پیر , 18 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 06 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سلیمان نوری حضوری، حضرت سخی شاہ

سلیمان نوری حضوری، حضرت سخی شاہ اوصافِ جمیلہ آپ سلطان الراسخین، دلیل العارفین، زبدۃ الاولیاء والمتقین، عمدۃ الاصفیا والموحدین، خزینۃ العلوم و الانوار، سفینۃ الارشاد و الاسرار، قطب الواصلین، غوث العالمین، سید الاوتاد، امام الافراد، صاحب جودو کرم جذب و عشق و محبت و سکر و وجد و سماع تھے۔ حضرت مخدوم شاہ معروف چشتی خوشابی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ اعظم و سجادہ نشین تھے۔ نام و نسب آپ کا نام نامی سلیمان، لقب گرامی سخی بادشاہ، سخی پیر، [۱] [۱۔ حدیث شریف میں سخی کے بڑے فضایل مروی ہیں چنانچہ السخی حبیب اللہ۔ اور السخی قریب اللہ قریب من الجنۃ قریب من الناس (گنجینہ عرفان)] نوری، حضوری، شیخ صاحب، شاہِ شاہاں تھا۔ آپ معزز خاندان قریشی کے چشم و چراغ تھے، اور آبا و اجداد سے نعمتِ فقر موروثی رکھتے تھے، والد بزرگوار کا نام شیخ عبد اللہ المعروف میاں منگو صاحب تھا، ابن جلال الدین بن شمس الدین بن محمد۔۔۔

مزید

حسن رضا خان بریلوی، شہنشاہِ سخن، مولانامحمد

 حسن رضا خاں حسؔن بریلوی، شہنشاہِ سخن   مولانامحمد اسمِ گرامی:    محمد حسن رضا خان۔لقب:           شہنشاہِ سخن،استاذِ زمن،تاجدارِ فکر وفن۔نسب:           سلسلۂ نسب اس طرح ہے:محمد حسن رضا خان بن مولانا مفتی نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان(علیہم الرحمۃ )۔ولادت:آپ 4؍ ربیع الاوّل1276ھ مطابق19؍ اکتوبر1859ءکو حضرت مولانا نقی علی خان﷫ کے گھر پیدا ہوئے۔تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے والدِ گرامی مولانا مفتی نقی علی خان﷫ اور  برادرِ اکبر شیخ الاسلام والمسلمین الشاہ امام احمد رضا خان﷫کے زیرِ سایہ ہوئی۔ فَنِّ شاعری میں برادرِ اکبر اور مرزا داغ دہلوی  سے استفادہ فرمایا۔بیعت وخلافت:سراج العارفین  سیّد شاہ ابوالحسین احمد نوری قادری برکاتی۔۔۔

مزید

حضرت فاضل جلیل مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی

حضرت فاضل جلیل مولانا قاضی غلام محمود ہزاروی کھلا بٹ(ہزارہ)علیہ الرحمۃ عمدۃ المدّرسین حضرت علامہ ابو الفح قاضی غلام محمود بن جامع معقول و منقول قاضی محمد عبد السبحان بن مولانا قاضی مظہر جمیل بن مولانا مفتی محمد غوث تقریباً ۱۹۲۰ء میں بمقام کھلابٹ[۱](ہزارہ) میں پیدا ہوئے۔ [۱۔ موضع کھلابٹ، ہری پور شہر سے چھ میل کے فاصلے پر آباد تھا اب تربیلہ بند کی وجہ سے پانی میں آگیا اور اب ہری پور کے قریب کھلابٹ کالونی تعمیر ہوگئی ہے۔] آپ کے جدِّ اعلیٰ مولانا قاضی محمد غوث ریاست بھوپال کے قاضی القضاۃ(چیف جسٹس) تھے۔ آپ نے تین سال مدینہ منّورہ میں درسِ حدیث دیا۔ مولانا مفتی مظہر جمیل (جدِّ امجد قاضی غلام محمود صاحب) علم و فقہ میں ماہر اور ظاہری و باطنی کمالات کے حامل تھے ان کے بھائی مولانا محمد خلیل، حضرت مولانا محمد خلیل، حضرت مولانا احمد علی سہانپوری کے شاگرد تھے ار مکّہ مکرمہ میں ان کا انتقال ہوا۔[۱] [۱ٍ۔۔۔۔

مزید

مفتی محمد سعد اللہ مراد آبادی

مفتی محمد سعد اللہ مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی:مولانا  مفتی محمد سعدا للہ مرادآبادی/رام پوری۔تلخص: آشفتہ۔لقب: جامع العلوم،امام العلماء،مرجع الفضلاء،قاضی الوقت۔والد کا اسم گرامی: مولانا نظام الدین علیہ الرحمہ۔شیخ قوم سے تعلق  تھا۔آپ کے والدگرامی اپنے وقت کےجید عالم وعارف تھے۔(تذکرہ کاملان رام پور:151) تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 17/رجب المرجب 1219ھ،مطابق  اکتوبر/1804ء کو’’محلہ کسرول،مولسری والی مسجد کےعقب میں اپنےموروثی مکان،مرادآباد(انڈیا) میں ہوئی‘‘۔(ایضا :151)۔تاریخِ پیدائش لفظ ِ ’’ظہورِ حق‘‘اور ’’بیدار بخت‘‘ سےنکلتی ہے۔(تذکرہ علمائے ہند:197) تحصیلِ علم: آپ کے والد گرامی مولانا نظام الدین کا بچپن میں انتقال ہوگیا،بڑے بھائی نے تربیت و تعلیم دی،بھاوج کی معمولی شکایت  پر ب۔۔۔

مزید

حضرت مولانا سید ایوب علی رضوی

مولانا سید ایوب علی رضوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی: سید ایوب علی رضوی۔ لقب: عاشقِ اعلیٰ حضرت،مخدومِ ملت،فدائے رضویت۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: مولانا سید ایوب  علی رضوی بن سید شجاعت علی بن سید تراب علی بن سید ببر علی (علیہم الرحمہ)۔ تاریخِ ولادت: آپ علیہ الرحمہ 1295ھ،مطابق 1875ء کو "بریلی شریف"(انڈیا) میں پیداہوئے۔ تحصیلِ علم:  ابتدائی تعلیم بریلی میں  حاصل کی،مڈل  تک اسکول  کی تعلیم حاصل  کرنے کے بعد فارسی  کےقواعد  سیکھے ، کچھ عرصہ اسلامیہ سکول  بریلی میں پڑھاتے رہے ، پھر جب اعلیٰ حضر ت مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بیعت کا شرف حاصل ہو ا تو اپنے آپ کو بارگاہ رضویت کے لئے وقف کر دیا ۔لکھائی کا جو کام آ پ کے سپر دکیا جاتا اسے احسن اہتمام سے انجام دیتے ، رمضان شریف میں سحری اور افطاری کے نقشے مرتب فرماتے ، دیگر علوم کے علاوہ "ریاضی"۔۔۔

مزید

ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی، سیّد شاہ آلِ برکات

 ستھرے میاں قادری برکاتی  مارہروی، سیّد شاہ آلِ برکات اسمِ گرامی:    ستھرے میاں۔اَلقاب:                  سند الکاملین، شاہ، آلِ برکات۔والد ماجد:               اسد العارفین حضرت سیّد شاہ حمزہ عینیؔ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔ولادت:سند الکاملین حضرت سیّد شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قادری برکاتی مارہروی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی پیدائش 10؍ رجب المرجب 1163ھ کو ہوئی۔تقویٰ:آپ کو مسجد میں نماز پڑھنے اور یادِ الٰہی کا بہت شوق تھا۔ مارہرہ شریف میں رہتے ہوئے سخت بیماری کے سبب صرف تین روز آپ مسجد میں نہ جاسکے جس کا عمر بھر قلق رہا۔شاعر ی سے شغف:آپ شاعر  بھی تھے اور ’’آشفتہ‘‘ تخلص رکھتے تھے۔اَولاد و امجاد:آپ کے چار(4) صاح۔۔۔

مزید

علی المرتضی، امیر المؤمنین، سیدنا حضرت، رضی اللہ تعالیٰ عنہ

  علی المرتضیٰ، امیر المؤمنین سیّدنا اسمِ گرامی:    والدنے آپ کا نام ’’علی‘‘ اور والدۂ ماجدہ نے’’حیدر‘‘ رکھا۔ کنیت:           ابوالحسن اور ابو تراب ہے۔ اَلقاب:                  امیر المومنین،امام المتقین،صاحب اللواء، اسداللہ(شیرِ خدا)،کرار،مرتضیٰ،  مولا مشکل کشا۔ نسب : علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ۔ تاریخِ ولادت: امیر المؤمنین سیّدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ 13؍ رجب المرجّب،بروز جمعۃ المبارک، عام الفیل کے 30سال بعد،مطابق 17؍ مارچ 599ء  کو بیت اللہ مکۃ المکرمہ میں پیدا ہوئے۔ شیرخداکی سب سے پہلی غذا: آپ کی والدۂ ماجدہ سیّدہ فاطمہ ب۔۔۔

مزید

امام علی رضا

حضرت امام علی رضا﷜ نام ونسب: اسم گرامی: امام علی بن امام موسیٰ کاظم۔کنیت: ابوالحسن۔القابات: صابر،ولی ،ذکی، ضامن ،مرتضیٰ اورسب سے مشہور لقب امام  علی رضا ہے۔آپ حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کےلختِ جگر اورآئمہ اہل بیت میں آٹھویں امام ہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت امام  علی رضا بن حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔آپ کی والدہ کےناموں  میں اختلاف ہے۔مثلاً:نجمہ،ارویٰ،شمانہ،ام البنین،استقراء۔اصح ’’نجمہ‘‘ہے۔یہ حضرت حمیدہ والدہ محترمہ حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ کی کنیز تھیں۔(بارہ امام:166) ولادت کی  بشارت:ایک رات حضرت حمیدہ﷜ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو آپ نے فرمایا: اپنی کنیزنجمہ کا نکاح  اپنے۔۔۔

مزید

ظفر علی نعمانی، بانی دارالعلوم امجدیہ علامہ مفتی

ظفر علی نعمانی، بانی دارالعلوم امجدیہ علامہ مفتی نام ونسب: اسم گرامی:  مولانا مفتی ظفر علی نعمانی۔لقب:سید نا امام اعظم ابو حنیفہ سے محبت و نسبت کے سبب ’’نعمانی‘‘اپنے نام کے ساتھ لکھتے تھے جو کہ نام کا حصہ بن گیا۔ والد کااسم گرامی: مولانا محمد ادریس علیہ الرحمہ۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 15/نومبر 1917ء،مطابق ماہ صفر/1336ھ،کو’’سید پور‘‘ضلع بلیا،یو پی انڈیا میں ہوئی۔(روشن دریچے:201) تحصیل ِعلم: آپ نے پرائمری تعلیم سید پور میں حاصل کی ۔ اس کے بعد خلیفہ اعلٰیحضرت مولانا رحیم بخش رضوی کے مدرسہ ’’فیض الغرباء ‘‘شاہ پور صوبہ بہار میںداخلہلیا ، قابل ترین اساتذہ سے اکتساب فیض کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میںشرح جامی تک کتابیں پڑھ لیں ، اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے اہل سنت و جماعت کی نامور دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور ضلع اعظم گڑھ کا رخ کیا، وہیں داخلہ لے کر نصابی کتب ک۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نجیب الدین متوکل

  آپ حضرت شیخ فریدالحق والدین قدس سرہ کے حقیقی بھائی اور خلیفہ اعظم تھے۔ ظاہر و باطن میں بلند رتبہ رکھتے تھے۔ نہایت متوکل انسان تھے۔ ستر سال تک دہلی میں رہے مگر اس عرصہ میں کبھی کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے، اگرچہ آپ کے پاس نقد اور جنس سے کوئی چیز بھی نہیں تھی، مگر آپ کو یاد خدا میں اتنی مشغولیت رہتی کہ بسا اوقات یہ معلوم نہ ہوتا کہ آج کون سی تاریخ یا کون سا دن ہے، آپ کے نزدیک اپنے بیگانے غریب و امیر ایک ہی جیسے تھے، ایک دن لوگوں نے آپ سے پوچھا، مخدوم! کیا فرید شکر گنج پاک پتنی آپ کے بھائی ہیں، فرمانے لگے ہاں ظاہری تو میرے ہی بھائی ہیں مگر باطنی طور پر کسی اور کے بھائی ہیں، پھر پوچھا کہ نجیب الدین متوکل آپ ہی ہیں فرمایا نجیب الدین تو میں ہی ہوں مگر متوکل کوئی اور ہے میں متوکل نہیں ہوں۔ اخبارالاولیا اور اخبار الاخیار کے مصنفین نے لکھا ہے کہ اک سال عید کے دن بہت سے درویش مل کر حضرت نجیب۔۔۔

مزید