۔کنیت ان کی ابوکاہل تھی۔۱حمسی ہیں ۔اپنی کنیت ہی سے زیادہ مشہورہیں ان کے نام میں اختلاف ہے بعض نے عبداللہ بن مالک کہاہے یہ بخاری کاقول ہے مگرقیس زیادہ مشہورہے ہم ان کا حال کنیت کے باب میں یہاں سے زیادہ انشأ اللہ تعالیٰ لکھیں گے۔ان سے اسماعیل بن خالد نے روایت کی ہےانھوں نے کہاکہ یہ اپنے قبیلے کے امام تھے۔ہمیں ابن ابی حبہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن عبیدنے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن عائذ سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھےمیں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاکہ آپ ایک اونٹنی پرسوار خطبہ پڑھ رہے تھےاورایک حبشی (غلام یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہوں گے)اس اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئےتھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن سنان بن خالدبن منقربن عبید بن مقاعس ۔مقاعس کانام حارث بن عمروبن کعب بن سعد بن زیدمناہ بن تمیم تھا۔تمیمی منقری ہیں۔حارث کانام مقاعس اس وجہ سے رکھاگیاکہ انھوں نے بنی سعد بن زیدکے حلیف بننے سے تقاعص (یعنی انکار)کیاتھا۔کنیت ان کی ابوعلی ہےاوربعض لوگ کہتے ہیں ابوطلحہ اوربعض لوگ کہتےہیں ابوقبیصہ مگرپہلاہی قول زیادہ مشہورہے۔ان کی والدہ ام اسفربنت خلیفہ تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں بنی تمیم کے وفد کے ساتھ حاضرہوئے تھےاور۹ھ ہجری میں اسلام لائے تھےجب ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھاتوفرمایاکہ یہ بدویوں کاسردارہے یہ بڑے عاقل اوربردبارتھے۔بردباری ان کی مشہورہےلوگوں نے احنف بن قیس سے پوچھاکہ تم نےبردباری کس سے سیکھی انھوں نے جواب دیاحضرت قیس بن عاصم سے ایک روز میں نے ان کودیکھاکہ اپنے گھرکے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اپنی تلوارکی حمائل لپیٹےہوئے اپنی قوم کے لوگوں سے باتیں کررہ۔۔۔
مزید
بن اسد بن جعونہ بن حارث بن نمیر بن عامربن صعصعہ نمیری۔ابن کلبی نے بیان کیاہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھے اورآپ نے ان کے منہ پرہاتھ پھیراتھا اوردعادی تھی کہ یااللہ اس پراوراس کے ساتھیوں پربرکت نازل فرماانھیں کے متعلق شاعرنے یہ شعرکہاہے ۱؎الیک ابن خیرالناس قیس بن عاصم حشمت من الامرالعظیم المجاشما ۱؎ترجمہ۔اے بہترین شخص کے بیٹے اے قیس بن عاصم۔میں ایک سخت ضرورت سے تیرے پاس آیاہوں۱۲۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن قیس بن عدی بن سعد بن سہم۔فتح مصرمیں شریک تھےاورایک گھروہاں انھوں نے بنالیاتھااورحضرت عمربن خطاب کی طرف سے مصرکے قاضی تھے۔اس کو ابن لہیعہ نے یزید بن ابی حبیب سے روایت کیاہے ۔یہ ابن یونس کاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔عبدان اورجعفروغیرہمانے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھاہے۔عبداللہ بن بدرنے قیس بن طلق سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ طلق بن علی کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں ایک بچھو نے کاٹ کھایاتونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر کچھ پھوک دیااوراس پر ہاتھ پھیردیا۔ان کی حدیث وفد عبدالقیس کے متعلق مروی ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔کنیت ان کی ابویعیش غفاری تھی اورابوجعفرمستغفری نے کہاہے کہ یہ قیس بن طہفہ ہندی ہیں اوران کی روایت سے انھوں نے ایک طویل حدیث بھی لکھی ہے۔ان کا مشہورنام طہفہ ہے اور ان کےاصلی نام میں بہت اختلاف ہے بعض لوگوں کابیان ہے کہ وہ اصحاب صفہ سے تھے۔یحییٰ بن ابی کثیرنےابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ یعیش بن قیس بن طہفہ نے ان سے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن اصحاب صفہ کواپنے اصحاب پر تقسیم فرمایااور)کہاکہ اے فلاں اس کو اپنے ساتھ لیتےجاؤہم چارآدمی بچ گئے توہم لوگوں سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم لوگ میرے ساتھ چلوچنانچہ ہم لوگ حضرت عائشہ کے گھرمیں گئےہمیں ابومنصور بن مکارم ابن احمد بن مودب نے اپنی سند کے ساتھ ابوزکریایعنی یزید بن ایاس سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےکہ اصحاب صفہ میں طہفہ بن ابی زہیرنہدی بھی تھےاوربعض۔۔۔
مزید
بن خلیفہ بن ثعلبہ۔ابوحاتم بستی نے کہاہے کہ ان کی کنیت ابوجبیرہ تھی۔انصاری ہیں جعفر نے کہاہے کہ حافظ احمد کابیان ہے کہ یہ ثابت بن ضحاک اشہلی کے بھائی ہیں اوربعض لوگوں نے ان کوکلابی بیان کیاہے بعض لوگ ان کو صحابی کہتے ہیں۔ابوجبیرہ کہتےتھے کہ یہ آیت ہمیں لوگوں کے حق میں نازل ہوئی تھیولاتنابزوابالالقاب۔ان کی حدیث میں بہت اضطراب ہے۔ ان کاتذکرہ انشأ اللہ تعالی کنیت کے باب میں آئے گا۔ابن کلبی نے کہاہے کہ ابوجبیرہ کا نام قیس تھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن خلیفہ بن ثعلبہ۔ابوحاتم بستی نے کہاہے کہ ان کی کنیت ابوجبیرہ تھی۔انصاری ہیں جعفر نے کہاہے کہ حافظ احمد کابیان ہے کہ یہ ثابت بن ضحاک اشہلی کے بھائی ہیں اوربعض لوگوں نے ان کوکلابی بیان کیاہے بعض لوگ ان کو صحابی کہتے ہیں۔ابوجبیرہ کہتےتھے کہ یہ آیت ہمیں لوگوں کے حق میں نازل ہوئی تھیولاتنابزوابالالقاب۔ان کی حدیث میں بہت اضطراب ہے۔ ان کاتذکرہ انشأ اللہ تعالی کنیت کے باب میں آئے گا۔ابن کلبی نے کہاہے کہ ابوجبیرہ کا نام قیس تھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن سلت انصاری۔یہی ہیں جن کے والد کی منکوحہ ان کے والد کی وفات کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئی تھیں اورعرض کیاتھاکہ یارسول اللہ قیس کے والد کا انتقال ہوگیااورقیس جو قبیلہ کے ایک اچھے آدمی ہیں انھوں نے مجھے پیغام نکاح کا دیاہے لہذامیں کیاکروں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ولاتنکحوا مانکح ابأ کم من النسأ الایہ۔ابن دباغ اندلسی نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ابوصعصعہ کانام عمروبن زید بن عوف بن مبذول بن عمروبن غنم بن مازن بن نجار ہے۔انصاری خزرجی مازنی ہیں۔بیعت عقبہ اوربدرمیں شریک تھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بدرمیں ایک حصہ لشکرکاسرداربنایاتھا۔یہ عروہ اورابن شہاب اورابن اسحاق کا قول ہے۔ یحییٰ بن بکیراورسعد بن ابی مریم نے ابن لہیعہ سے انھوں نے حبان بن واسع سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے قیس بن ابی صعصعہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے عرض کیایارسول اللہ میں کتنے ونوں میں قرآن ختم کیاکروں آپ نے فرمایاپندرہ دن میں انھوں نے عرض کیاکہ میں اپنے کو اس سے بھی زیادہ قوی دیکھتاہوں چنانچہ یہ چند روز تک ایک ہفتہ میں قرآن ختم کیاکیے جب ان کی عمر بہت زیادہ ہوگئی اوریہ اپنی آنکھوں میں پٹی باندھنے لگےاس وقت پندرہ روزمیں قرآن ختم کرنے لگےکہتے تھے کاش میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت قبول کرلی ہوتی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ میں کہت۔۔۔
مزید