ابوعمیربن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ابوعمیربن ابوطلحہ،اورابوطلحہ کانام زید بن سہل تھا،ہم ان کا نسب ان کے والد کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں،ابوعمیر،انس بن مالک کے اخیانی بھائی تھے،اورام سلیم ان کی والدہ تھیں۔ عبداللہ بن احمد خطیب نے ابومحمد جعفربن احمد بن حسین سے،انہوں نے عبیداللہ بن عمربن شاہین سے،انہوں نے عبداللہ بن ماسی البزارسے ،انہوں نے ابومسلم الکحی سے،انہوں نے انصاری سے، انہوں نےحمیدسےانہوں نےانس سے روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوعمیراداس تھا،حضورِاکرم نے اس کی ماں سے دریافت فرمایا،ابوعمرکیوں افسردہ ہے،یارسول اللہ! اس کابلبل مرگیاہے،حضورِاکرم نے فرمایا،اے ابوعمیرتمہارے نفیرکوکیاہوا۔ انس بن سیرین نے انس بن مالک سےروایت کی کہ ابوطلحہ کا بیٹابیمارہوگیا،ابوطلحہ کسی کام سے گھر سے باہرگیا،توبچہ مرگیا،جب ابوطلحہ گھرلوٹاتوپوچھا،کہ بچے کوکیاہوا،ام سلیم نے کہا،کہ اس کی حالت پہلے ۔۔۔
مزید
مادرِ اہلسنت زوجۂ حضور مفتیٔ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہا۔۔۔
مزید
ابوالعریان محاربی یا سلمی رضی اللہ عنہ ابوالعریان محاربی یا سلمی،ابوموسیٰ نے کتابتہً ابوغالب سے،انہوں نے ابوبکرسے،انہوں نے ابوالقاسم طبرانی سے،انہوں نے علی بن عبدالعزیز سے(ح) ابوموسیٰ کہتے ہیں،ہم نے حسن سے، انہوں نے احمد سے،انہوں نے محمد بن احمدبن حسن سے،انہوں نےحسن بن حسن حربی سے، انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے ابوخلدہ سے روایت کی،کہ انہوں نے ابن سیرین سے کہا،کہ جب میں نمازپڑھتاہوں،تومجھے یاد نہیں رہتاکہ میں نے دورکعتیں پڑھی ہیں یا چار،انہوں نے جواب میں کہا،کہ مجھ سے ابوالعریان نے بیان کیا کہ ایک دن حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرگھرتشریف لے گئے،ہم میں ایک درازدست آدمی تھا،جسے حضورذوالیدین کہتے اس نے عرض کیایارسول اللہ!آپ نے نماز میں قصرکی ہے یا بھول ہوگئی،فرمایا،نہ قصر کیا ہے نہ بھول ہوئی ہے،اس نے کہا،آپ سے بھول ہوئی ہے،چنانچہ وہ آگے بڑھا،دورکعتیں ادا کیں،پھرسلام پھیرکر تکبیرک۔۔۔
مزید
ابوعرفجہ رضی اللہ عنہ ابوعرفجہ،بنواوس کے حلیف تھے،غزوۂ بدر میں شریک تھے،یہ ابن اسحاق کا قول باسنادہ ہے، ابوموسیٰ نے ذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔
مزید
حضرت علامہ مفتی غلام محمد قاسمی بگھیو رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
ابوعذرہ رضی اللہ عنہ ابوعذرہ،حضورِاکرم کی زیارت انہیں نصیب ہوئی،ان سے عبداللہ بن شداد نے روایت کی،یزیدبن ہارون،عبدالرحمٰن بن مہدی اورحجاج بن منہال نے حماد بن سلمہ سے،انہوں نے عبداللہ بن شداد سے،انہوں نے ابوعذرہ سےروایت کی،کہ انہیں آپ کی زیارت نصیب ہوئی،اکثر راویوں نے باسنادہم ابوعیسیٰ سے،انہوں نے محمد بن بشارسے،انہوں نےعبدالرحمٰن سے،انہوں نے حمادبن سلمہ سے،انہوں نے عبداللہ بن شدادسے،انہوں نے ابوعذرہ سے،انہوں نے عائشہ سے،انہوں نے حضورِ اکرم سے روایت کی،کہ حضورِاکرم نے مردوں اورعورتوں کوحماموں میں نہانے سے منع فرمایا،بعد میں مردوں کو دھوتی کے ساتھ اجازت دے دی،تینوں نے ان کا ذکرکیا ہے،ابونعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے حجاج کی حدیث میں اس کا ذکرکیاہے،اورجناب عائشہ سے حماموں میں نہانے سے ممانعت کے بارے میں روایت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔
مزید
ابوعامر انصاری،انہوں نے آپ سے اہلِ نارکے بارے میں سوال کیا،ان سے فرات البہرانی نے روایت کی،ابوعمر اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے،ابونعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے ان کا ذکرکیا ہے، اورانہیں انصاری لکھا ہے،حالانکہ وہ اشعری ہیں اور ان سے بسندہ بواسطہ سلیم بن جنائزی،انہوں نے فرات البہرانی سے،انہوں نے ابوعامراشعری سے روایت کی کہ ایک آدمی نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہلِ نار کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے فرمایا،سائل نے بڑاسوال کیا ہےہر بڑا آدمی اپنے ساتھی پر زیادتی کرتاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔
مزید
ابوشریح ہانی بن یزید الحارثی رضی اللہ عنہ ابوشریح ہانی بن یزید الحارثی،عبیداللہ بن احمد بغدادی نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے قیس بن ربیع سے،انہوں نے مقدام بن شریح بن ہانی سے ،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہ ہانی بنوحارث بن کعب کے وفدکے ساتھ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،ان کی کنیت ابوالحکم تھی،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بُلایا،اورفرمایا کہ حکم اللہ کا صفاتی نام ہے،اس لئے ابوالحکم تمہاری کنیت ہوسکتی،انہوں نے کہا یارسول اللہ !جب میرے قبیلے میں کوئی جھگڑا ہوجاتا ہےتو وہ میرے پاس آجاتےہیں،دونوں فریق میرے فیصلے پرراضی ہوکرجاتے ہیں ،اسی لئے وہ مجھے ابوالحاکم کہتے ہیں، آپ نےدریافت فرمایا،تمہارے بڑے بیٹے کا کیا نام ہے،عرض کیا شریح،فرمایا،آج سے تم ابوشریح ہو،اس کے بعد حضورِاکرم نے دونوں بیٹوں کے لئے دعائے خیرفرمائی،ان کے بیٹے شریح بن ہانی تھے،جوحض۔۔۔
مزید