اتوار , 16 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 03 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر ابی بن صعصعہ انصاریہ از بنو مازن،بقولِ ابن حبیب انہو ں نے آپ سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر ابی ابنِ سلول ہمشیرۂ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین،ایک روایت میں انہیں عبداللہ بن ابی کی بیٹی کہا گیا ہے،جو غلط ہے،یہ خاتون حنظلہ بن ابو عامر غسیل الملا ئکتہ کی زوجہ تھی،خاوند غزوۂ احد میں مارا گیا،تو اس نے ثابت بن قیس بن شماس سے نکاح کر لیا،مگر اس سے علیحدہ ہوگئی،اور اسے ترک کردیا،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں بُلا کر اس نفرت کی وجہ دریافت فرمائی،خاتون نے گزارش کی،یارسول اللہ،مجھے اس سے کوئی نفرت نہیں، لیکن ہمارا ایک خون اس کے ذمہ ہے،آپ نے دریافت فرمایا،کیا تو اس کا باغیچہ لوٹانے کو تیار ہے،انہوں نے آمادگی ظاہر کی،تو آپ نے تفریق کر دی،اس کے بعد مالک بن دخشم سے نکاح کرلیا،اس کے بعد حبیب بن اساف کے نکاح میں آئیں، تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ابو عمر لکھتے ہیں کہ بصریوں نے ان کا یہی نام لکھا ہے،لیکن مدنیوں نےاس خاتون کا نام حبیبہ دختر سہل ا۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر ابو جہل مخزومیہ،ایک روایت میں جویریہ مذکور ہے،انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی، ان کے شوہر نے ان سے روایت کی،کہ ایک بار رسولِ اکرم ان کے پاس سے گزرے،اور آپ نے پینے کو پانی طلب فرمایا،تو انہوں نے پانی پیش کیا،آپ نے فرمایا،میری اُمت کا بہتر زمانہ وہ ہے جس میں مَیں ہوں،پھر جو اس کے بعد آئیں گے،اور پھر جو اس کے بعد آئیں گے،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیل دخترِ سعد بن ربیع انصاریہ ،ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،اور حضور سے حدیث روایت کی،ان سے ثابت بن عبید انصاری نے روایٔت کی،کہ ان کے والد اور چچا غزوۂ احد میں قتل ہوگئے اور ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے،یہ خاتون زید بن ثابت کی زوجہ تھیں،ثابت بن عبید سے مروی ہے کہ وہ ایک دفعہ جمیل دختر سعد بن ربیع کے گھر گئے،تو انہوں نے انہیں کھجوریں پیش کیں،انہوں نے جناب جمیلہ سے پوچھا،کیا یہ کھجوریں تمہیں اپنے والد کی میراث سے ملی ہیں،خاتون نے جواب دیا،نہیں،اس وقت تک وراثت کا حکم نازل نہیں ہؤا تھا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیل دختر ثابت بن ابوالاقلح انصاریہ،عاصم بن ثابت کی ہمشیرہ اور عمر بن خطاب کی زوجہ تھیں،ان کی کنیت ام عاصم تھی،عاصم ان کا بیٹا تھا حماد بن سلمہ نے عبیداللہ بن عمر سے،انہوں نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر سے روایت کی کہ اس خاتون کا نام عاصیہ تھا،جب اسلام لائیں ،تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جمیلہ بنادیا،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ساتویں سال ہجری میں نکاح کیا،اور ان کے بطن سے عاصم پیدا ہوئے،بعد میں انہوں نے بیوی کو طلاق دے دی،اور اس سے یزید بن حارث نے نکاح کرلیا،اور اس سے عبدالرحمٰن نامی بیٹا پیدا ہوا،جو عاصم کا اخیانی بھائی تھا،یہ وہی خاتون ہے جس کے بارے میں روایٔت ہے کہ ایک بار حضرت عمر قبا سے سواری پر گزرے،وہاں انہوں نے عاصم کو کھیلتے دیکھا،تو اسے اٹھا کر اپنے آگے بٹھالیا،اس کی دادی شموس دختر ابو عامر نے دیکھ لیا ،تو لڑنے لگ گئی،معاملہ حضرت ابو بکر رضی ا۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر سنان بن ثعلبہ بن عامر بن مجدعہ بن جشم بن حارثہ انصاریہ اوسیہ بقولِ ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر عمر بن خطاب،حماد بن سلمہ نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابنِ عمر سے روایت کی ، کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک لڑکی کا نام عاصیہ تھا،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے جمیلہ بنا دیا،غسانی نے ابو عمر پر استدراک کرتے ہوئے اسی طرح لکھا ہے،لیکن یہ غلط ہے، کیونکہ جو جمیلہ عمرو کی بیوی تھی،وہ ثابت کی بیٹی تھی،اور اس کا نام عاصیہ تھا،جسے سرورِ کائنات نے جمیلہ بنا دیا تھا،اور جس کا ذکر پیشتر ازیں حماد بن سلمہ کی روایت سے گزرچکا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر زید بن صیفی بن عمرو بن جشم بن حارثہ انصاریہ،یہ خاتون علیہ بن زید کی ہمشیرہ تھیں، انہیں حضور کی صحبت نصیب ہوئی،ہم ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ دختر زید بن صیفی بن عمرو بن جشم بن حارثہ انصاریہ،یہ خاتون علیہ بن زید کی ہمشیرہ تھیں، انہیں حضور کی صحبت نصیب ہوئی،ہم ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )جمیلہ( رضی اللہ عنہا)

جمیلہ بروایتے خولہ یا خویلہ،اوس بن صامت کی بیوی تھیں،ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ ابو داؤد سے، انہوں نے ہارون بن عبداللہ سے ،انہوں نے محمد بن فضل سے،انہوں نے حماد بن سلیمہ سے ، انہوں نے ہشام بن عروہ سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے جناب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی،کہ اوس بن صامت میں خفیف سا جنون کا عارضہ تھا،جب مرض میں شدت پید اہوئی،تو اوس نے بیوی سے ظہار کرلیا،چنانچہ اسکے بارے میں ادائے کفارہ کی آیت نازل ہوئی،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید