ابوکبیرہذلی رضی اللہ عنہ شاعر:ابویقظان سے مروی ہے،کہ ابوکبیراسلام قبول کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے،اورگزارش کی کہ انہیں زناکی اجازت دی جائے،فرمایا،کیاتم دوسروں کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ اس کی اجازت دوگے،کہا نہیں،فرمایا،جوچیزتم دوسروں کے لیے جائز خیال کرتے ہواپنے لیے کیوں درست نہیں سمجھتے،اس پر حسان بن ثابت نے ذیل کے دواشعار کہے۔ ۱۔سالت ھذیل رسول اللہ فاحشتہ ضلت ھذیل بماسالت ولم تصب (ترجمہ)بنوہذیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بدکاری کی درخواست کی،مگربنوہذیل نے جو درخواست کی،اس میں وہ بھٹک گئےاورراستی سے دورجاپڑے۔ ۲۔سألوانبیھم مالیس معطیم حتی الممات و کانواعرۃ العرب (ترجمہ)انہوں نے اپنے نبی سےایسی چیزکی اجازت مانگی،جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں زندگی بھر نہیں دے سکتے تھےاوریہ لوگ عرب کے لیے باعثِ۔۔۔
مزید
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ:انماربنومذحج سے ہے،ابن عیسیٰ نے تاریخ حمص میں ان صحابہ کا ذکر کیاہے،جووہاں آگئے تھے،انہوں نے ابوکبشہ کوانماری لکھاہےاوران کے بارے میں لوگوں نے ہم سے اختلاف کیاہے،بعض کاقول ہےکہ وہ انمارِغطفان سے تھے،بعض کہتے ہیں کہ وہ بنو لخم سے تھے،ابواحمدعسکری انہیں انماربن بغیض بن ریث بن غطفان سے منسوب کرتے ہیں،ابن ابی عاصم انہیں انماربن اراش بن عمروبن غوث سے بتاتے ہیں۔ اسی طرح ان کے نام میں بھی اختلاف ہے،بقول خلیفہ ان کا نام سعد بن عمروتھا،ابونعیم نے ان کا نام سلیم بتایاہے۔ ابوکبشہ سے عمروبن رؤبہ اورسالم بن جعدنے روایت کی ہے،اسماعیل بن عیاش نے عمروبن رؤبہ سے،انہوں نے ابوکبشہ انماری سے روایت کی کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا،کہ تم میں بہترآدمی وہ ہے،جواپنے اہل وعیال سے حسنِ سلوک سے پیش۔۔۔
مزید
ابوکبشہ رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،تمام غزوات میں شامل رہے،ابوجعفرنے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلہ شرکائے غزوۂ بدرازبنوہاشم ابوکبشہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرکیاگیاہے،نیزموسیٰ بن عقبہ نےانہیں بدریوں میں شمارکیاہے، ابنِ ہشام کے مطابق وہ اہلِ فارس سے تھے،ان کے علاوہ بعض اورلوگوں کا خیال ہے،کہ وہ دوس کے باشندے تھے،ایک روایت کے مطابق ان کا مولد مکہ تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خرید کرآزادکردیاتھا،بقول ابوعمران کا نا م سلیم تھا،ان کی وفات تیرہ سال ہجری میں اس دن ہوئی،جس دن حضرت عمررضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے،ایک روایت کی رُوسےان کی وفات تیرہویں سال ہجری میں بہ خلافت عمررضی اللہ عنہ اس دن ہوئی جس دن عمروبن زبیرپیداہوئے،ہم سلیم کے ترجمے میں پیشترازیں بیان کرآئے ہیں،تینوں نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوکلاب رضی اللہ عنہ بن ابوصعصتہ انصاری مازنی،وہ اوران کے بھائی جابر بن ابوصعصعتہ غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے تھے،یہ دونوں حارث اورقیس پسران ابوصعصعتہ کے بھائی تھے،ابوعمرنے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوکلیب الجہنی رضی اللہ عنہ:ان کی اولادان کی حدیث کی راوی ہے،یہ حجازی شمارہوتے ہیں،واقدی نے محمد بن مسلم سے،انہوں نے عثیم بن کلیب الجہنی سے،انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے داداسےروایت کی،انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوغروبِ آفتاب کے بعدعرفہ سے نکلتے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصدمزدلفہ میں جلتی آگ تک پہنچناتھا،چنانچہ آپ اس کے بائیں طرف اُترے،ابونعیم اورابوموسیٰ نے ذکرکیاہے،ابوموسیٰ کہتے ہیں،ابونعیم نے بھی ان کا ذکراسی طرح کیاہے،جیساکہ اس اسناد میں مذکورہے،حالانکہ راوی عثیم بن کثیربن کلیب ہے نہ کہ ان کے والد،ابوعمرنے بھی مختصراًان کاذکرکیاہے،اورلکھاہےکہ بعض لوگوں نے انہیں صحابی لکھاہے، لیکن میں ان سے ناواقف ہوں۔ ۔۔۔
مزید
ابوکریمہ رضی اللہ عنہ:ایک روایت میں ان کا نام مقدام بن معدیکرب ہے،ابوموسیٰ نے اذناً ابوطاہر یحییٰ بن ابوالفضل المحاملی سےمکہ میں،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابوالحسین بن بشران سے،انہوں نے ابوالحسین جوزی سے،انہوں نے عبداللہ بن محمدبن عبیدسے،انہوں نے خلف بن ہشام البزازسے،انہوں نے ابوعوانہ سے،انہوں نے منصورسے،انہوں نے شعبی سے، انہوں نے ابوکریمہ سےروایت کی،مہمان کی شب بسری کا بندوبست ہرمسلمان پر ضروری ہے،اگر وہ دوسری صبح بھی اسی میزبان کے پاس گزارے،تویہ اس پر قرضہ ہوگا،میزبان چاہے تووصول کرے،اورچاہے توترک کردے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوکثیر رضی اللہ عنہ،بنوتمیم الداری کے آزادکردہ غلام تھے،ابوبشردولابی نے ابن اسحاق بن سوید الرملی سے،انہوں نے عبیداللہ بن عبدالملک بن ابی کثیرسے روایت کی ،کہ انہوں نے سوبرس زندگی پائی تھی،وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے تمام بن وہب یسح بن اصبح داریین سے سنا،ان دونوں نے عبدالملک بن ابی کثیرسے،جوتمیم الداری کے مولیٰ تھے،انہوں نے ابن کثیرسے سُنا،کہ وہ بنوتمیم کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےاورمیں لڑکاتھا،پھرانہوں نے حدیث بیان کی،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوکثیر رضی اللہ عنہ صحابی تھے،ان سے مروی ہے ،کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمرکے پاس سے گزرے،اورانہوں نے اپنی ران ننگی کی ہوئی تھی،اسے مسلم زنجی نے علاءبن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوکثیرسے روایت کیا،لیکن یہ غلط ہےاورصحیح وہ ہے،جواسماعیل بن جعفرنے علاء سے، انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے ابوکثیرسے،جومحمدبن حجش کے مولیٰ تھے،انہوں نے محمد بن حجش سےروایت کی کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمرکے پاس سے گزرے،اورانہوں نے ران ننگی کی ہوئی تھی۔ ابنِ مندہ کہتے ہیں،کہ ابوکثیرتابعی ہیں اورجس نے انہیں صحابی قراردیاہے،وہ غلطی پر ہے،ابواحمد عسکری کاقول ہے کہ ان کی ولادت حضورکے زمانے میں ہوئی،ابنِ مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخالد الحارث بن قیس بن خالد(ایک روایت میں خلدہ ہے)بن مخلد بن عامر بن زریق الانصاری زرقی،بیعت عقبہ کے علاوہ تمام غزوات میں حضورِ اکرم کے ساتھ شریک رہے۔ عبیداللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے ،انہوں نے ابن اسحاق سے،بہ سلسلۂ شرکائے عقبہ از انصار اور بنوزریق حارث بن قیس بن خالد بن مخلدسےاوراسی اسنادسے ازابن اسحاق دربارۂ شہدائے بدر ابو خالد کا نام جوحارث بن قیس بن خالد بن مخلد ہیں،مذکور ہے،بعدہٗ ابوخالد،خالد بن ولید کے معرکۂ یمامہ میں شامل تھے،اس جنگ میں ابوخالد زخمی ہوگئے تھے،بعد میں زخم مندمل ہوگیاتھا،مگر حضرت عمر کے دَورِ خلافت میں زخم پھر کھل گیا،جس سے ان کی موت واقع ہوگئی،اسی وجہ سے انہیں شہدائے جنگ یمامہ شمارکیا جاتا ہے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخالد الحارثی از بنوحارث بن سعد ابراہیم بن بکیر البلوی نے بُشَیر بن ابی قسمہ السلامی سے،انہوں نے ابوخالد الحارثی سے جو بنوحارث بن سعد تھے روایت کی کہ وہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایسے موقعہ پر حاضرہوئے کہ آپ غزوۂ تبوک کی تیاری میں مصروف تھے،ہم آپ کے ساتھ ہولئے،تاآنکہ آپ کے مقام حجر جو ارضِ ثمود میں واقع ہے،کیمپ کیا،آپ نے ہمیں ان کے مکانوں میں داخل ہونے اور ان کے چشموں سے انتفاع سے منع فرمادیا،اس کے بعد ان پہاڑوں میں گھومنے کو چل دیئے،وہاں آپ نے اس کے دو کناروں کا عکس ایک تالاب میں دیکھا،حضورِ اکرم نے دریافت فرمایا،یہ کون ساپہاڑ ہے،صحابہ نے عرض کیا ،اس کانام اَجأَ ہے،فرمایا مجھے اس سے ڈرآتا ہے،خدااسے برباد کرے،ابراہیم کہتے ہیں،مجھے بھی اس سے خطرہ محسوس ہوتارہااس کے بعد آپ تبوک میں تشریف فرماہوئے،وہاں رومیوں کا ایک مسل۔۔۔
مزید