ابوالحصین السلمی،بقول طبری حضوراکرم کے خدمت میں اپنی کا ن کا سونا لئے حاضر ہوئے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالحصین السدوسی،ان کی حدیث نعیم نے اپنے والد سے،انہوں نے چچاسے روایت کی،ابن مندہ اور ابونعیم نے اختصاراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ابوالحصین السلمی،بقول طبری حضوراکرم کے خدمت میں اپنی کا ن کا سونا لئے حاضر ہوئے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالحصین انصاری،ان کے دو بیٹے تھے،سام سے کچھ تاجر آئے،ان دونوں لڑکوں نے ان کی امداد کی،اور ان کے ساتھ شام چلے گئے،ابوالحصین حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ انہیں واپس بلوایاجائے،آپ نے فرمایا دین میں جبر نہیں اور آپ کو ابھی تک جنگ کی اجازت نہیں ملی تھی،ابوالحسن نے حضور اکرم کے اس ارشاد پر دل میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا،اس پر یہ آیٔت اتری "فَلَاوَرَبِّکَ لَایُومِنُونَ حَتّٰی یُحَکِّمُوکَ"۱ بوداؤد نے اسے ناسخ ومنسوخ کی ذیل میں بیان کیا ہے،ابن الدباغ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحصین بن لقمان،ہم سباع کے ترجمے میں ان کا ذکر کر آئے ہیں،ایک روایت میں ان کا نام حصین آیا ہے جس نے ان کا نام ابوحصین لکھاہے،وہ ان کا نسب یوں لکھتے ہیں،ابوالحصین لقمان بن شبہ بن معیط بن مخزوم بن مالک بن غالب بن قطعیہ بن عیس العبسی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحصیرہ،حضورِاکرم نے انہیں وادی القری کی آمدنی سے ایک حصہ عطافرمایاتھا،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہےاور بیان کیا،کہ جعفر نے ابنِ اسحاق سے ان کے بارے میں علم حاصل کیا۔ ۔۔۔
مزید
ابوہاشم،حضورِاکرم کے آزادکردہ غلام تھے،کئی آدمیوں نے اذناً،ابوسعید کی کتاب سے،انہوں نے محمد بن ابوعبداللہ مطرز سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے عبداللہ بن محمد بن جعفرسے، انہوں نےابراہیم بن محمد بن علی رازی سے،انہوں نے محمد بن عبداللہ بن ابوثلج سے،انہوں نے حسن بن حماد بن کسیب سے،انہوں نے یحییٰ بن یعلی سے،انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حلوبن السری اودی سے ، انہوں نے ابوہاشم مولیٰ رسولِ اکرم سے روایت کی،کہ ان کی والدہ آپ کی کنیز تھیں،حضورِ اکرم نے میرے والد اور والدہ ہردوکاآزادفرمادیا۔ حضورِ اکرم ایک دن مسجد سے تشریف لائے،دیکھا کہ دونوں دھوپ میں سوئے ہوئے ہیں،آپ انکے سرہانے جا کھڑے ہوئے،حضورخیبرکی ایک چادراوڑھے ہوئے تھے،آپ نے اس چادر سے انہیں لوگوں سے چھپادیا،اورتین دفعہ فرمایا،اے شہریوں اوردیہاتیوں سے،میرے پیارواٹھو،ابوموسیٰ نے۔۔۔
مزید
ابوحثمہ بن حذیفہ بن خاتم القرشی عدوی،سلیمان کے والد تھے،ہم ان کانسب ان کے باپ کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں،ابوحثمہ کی بیوی کا نام شفاء دخترعبداللہ عدوی تھا،یہ ابوجہیم بن حذیفہ کے بھائی تھے،ان کے دوبھائی اور تھے مورق اور نبیہ،ان سب کو حضورِاکرم کی رویت نصیب ہوئی، لیکن ان سے کوئی روایت مذکورنہیں،ابوعمراور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحثمہ،ان کے بیٹے کا نام سہل تھا،اور ان کا نام عبداللہ یاعامر بن ساعدہ بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری،اوسی،حارثی تھا،غزوۂ احد میں شریک تھے، اور اُحدتک حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقیب تھے،غزوۂ خیبر میں شریک تھے اور حضورِ اکرم نے مالِ غنیمت سے انہیں گھوڑے کا حصہ بھی دیا تھا،خیبر کے بعد تمام غزوات میں شام تھے، حضورِاکرم کے عہد میں نیز حضرت ابوبکر صدیق،عمراور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد خلافت میں بھی پاسداری کا منصب ان کے پا س تھا،امیرمعاویہ کے دَور حکومت میں ان کی وفات ہوئی،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،ہم نے عامر اور عبداللہ کے تراجم میں ان کا ذکر کیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوحسان بصری،انہیں صحبت نصیف ہوئی ،کہاجاتاہے،کہ ایک دفعہ حضورِ اکرم نے ان پرچڑھائی کی تھی،ان کی حدیث مخلد نے صالح بن حسان سے،انہوں نے والد سے،انہوں نے دادا سے روایت کی،ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید