اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ نور الدین المشہور نور قطب عالم بنگال قدس سرہ

آپ شیخ علاء الدین علاء الحق بنگالی قدس سرہ کے فرزند اور خلیفہ طریقت تھے۔ ہندوستان کے مشہور مشائخ میں مانے جاتے ہیں بڑے صاحب عشق و محبت اور ذوق و شوق کے مالک تھے۔ صاحب تصرف و کرامات تھے اپنے والد کی خدمت میں رہ کر بڑی روحانی منزلیں طے کیں اور درجہ قطبیت کو پہنچے اس طرح آپ قطب عالم کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ آپ اپنے والد کی خانقاہ کے تمام امور کو اپنے ہاتھ سے سرانجام دیا کرتے تھے کپڑے دھونا خانقاہ کو صاف کرنا۔ پانی  لاکر نمازیوں اور مسافروں کو مہیا کرنا جنگل سے لکڑیاں لاکر لنگر تیار کرنا سب آپ کے ذمہ تھا۔ حتٰی کہ درویشوں کے کپڑے دھونے گندگی کا اٹھانا اور بیت الخلاء کی نجاست ہٹانا بھی آپ کے ذمہ تھا۔ ایک دن ایک درویش کو آدھی رات کے وقت پیٹ میں درد اٹھا وہ بیت الخلاء کی طرف بھاگا وہاں شیخ علاء الحق اپنی روزمرہ  کی خدمت پر مصروف تھے۔ اس درویش کو زور سے جو پاخان۔۔۔

مزید

رضی الدین ابن حنبلی  

              علامہ رضی الدین ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بن یوسف بن عبد الرحمٰن تاذفی حلبی معوف بہ ابن حنبلی: ادیب،مؤرخ اور محدث تھے۔۹۰۸؁ھ میں حلب میں پیدا ہوئے اور وہیں جمادی الاولیٰ ۹۷۱؁ھ میں وفات پائی،ان کی کثیر تصانیف میں سے حاشیہ علیٰ شرح وقایہ فی مسائل ہدایہ،حاشیہ علیٰ شرح تصریف الغری تفتازانی، مواردالصفاء فی فوائد الشفاء(حدیث میں)اور در الجب فی تاریخ حلب مشہور ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت علامہ مولانا عبدالکریم بن ابی حنیفہ اندقی

حضرت علامہ مولانا عبدالکریم بن ابی حنیفہ اندقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ           عبد الکریم بن ابی حنفیہ بن عباس بن مظفر اندقی: چوتھی صدی کے بعد پیدا ہوئے،قصبۂ اندق کے جو بخارا کے پاس واقع ہے،رہنے والے تھے،اپنے زمانہ کے امام فاضل زاہد پرہیز گار متواضع نیک سیرت تھے،فقہ ابی محمد بن احمد حلوائی اور ابی طاہر محمد بن علی بن احمد اسمٰعیل اور ابی نصر احمد بن علی بن منصور سے حاصل کی اورانہیں سے حدیث کو سُنا،آپ سے ابو عمر و عظمان بنعلی البیکندی نے روایت کی اور شعبان کے مہینے ۴۸۱؁ھ میں فوت ہوئے۔’’قمر عالم‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی

حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی علیہ الرحمۃ مولانا ہدایت علی بریلی محلہ قرولان کے ساکن، شیخ فاروقی، حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی سے تحصیل علم کیا، نواب مشتاق علی خاں عرش آشیاں نے بریلی سے بلاکر مدرسہ عالیہ رامپور کا پرنسپل مقرر کیا، بریلی مدرسہ شریعت قائم کیا، خود درس دیتے تھے، ۱۳۲۲؁ھ میں انتقال ہوا، حضرت استاذ العلماء مولانا فضل حق رام پوری، حضرت مخدوم شاہ ابو الحسین احمد نوری سجادہ نشین مارہرہ شریف اور مولانا یونس علی بد ایونی علیہم الرحمۃ مشہور شاگرد تھے۔ (تذکرہ کاملان رامپور، تذکرہ نوری)۔۔۔

مزید

حضرت علامہ علی بن محمد سمنانی

حضرت علامہ علی  بن محمد سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ            علی بن محمد بن احمد سمنانی: اپنے زمانہ کے امام فاضل تھے،کنیت ابو القاسم تھی۔فقہ کو قاضی القضاۃ ابو عبداللہ محمد بن علی دامغانی کبیر سے اخذ کیا اور اصول و کلام کو ابی علی محمد بن احمد بن ولید سے پڑھا۔فقہ،شروط،تواریخ میں تصنیفات کیں اور کتاب روضۃ القضاء فی ادب القضاء ایک مجلد کبیر اور نہایت لطیف فروع حنفیہ ۴۷۸؁ھ میں تصنیف کی اور ۴۹۹؁ھ یا بقول ملا علی قاری ۴۹۳؁ھ میں وفات پائی۔سمنانی سمنان کی طرف منسوب ہے جو بلاد قومس سے دامغان اور خوارزی کے درمیان ایک شہر کا نام ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت علامہ محمد بن احمد بن محمد سمنانی

حضرت علامہ محمد بن احمد بن محمد سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ           محمد بن احمد بن محمد بن محمد بن محمود سمنانی: بڑے فاضل شیخ فقیہ محدث ثقہ متکلم حسن الکلام حنفی المذہب اشعری الاعتقاد تھے۔۳۶۱؁ھ میں پیدا ہوئے۔ ابو جعفر کنیت تھی۔حدیث کو موصل میں نصر بن احمد بن خلیل اور بغداد میں ابا الحسن علی بن عمر دار قطنی اور ابا القاسم عبید اللہ بن محمد رازی وغیر ہم سے سنا اور روایت کیا اور آپ کے خطیب بغدادی نے سنا اور لکھا اور آپ کا ذکر اپنی تاریخ میں کیا۔مدت تک آپ موصل کے قاضی رہے اور فقہ میں تصنیفات کی اور تعلیقات لکھیں اور قضا کی حالت میں ماہ ربیع الاول ۴۴۴؁ھ میں فوت ہوئے۔سمنانی شہر سمنان کی طرف منسوب ہے جو درمیان دامغان اور خوارزمی کے واقع ہے۔’’ملجائے عصر‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت علامہ احمد بن محمد سمنانی

حضرت علامہ احمد بن محمد سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ            احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن محمد بن محمود سمنانی: آپ بھی اپنے باپ ابو جعفر محمد بن احمد مکی طرح حنفی المذہب اشعری الاعتقاد تھے اور عقیدۂ اشعریہ میں بڑا غلو کرتے تھے۔کنیت ابو الحسین تھی ۳۸۴؁ھ میں بمقام سمنان پیدا ہوئے، فقہ و حدیث اپنے باپ سے پڑھی اور سنی یہاں تک کہ اپنے وقت فقیہ محدث ثقہ صدوق حسن الاخلاق کبیر القدر ہوئے۔خطیب بغدادی نے آپ سے بھی حدیث کو لکھا، ۴۰۷؁ھ میں آپ حلب کے قاضی مقرر ہوئے اور قاضی ابی عبداللہ دامغانی کی دختر سےنکاح کیا اور بغداد میں ماہ جمادی الاولیٰ ۴۶۶؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت حاجی ضیاء الدین

حضرت حاجی ضیاء الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ ابو الحسن سمر قندی

حضرت خواجہ ابو الحسن سمر قندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا پائندہ حارثی

حضرت مولانا پائندہ حارثی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید