پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت نورالدین شیخ محمد صالح احمد آبادی

حضرت نورالدین شیخ محمد صالح احمد آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت ابو منصور محمد انصاری رحمتہ اللہ علیہ

حضرت ابو منصور محمد انصاری رحمتہ اللہ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت ابوالقاسم جعفر مقری نیشاپوری

حضرت ابوالقاسم جعفر مقری نیشاپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت قاضی احمد علی

حضرت قاضی احمد علی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ابوعلی ترکمانی

حضرت شیخ ابوعلی ترکمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نظام الدین شیرازی

مولانا نظام الدین شیرازی رحمتہ اللہ علیہ آپ ظاہر و باطن کے اعتبار سے عمدہ صفات اور بلند اوصاف کے حامل تھے، سلوک اور تصوف کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف تھے اور سماع کے رسیا اور دلدادہ تھے۔ فن خطابت اور توجیہ میں آپ کو دوسروں سے امتیاز حاصل تھا، حرمین شریفین کی  زیارت کی سعادت کا شرف بھی حاصل کیا تھا۔ شیخ نظام الدین اولیاء کے اجلہ دوستوں میں بے حد مقبول اور شیخ کی نظروں میں ملحوظ و محفوظ تھے۔ سلطان علاؤالدین والی دلی میں جہاں آپ رہا کرتے تھے، وہیں مزار ہے اور اپنے گھر کے قریب ہی دفن کیے گئے، اللہ آپ پر رحمتیں نازل کرے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت شاہ جلال شیرازی

آپ شیخ محمد نور بخش کے مریدوں میں سے تھے جنہوں نے گلشن راز کی شرح لکھی ہے آپ حجاز سے بلا دہند میں سلطان سکندر کے دور حکومت میں دہلی تشریف لائے آپ بڑے صاحب نظربزرگ تھے، مولانا روم کی مثنوی آپ کی حرزِ جان تھی، آپ کا قد درمیانی اور چہرہ نورانی تھا، جس دن دہلی تشریف لائے تھےاس دن کے بعد کبھی بھی آپ کے مطنح کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی، روٹی اور فیرنی ہر وقت مہمانوں کے لیے تیار کھتے تھے، ہر آنے والے مہمان کو علاوہ اور کھانوں کے نان اور فیرنی بھی کھلائی جاتی تھی، آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں حرم شریف میں ایک مرتبہ ایک درویش سے ایسی بات سنی تھی جو شریعت کے بالکل خلاف تھی، میں نے چاہا کہ اس کو اس جملہ کی سزادوں، جب اس نے کچھ محسوس کیا تو پہاڑوں کی جانب بھاگنے لگا، میں بھی اس کے پیچھے چلا لیکن وہ ہاتھ نہ آیا البتہ جب وہ بھاگ رہا تھا ایک بار اس نے میری طرف مڑکردیکھا اور یہ شعر پڑھا     ۔۔۔

مزید

روز بہان بقلی شیرازی

حضرت روز بہان بقلی شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا اسم گرامی ابو محمد بن ابی البقراء البقلی الشیرازی تھا آپ سلطان الفقراء برہان العلماء اور قدوۃ العشاق کے خطابات سے مشہور تھے آپ عراق شام حجاز کے سفر کیے شیخ ابوالنجیب سہروردی کے سکندریہ کے دارالعلوم میں بخاری شریف کے درس میں ہم سبق تھے آپ کو شیخ سراج الدین محمود بن خلیفہ بن عبدالسّلام بن احمد بن سال سے خرقۂ خلافت ملا شیراز کے اطراف میں ریاضت کرتے رہے آپ ان ریاضات کے دوران صاحب شوق و وجد و سماع ہوئے آپ بہت سی تصانیف کے مالک ہیں تفسیر عرائس البیان آپ کی معروف اور مشہور تفسیر ہے شرح شطحیات ابن عربی کتاب الانوارنی شرح الاسرار بھی دنیائے تصوّف میں معروف کتابیں آپ کی تصنیف ہیں آپ نے شیراز کے جامع عتیق میں پچاس سال درس و وعظ کیا حضرت شیخ ابوالحسن فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت بقلی نے مشائخ کو دعوت دی میں بھی اس دعوت میں شریک تھا میں آپ سے متعارف ن۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ محمد مقتدی امکنگی

حضرت خواجہ محمد مقتدی امکنگی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا اسم مبارک محمد مقتدی ہے۔ آپ موضع امکنہ کے رہنے والے ہیں جو بخارا کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔ اس گاؤں کی نسبت سے آپ کو امکنگی کہتے ہیں۔ آپ کی تربیتِ ظاہری و باطنی اپنے پدر بزرگوار حضرت خواجہ درویش محمد قدس سرہ سے ہے اور اپن ہی سے آپ کو خلافت ہے۔ آپ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ سید بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کے اصل طریقہ نقشبندیہ کی بڑی سختی سے پابندی فرماتے تھے اور اس طریقہ میں جو نئی باتیں بعض نقشبندی بزرگوں کی وجہ سے پیدا ہوگئی تھیں مثلاً ذکر بالجہر اور جماعتِ نمازِ تہجد وغیرہ، ان سے پرہیز کرتے تھے۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کے بالکل قدم بقدم چلتے تھے۔ نہایت عابد و زاہد و صاحب کرامات و خوارق بزرگ تھے۔ اپنے حالات کے اخفاء کی بہت کوشش کرتے تھے۔ اپنے وقت میں طالبانِ طریقت کے مرجع تھے۔ تصرفِ باطنی کا یہ عالم تھا کہ علماء و فضلاء اور امرا و ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا رحیم بخش آروی

حضرت مولانا رحیم بخش آروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  آرہ،صوبہ بہار کے باشندے،جائے ولادت وسکونت ووفات س شہر آرہ میں ہے،علمائے رام پور،وسہارن پور سے درسیات پڑھی،حدیث کی چند کتابیں پھلواری شریف میں حضرت مولانا عبد الرحمٰن ناصری گنجی سےپڑھیں، یہیں مولانا سید سلیمان ندوی نے آپ سے درس لیا،اعلیٰ حضرت کا شہرہ سُن کر سہارن پور سے واپسی میں بریلی پہونچ کر مرید ہوئے،اور فاضل بریلوی کی فیض صحبت سے فیض یاب ہوکر وطن آئے اور مدرسہ حنفیہ میں مدرس ہوئے،مسائل واعتقاد میں اختلاف کے باعث جدید مدرسہ قائم کیا،فیض الغربا منام رکھا،آرہ کے مشہور شیخ طریقت حضرت شاہ محمد فرید الدین نے آپ سے تعاون فرمایا، تاحینِ حیات آپ اس کے صدر مدرس اور مہتمم رہے،آپ کو فاضلِ بریلوی سے اجازت وخلافت بھی حاصل تھی،مدرسہ فیض الغرباء کے طلبل کی دستار بندی کی، اکثر مجلسوں میں آپ کی دعوت پر فاضل بریلوی نے آرہ تشریف لےجاکر دستار باندھی،حضر۔۔۔

مزید