پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ)سُرّی(رضی اللہ عنہا)

سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔

مزید

(سیّدہ )کعیبہ( رضی اللہ عنہا)

کعیبہ دخترسعید اسلمیہ،حضوراکرم کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شریک تھیں،مالِ غنیمت سے انہیں حضورِ اکرم نے ایک مرد کے حِصے کے برابر عطاکیا،یہ واقدی کی روایت ہے،ابو عمر نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہزیلہ( رضی اللہ عنہا)

ہزیلہ دختر مسعود بن زید انصاریہ،از بنو حرام،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہزیلہ( رضی اللہ عنہا)

ہزیلہ دختر ثابت بن ثعلبہ بن جلاس انصاریہ،بقولِ ابنِ حبیب انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہزیلہ( رضی اللہ عنہا)

ہزیلہ دختر سعید بن سہل بن مالک بن کعب،ان کا تعلق انصار کے بنودینار سے ہے،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ہزیلہ( رضی اللہ عنہا)

ہزیلہ دخترعمرو بن عتبہ بن خدیج بن عامر بن حشم بن حارث بن خزرج،یہ خاتون سعد بن ربیع کی والدہ ہیں،بقول ابنِ حبیب اور ابن ماکولا انہوں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )حزمہ( رضی اللہ عنہا)

حزمہ دختر قیس فہریہ،جو فاطمہ دختر قیس کی بہن تھیں،ان سے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل نے نکاح کیا،اور ان سے اولاد ہوئی،ان کی حدیث زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی،تینوں نےذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )بہیہ( رضی اللہ عنہا)

بہیہ،انہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،اس خاتون نے اپنے والد سے روایت کی،کہمس بن حسن نے سیار بن منظورسے،انہوں نے اپنی والدہ سے انہوں نے ایک خاتون بہیہ سے روایت کی کہ ان کے والد نے حضورِ اکرم سے درخواست کی کہ انہیں اجازت دی جائے ،کہ وہ آپ کے کُرتے میں داخل ہو جائیں،آپ نے اجازت دے دی،اور انہوں نے پچھلی طرف سے آپ کا کُرتہ اٹھا کر اپنے سینے کو حضور کی پیٹھ مبارک سے رگڑا،اور دریافت کیا،یا رسول اللہ! کونسی چیز ہے جسے روکے رکھنا حرام ہے،فرمایا ،پانی اور نمک اس کے بعد انہوں نےکبھی ان دو چیزوں کو نہیں روکا،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )بجیدہ( رضی اللہ عنہا)

بجیدہ،ان کا ذکر ابن خیثمہ کی حدیث میں آیاہے،جو انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے یزید بن ہارون سے،انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے المقری سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن بجیدہ سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی،کہ حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا،تم سائل کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ ضرور رکھو،خواہ وہ روٹی کا جلَا ہوا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو،ابن ابی خثیمہ نے ان کا نام بجیدہ لکھا ہے،حالانکہ وہ ام بجید ہیں،ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )بریرہ( رضی اللہ عنہا)

بریرہ،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ کنیز تھیں،بریرہ اولاً بنو ہلال کی لونڈی تھیں،ایک روایت میں ابو احمد بن حجش کا نام مذکور ہ،ایک روایت میں بنو انصار میں سے کسی کی لونڈی تھیں،انہوں نے انہیں زرفدیہ پر آزاد کرنا قبول کرلیا،چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خرید کر انہیں آزاد کردیا۔ ابو اسحاق بن محمد فقیہہ وغیرہ باسناد ہم ابو عیسٰی سے،انہوں نے بندار سے،انہوں نے ابن مہدی سے،انہوں نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے،انہوں نے ابراہیم سے،انہوں نے اسود سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہاسے،روایت کی کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا،لیکن انہوں نے ولاء کی شرط پیش کی،حضور نے فرمایا،ولاء اس شخص کی ہوگی،جو قیمت ادا کریگا یا جسے تصرّف حاصل ہو۔ ان کے خاوند کا نام مگیث تھا،اور وہ بھی غلام تھا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دے دیا، چنانچہ اس نے خاوند سے عل۔۔۔

مزید