعامہ( رضی اللہ عنہا)

نعامہ جو بنوعنبر کے جنگی قیدیوں سے تھیں،خوبصورت خاتون تھیں،آپ ان سے نکاح کرنا چاہتے تھے کہ ان کا شوہر حریش پہنچ گیا،ابنِ دباغ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )خولہ( رضی اللہ عنہا)

خولہ دختر اسود بن حذافہ،ان کی کنیت ام حرملہ خزاعیہ تھی،موسیٰ بن عقبی نے ابن شہاب سے بہ سلسلہ مہاجرین حبشہ از بنو عبدالدرجہیم بن قیس بروایتے جہم کا نام لیا ہے،ان کے ساتھ ان کی بیوی خولہ دختر اسود بن حذافہ بھی تھیں، جن کا نام تو ابن عقبہ نے لیا ہے،لیکن ان کی کنیت بیان نہیں کی،ابن اسحاق نے کنیت تو لکھ دی ہے،لیکن نام نہیں لِکھا ،چنانچہ وہ ان کا ذکر یوں کرتے ہیں،ام حرملہ دختر عبدالاسود بن حذیمہ بن قیس بن عامر بن بیاضہ بن سبیع بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن خزاعہ،اس خاتون نے اپنے خاوند کے ساتھ ہجرت کی تھی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )خولہ( رضی اللہ عنہا)

خولہ رضی اللہ عنہا دختر حکیم انصاریہ،طبرانی نے اس خاتون اور خولہ دختر حکیم السلمیہ کے درمیان جو عثمان بن مظعون کی بیوی تھی،فرق کیا ہے،ابو موسیٰ نے اذناً ابو غالب کو شیدی سے، انہوں نے ابوبکر بن ریدہ سے(ح) ابو موسٰی نے حسن بن احمد سے انہوں نے ابو نعیم سے،انہوں نے سلیمان سے،انہوں نے علی بن عبدالعزیز سے،انہوں نے مسلم بن ابراہیم سے،انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے عطا ءخراسانی سے،انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے خولہ دختر حکیم سے روایت کی،کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا،یا رسول اللہ !کبھی عورت بھی خواب میں کچھ دیکھتی ہے،جو مرد دیکھتا ہے،فرمایا!اگر ایسی صورت پیش آئے ،تو غسل کرلینا چاہئے، اسماعیل بن عیاش نے عطاء سے اور ثوری نے علی بن زید سے،انہوں نے سعید سے روایت کی،ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )نعم( رضی اللہ عنہا)

نعم شماس بن عثمان بن شرید مخزومی کی زوجہ تھیں،ایک روایت کے مطابق حسان کی بیٹی تھیں،ابنِ اسحاق نے ان کے شوہر کے سوگ میں ،جو غزوۂ احد میں مارے گئے تھے،ذیل کے اشعار کہے ہیں۔ (۱)یَاعَینٌ جَودِی بِدَمعٍ غَیر اِبسَاس عَلٰی کَرِیمِ مِنَ الفِتیَالِبَاسٖ (ترجمہ)اےآنکھ !آہستہ آہستہ آنسو،اس جواں مرد پر بہاؤ،جو جوانوں میں کثیراللباس تھا۔ (۲)صَعبُ البَدِیھَۃِ مَیمُونٌ نَقِیبَتَہٗ حَمَّال اَلوِیَہٗ رُکَابُ اُفرَاسٖ (ترجمہ)وہ اچانک سخت حملہ کرنے والاہےاور وہ نجیب الفطرت ہے اور اس کے علم کو اٹھانے والے بڑے بڑے شاہ سوار ہیں۔ (۳)اَقُولُ لَمَّااَنَّ النَّاعِی لَہٗ جَزعاً اَردِی الجَوَّادُوازدی اَلمُطِعمُ الکَاسِی (ترجمہ)جب اس کی موت کی اطلاع دینے والا آیا،تو میں نے آہ وزاری کرتے ہوئے کہا،آہ سخاوت اور لوگوں کو کھلانے پلانے والاہلاک ہوگیا۔ (۴)وَقُلتُ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )خویلہ( رضی اللہ عنہا)

خولہ اور بروایتے خویلہ دختر حکیم بن امیہ بن حارثہ بن اوقص بن مرہ بن ہلال بن فالح بن ذکوان بن ثعلبہ بن بہثہ بن سلیم السلمیہ،جو عثمان بن مظعون کی بیوی تھیں،اور یہ وہ خاتون ہے،جس نے اپنا نفس حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ہبہ کردیا تھا اور یہ ایک پارسا خاتون تھیں،ان سے سعد بن ابی وقاص نے ،سفر میں کسی مقام پر اترنے کے بارے میں ایک حدیث روایت کی تھی۔ عبداللہ بن احمد خطیب نے ابوبکر بن بدران حلوانی سے،انہوں نے ابو محمد عبداللہ بن عبیداللہ بن یحییٰ سے ،انہوں نے حسین بن اسماعیل محاملی سے،انہوں نے ابراہیم بن ہانئی سے،انہوں نے عبداللہ بن صالح سے ،انہوں نے لیث بن سعد سے،انہوں نے یزید بن ابوحبیب سے،انہوں نے حارث بن یعقوب بن عبداللہ سے ،انہوں نے بشر بن سعید سے،انہوں نے سعد بن ابی وقاص سے،انہوں نے دختر حکیم سے روایت کی،کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا،جو آدمی سفرمیں کسی منزل پر ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )خولہ( رضی اللہ عنہا)

خولہ دختر ہذیل بن ہمبیرہ بن قبصیہ بن حارث بن حبیب بن حُرفہ بن ثعلبہ بن بکر بن حبیب،بن غنم،بن تغلب تحلبیہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے نکاح کیا،مگرحضور تک آنے سے پہلے وفات پاگئیں،یہ حرجانی کا قول ہے،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید