اتوار , 23 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 10 May,2026

پسنديدہ شخصيات

محمد بن عبد الستار کردری

حضرت شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسمِ گرامی: محمد بن عبد الستار بن محمد کردری عمادی۔ کنیت: ابو الوجد ۔لقب:شمس الائمہ تھا۔ تایخِ ولادت:آپ علیہ الرحمہ 18 ذو القعدہ559 ھ میں پیدا ہوئے۔ تحصیلِ علم: شمس الائمہ کردری رحمۃ اللہ علیہ نے علمِ ادب پہلے ناصر الدین مطرزی صاحب پڑھا۔شمس الائمہ بکر بن محمد زرنجری سے فقہ پڑھا،حدیث کوسنااور دیگر اساتذہ سے مختلف علوم فنون حاصل کئے۔حسن بن منصور قاضی خان اور صاحبِ ہدایہ علی بن ابی بکر رحمۃ اللہ علیہما سے بھی آپ نے علم حاصل کیا۔ سیرت وخصائص: شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امام محقق،فاضلِ مدقق،فقیہ و محدث،عارفِ مذاہب،محیی اصول فقہ تھے۔ آپ نے اس طرح اخلاص وسنجیدگی سے علم حاصل کیا کہ آپ متعدد و علوم میں فائق ہوئے اور اپنے اقران پر غالب آئے اور اہل زمان نے آپ کے فضل و تقدم کا اقرار کیا حتی کہ آپ کے حق می۔۔۔

مزید

حضرت سید ابراہیم دمشقی

حضرت سید ابراہیم بن محمد دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ            سید ابراہیم بن محمد بن محمد کمال الدین بن محمد بن حسین بن محمد بن حمزہ دمشقی: آپ کا نسب پیغمبر خدا کی طرف منتہیٰ ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی طرح ابن حمزہ کی کنیت سے معروف تھے۔اپنے زمانہ کےعلامہ،محدث،نحوی،اعلام محدثین   اور علمائ جبذہ میں سے حرانی الاصل تھے۔دمشق میں سہ شنبہ کی رات کو مابین مغرب عشاءکے ۵ ماہ ذی القعدہ ۱۰۵۴ھ کو پیدا ہوئے اور اسی جگہ اپنے والد کی نگرانی میں پرورش پائی۔علوم اپنے والد ماجد اور ایک جماعت علماء وفضلاء سے حاصل کیے اور عمر بھر تدریس اورتنشیرِ علوم میں مصروف رہے۔ آپ نے اسی شیوخ سے اجازت لی،شیخ ابراہیم برماوی،عبداللہ بن سالم بصری،شیخ عبداللہ لاہوری ثم المدنی خیر الدین رسلی اور عبدالقادری بغدادی وغیرہ سے استفادہ کیا۔آپ کی تصانیف میں ’&rsq۔۔۔

مزید

شیخ دانیال چشتی قدس سرہ

آپ سید راجی حامد شاہ کے مرید اور  خلیفہ ہیں آپ کو کئی بار حضرت خضر علیہ اسلام کی صحبت بھی نصیب ہوئی اور آپ نے حضرت  معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی روحانی فیض پایا تھا یہ بات پایۂ ثبوت تک پہنچی ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین نے آپ  کو باطنی طور پر حضرت خضر علیہ اسلام کے حوالے کر دیا تھا ہندی زبان کا یہ شعر معارج الولایت میں بھی ملتا ہے اور شرح الحروف العالیات میں بھی پایا جاتا  ہے۔ جُگ جُگ عمر جو حضرت خواجی حضرت نبی رسول نواجی دانیال جو پر گٹ کنیان حضرت خواجی خضر ہند دنیا یعنی حضرت خواجہ معین الدین دائمی اور باطنی عمر کے مالک ہیں انہوں نے چاہا کہ دانیال کو ظاہر کریں اور اولیاء اللہ میں اُن کا ایک مقام متعین کریں چنانچہ انہوں نے خواب میں حضرت دانیال کو حضرت خضر کے حوالے کردیا۔ شیخ دانیال ۹۹۴ھ ہجری میں فوت ہوئے اُس وقت آپ کی عمر  ایک  سو گیارہ سال تھی۔ چوں۔۔۔

مزید

شیخ  طاہا چشتی قدس سرہ

آپ حضرت سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید بھی تھے  اور خلیفہ بھی تھے جب سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ سفرِ حج پر روانہ ہوئے تو آپ بھی اُن کے ساتھ تھے حج سے واپسی پر گجرات پہنچے تو شیخ سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے احمد آباد میں مقرر کردیا۔  شیخ محمد شیروانی اور بعض دوسرے عزیزوں کو بھی آپ کے ساتھ رہنے  کا حکم دیا۔ شیخ طہ نے عرض کی حضور  اس علاقے میں بڑے بڑے اولیاء اللہ ہیں جن کی شہرت سارے ہندوستان میں پھیلی ہوئی  ہے میں یہاں رہ کر کیسے کام کرسکوں گا۔ آپ نے فرمایا یہ  تمام لوگ تمہارے مطالع اور فرما نبردار بن جائیں گے شیخ طاہا احمد آباد میں قیام پذیر ہوئے وہاں کے بزرگوں نے آپ کا باطنی امتحان لیا اور پھر آپ کے تابعدار بن کر  روحانی فائدہ حاصل کرنے لگے۔ معارج الولایت کے مصنف لکھتے ہیں کہ اکبر کے زمانے میں مظفر ہوائی کو گجرات کا سلطنت دار بنادیا گیا۔وہ حضرت  شیخ ک۔۔۔

مزید

شیخ ولی چشتی قدس سرہ

آپ  کے والد بزرگوار کا نام یوسف چشتی تھا آپ  خود سلیم چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اورمرید تھے کہتے ہیں کہ آپ جس دن اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اُسی دن سے مقبول نظر ہوگئے اور  آپ کے سر پر تاج خلافت سجادیا   یہ بات دیکھ کر حضرت کے دوسرے مرید  بھی آگے بڑھے اور عرض کی حضور کریم کئی سال سے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس میں کیا راز ہے آپ نے فرمایا شیخ ولی اپنے کو دیگر تمام چیزوں سے پُر کر  کے پکا کر لائے تھے میں نے اُس میں صرف نمک ہی ڈالا ہے اور وہ تیار ہوگئی آپ لوگوں کو پختہ  ہوتے ہی وقت لگے گا۔ آپ کی وفات ۱۰۰۴ھ ہجری تھی۔ یافت از حق ولایت جنت چوں ولی خُدا ولی اللہ جامع فیض گو ترحیلش ہم ولی شیخ اولیاء فرما ۱۰۰۴ھ ۔۔۔

مزید

شیخ پیارا چشتی قدس سرہ

آپ  حضرت شیخ اسلیم چشتی کے خلیفہ تھے اور  اپنے وقت کے عظیم مشائخ میں شمار ہوتے تھے کہتے ہیں کہ شہزادہ سلیم جہانگیر کو اُس  کے والد جلال الدین اکبر بادشاہ اپنے ساتھ لے کر حضرت خواجہ معین الدین اجمیری کے روضہ منورہ کی زیارت کو گئے اس سفر میں شیخ پیارا کو ساتھ لے لیا گیا تاکہ وہ شہزادہ جہانگیر کی نگرانی کر سکیں اتفاق ایسا ہوا کہ اجمیر میں پہنچ کر شہزادہ بیمار ہوگیا اس وجہ سے اکبر بادشاہ بڑا ہی پریشان ہوا۔ اکبر نے شیخ پیارا کو کہا کہ آپ کے پیر و مرشد نے ہمارے ساتھ اس لیے بھیجا تھا کہ شہزادے کی دیکھ بھال کر سکیں شیخ پیارا نے جواب دیا کہ ہم حضرت کی خدمت میں عرض لکھ رہے ہیں آپ جو کچھ فرمائیں گے اس پر عمل کیا جائے گا چنانچہ آپ نے ایک شاہی قاصد کے ہاتھ شیخ سلیم کے نام عرضی لکھی جس کے جواب میں آپ نے لکھا کہ بادشاہ کو کہہ دیں کہ انشاء اللہ شہزادہ تندرست ہوجائے گا چونکہ ہم نے تمہیں شہزا۔۔۔

مزید

خواجہ محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات

  مشائخ و فقراء کے قطب، ائمہ و علما کے پیشوا اوتاد کے جائے پناہ، عابدوں زاہدوں کے ذریعہ  فخر خواجہ شیخ محمد چشتی ہیں (خدا تعالیٰ ان کے مرقد کو پاک کرے اور  ان کا مشہد و مزار منور درخشاں فرمائے) جوانواع کرامات سے آراستہ اور درجات مشاہدات سے پیراستہ تھے۔ آپ نے خرقہ ارادت خواجہ احمد چشتی کی خدمت سے زیب تن فرمایا تھا۔ منقول ہے کہ خواجہ محمد چشتی اکثر اوقات عالم تحیر میں ڈوبے رہتے تھے اور سالہا سال آپ کا مبارک پہلو زمین پر نہ پہنچتا تھا آپ مجاہدہ کے اتنہائی درجہ اور غلبۂ شوق میں سرنگوں ہوکر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ آپ کے مکان میں ایک عمیق اور نہایت گہرا کنواں تھا جس میں الٹے لٹک کر عبادت الٰہی میں مصروف رہتے۔ منقول ہے کہ ایک دن آپ دجلہ کے کنارے پر بیٹھے ہوئے اپنا خرقہ مبارک سی رہے تھے کہ اسی اثناء میں خلیفۂ وقت کے فرزند رشید کا اس طرف سے نہایت شان و شوکت سے گذر ہوا۔ جب اس کی پر شوق۔۔۔

مزید

مولوی غلام مصطفےٰ چشتی وزیر آبادی قدس سرہ

  آپ سلسلہ چشتیہ صابریہ کے مشائخ میں سے تھے بڑے صاحب دل اور صاحب باطن بزرگ تھے آپ شیخ اللہ دتا کے مرید تھے وہ شیخ کریم الدین کے وہ شیخ محمد غوث کے وہ شیخ قادر بخش کے وہ حامد شاہ کے اور محمد صدیق لاہوری قدس سرہم کے مرید تھے۔ آپ ۱۲۶۷ھ میں فوت ہوئے بہادر شاہ لاہوری نے آپ کی تاریخ وفات لفظ خدا پرست (۱۲۶۷ھ) نکال کی ہے آپ کے خلفاء میں سے سیّد چراغ شاہ سبزواری جو آپ کے خالہ زاد بھائی بھی تھے بڑے معروف ہوئے اور وہی آپ کے سجادہ نشین بنے۔ چو از دنیا بفردوس بریں رفت غلام مصطفےٰ ہادی عالم وصالش مخزن شرع است سرور ۱۲۶۷ھ دو بارہ جلوہ گر شد نور اعظم ۱۲۶۷ھ ۔۔۔

مزید

شیخ محمد چشتی و کبروی قدس سرہ

  بچپن ہی سے خدا طلبی کا جذبہ تھا۔ چار سال کی عمر میں قرآن پاک کی تعلیم کا آغاز کیا۔ اور  مولانا حیدر چرخی﷫ کے منظور نظر بن گئے حتٰی کہ علوم تفسیر حدیث فقہ  اور اصول کی تکمیل کی سلسلہ طریقت میں شیخ محمد علی چشتی قدس سرہ کے مرید ہوئے۔ خرقہ خلافت حاصل کیا۔ ہر وقت ذکر بالجہر کرتے اور ذکر خفی سے اجتناب فرمایا کرتے آپ کے خادم اور مرید بھی ذکر بالجہر کی ضربیں لگاتے اس طرح ساری وادی اللہ کے ذکر سے گونج اٹھتی تھی۔ آپ ۸۳ سال کی عمر میں ۱۶؍ شوال ۱۱۲۶ھ کو انتقال فرماگئے۔ کشمیر میں اپنے گھر کے پاس ہی دفن کیے گئے۔ بقعر زمین چونکہ مانند گنج بتاریخ ترحیل او ازخرد   نہاں گشت مرشد محمد شفیق عیاں گشت مرشد محمد شفیق ۱۱۲۶ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

حافظ موسیٰ چشتی مانک پوری قدس سرہ

  آپ اعظم روپڑی کے خلیفہ تھے ابتدائی زندگی میں قلعی گری کیا کرتے تھے۔ دوبیویاں تھیں جب اللہ سے لگن لگی تو دونوں کو طلاق دے دی ایک عرصہ تک ریاضت اور مجاہدہ میں مشغول رہے اور آپ اس عرصہ بہلول پور روپڑ میں قیام پذیر رہے زندگی کے آخری حصہ میں روپڑ سے چل کر مانک پور رہنے لگے یہاں بے پناہ مخلوق آپ کے دروازے پر آنے لگی حالت جذب و مستی یہاں تک پہنچی کہ جو شخص بھی آپ کے دروازے پر آتا جذب و مستی کا حصہ پاتا تھا۔ آپ اس میں جس پر نگاہ ڈالتے اسے اپنا منظور نظر بنالیتے تھے بعض حضرات تو آپ کی ایک نگاہ سے مجذوب بن جاتے تھے۔ چنانچہ کریم شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ اسی علاقہ کے مشہور مجذوب آپ کی ایک نگاہ کی زد میں آئے اور مجذوب بھی تھے۔ آپ سولہ (۱۶) ماہ رمضان المبارک بروز ہفتہ ۱۲۴۷ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار مانک پور میں زیارت گاہ عوام و خواص ہے آپ کے با کمال خلفاء میں سے مولوی امانت ع۔۔۔

مزید