جمرۃ دختر عبداللہ تمیمہ یربو عیہ از بنو یریوع بن حنظلہ بن مالک بن زید مناۃ بن تمیم،یہ کوفی تھیں،عطوان بن مشکان نے جمرہ دختر عبداللہ یربوعیہ سے روایت کی،کہ ان کے والد انہیں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے،اور آپ نے میرے لئے برکت کی دعا کی،اور مجھے اپنی گود میں بٹھایا،اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
جمرہ دختر نعمان عدویہ،واقدی نے شعیب بن میمون مخزومی سے،انہوں نے ابو مرابتہ البلوی سے ، انہوں نے جمر ہ سے روایت کی، کہ انہیں حضورِ اکرم کی صحبت نصیب ہوئی،آپ نے فرمایا،کہ بال اور خون مٹی میں دبا دیئے جائیں،ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
جمرہ دختر قحافہ کندیہ،کوفی شمار ہوتے ہیں،شبیب بن غرقدہ نے جمرہ دخترِ قحافہ سے روایت کی،کہ وہ حجتہ الوداع میں ام المومنین ام سلمہ کے ساتھ تھیں،انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے سُنا،یا امتاہ (اے میری امت) کیا میں نے خدا کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے،یہ سُن کر جناب ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نے کہا،حضور اکرم اپنی والدہ کو کیوں بُلا رہے ہیں،جناب ام سلمہ نے کہا،حضور نبیٔ کریم اپنی امت سے خطاب فرمارہے ہیں،اے لوگو! تمہارے مال،عورتیں اور خون تم پر اس طرح حرام کردئے ہیں،جس طرح آج کا دن،اس شہر میں اور اس مہینے میں قابلِ احترام بنا دیا گیا ہے،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے،لیکن ابو عمر کہتے ہیں کہ اس حدیث کا اسناد ناقابلِ اعتماد ہے۔ ۔۔۔
مزید
شفاءدخترِعوف،ہمشیرہ عبدالرحمٰن بن عوف،انہوں نے اپنی ہمشیرہ عاتکہ کے ساتھ ہجرت کی۔ ۔۔۔
مزید
جثامہ مزتیہ،عمر بن محمد بن طبرزد نے ابن البناء سے انہوں نے ابو محمد جوہری سے انہوں نے ابوبکر بن مالک سے انہوں نے محمد بن یونس سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے صالح بن رستم سے،انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے جناب عائشہ سے روایٔت کی،کہ ایک بڑھیا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملنے آئی،پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا جثامہ،آپ نے فرمایا جثامہ نہیں،بلکہ حضانہ،پھر فرمایا،کہو ،تم لوگوں کا کیا حال ہے ،ہمارے بعد تم پر کیا بیتی،اس نےجواب دیا،خیریت ہی رہی یا رسول اللہ۔ جب وہ عورت چلی گئی،تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ،یا رسول اللہ!آپ اس عورت سے بڑی مہربانی سے پیش آئے،فرمایا،یہ بڑھیا بزمانہ خدیجہ ہم سے ملنےآیا کرتی تھی،اور عہد کی پاسداری ایمان کی شرط ہے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے اس عورت سے حضانہ کی بجائے حسانہ فرمایا تھا،ابو موسیٰ نے ذکر کیا۔۔۔
مزید
جسرہ دختر وجاجہ،عشام بن علی نے قدامہ سے،انہوں نے جسرہ سے روایت کی کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے دن کسی آدمی نے پہاڑ کے اوپر سے جھانک کر آواز دی،کہ اے اہلِ وادی جس شخص کو تم نبی مانتے تھے وہ فوت ہوگئے ہیں،اور تمہارا دین بالکل ازکار رفتہ ہوگیا ہے،ہم نے اسے شیطان کی آواز سمجھا،مگر بعد میں معلوم ہوا،کہ آپ وفات پا گئے ہیں،اس خاتون نے ابوذر سے روایت کی۔ یعیش بن صدقہ بن علی باسنادہ احمد بن شعیب سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید القسطان سے،انہوں نے قدامہ بن عبداللہ سے، انہوں نے جسرہ دخترِ وجاجہ سے روایت کی کہ انہوں نے ابوذر کو کہتے سُنا،کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک رات نماز میں کھڑے ہوئے،اور صبح تک صرف اس آیت کو باربار پڑھتے رہے،اِن تُعَذِّ بھُم فَاِنھُم عِبَادُک وَاَن تَغفِرلَھُم فَاِنَّک اَنتَ العَزِیزُالحَکِیمِ،ابو مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذ۔۔۔
مزید
ان کا ذکر کیا ہے۔مندوس دختر خلاد بن سوید ثعلبہ انصاریہ،خزرجیہ،بقولِ ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکر م سے بیعت کی۔ مندوس دخترِعمرو بن لوذان بن عبدود انصاریہ ہمشیرۂ منذر بن عمرو اور مسلمہ بن مخلد کی والدہ،بقولِ ابنِ حبیب انہوں نے حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
جویریہ دخترِ مجلل،ان کی کنیت ام جمیل تھی،اور کنیت ہی سے مشہور تھیں،ان کے نام کے متعلق اختلاف ہے، حاطب بن حارث کی زوجہ تھیں،ہم کنیتوں میں پھر ان کا ذکر کریں گے۔ ۔۔۔
مزید
جذامہ دخترِ حارث،ہمشیرہ حلیمہ جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رضاعی ماں تھیں،ہم حلیمہ ترجمے میں ان کا نسب بیان کریں گے،شیما ان کا لقب نہیں تھا،کیونکہ شیما حضور کی رضاعی بہن تھیں نہ کہ خالہ۔ ۔۔۔
مزید
جذامہ دختر وہب الاسدیہ،از بنو اسد بن خزیمہ،انہوں نے مکے میں اسلام قبول کیا،اور اپنے آدمیوں کے ساتھ مدینے کو ہجرت کی، ان کے شوہر کا نام انیس بن قتادہ بن ربیعہ بن عمرو بن عوف تھا،حضرت عائشہ نے ان سے روایت کی۔ ابوالفرج بن ابو الرجا اور یاسر بن ابو جہہ نے باسنادہما مسلم بن حجاج سے،انہوں نے سعید بن ابو ایوب سے،انہوں نےابوالاسود سے،انہوں نے عروہ سے انہوں نے جناب عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے جذامہ سے روایت کی کہ وہ حضور کی ایک مجلس میں کچھ مردوں کے ساتھ موجود تھیں،حضور ِ اکرم فرما رہے تھے،میں چاہتا تھا کہ حاملہ عورت کو منع کردوں کہ وہ بچے کو دودھ نہ پلائے،لیکن میں نےدیکھا،کہ ایران اور روم میں حاملہ عورتیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں اور ان کے بچوں پر اس کا کوئی نقصان دہ اثر مرتب نہیں ہوتا،تو میں رُک گیا،پھر صحابہ نے عزل کے بارے میں دریافت کیا،فرمایا،یہ سلسلہ بھی ایک لحا۔۔۔
مزید