حضرت جمال الدین محمود بن احمد حصیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (صاحبِ وقایہ) محمود بن احمد بن عبدالسید بن عثمان بن نصر بن عبد الملک بخاری حصیری: ابو المحامد کنیت اور جمال الدین لقب تھا،باپ آپ کا تاجر کے نام سے معروف تھا اور بوریا بافوں کے محلہ میں رہا کرتا تھا۔آپ نے اپنے زمانہ کے امام فاضل،فقیہ متجر، محدث کامل تھے،آپ کے وقت میں ریاست مذہب کی آپ پر منتہیٰ ہوئی۔فقہ آپ نے حسن بن منصور قاضی خاں سے حاصل کی یہاں تک کہ کمالیت کے رتبہ کو پہنچے۔ اور صحیح مسلم وغیرہ کتب احادیث کو نیشاپور میں مؤید طوسی سے سماعت کیااور نیز حلب میں شریف ابی ہاشم سے سُنا اور شام کےک ملک میں آکر مدرسہ نوریہ میں تدریس کی اور افتاء کا کام دیا اور بیت اللہ کا حج کیا۔ماہ جمادی الاولیٰ ۵۴۲ھ میں بخارا میں پیدا ہوئے اور یکشنبہ کی رات ۸ماہ صفر ۶۳۶ھ کو دمشق میں وفات پائی اور دوسرے روز باب نصر کے باہر مقربۂ صوفیہ میں دفن کیے گئے۔آپ کی ۔۔۔
مزید
حضرت سید کامل شاہ قادری لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بعہدِ اکبر بخارا سے لاہور آئے اور موضع بابو صابو میں سکونت اختیار کی۔ علومِ ظاہری و باطنی میں ممتاز تھے۔ عبادت و مجاہدہ، زہد، و ورع، اور شجاعت و توکل میں راسخ القدم تھے۔ طریقۂ قادریہ و مداریہ میں شیخ الہ داد مداری کے مرید و خلیفہ تھے۔ لوگوں میں دیوانِ کامل مشہور تھے۔ ۱۰۰۵ھ میں وفات پائی۔ مزار متصل موضع بابو سابو ہے۔ آپ کے مرید عبدالرحیم نامی نے آپ کے مزار پر گنبد تعمیر کرنا چاہا۔ مگر آپ نے خواب میں آکر منع فرمایا کہ مجھے پسند ہے کہ میرا مزار کچا رہے۔قطعۂ تاریخِ وفات: جناب شیخِ کامل صدر دیواںندا شد بہرِ سال انتقالشبعلمِ عشق کامل قطبِ عالمکہ ’’شاہنشاہِ کامل قطبِ عالم‘‘۱۰۰۵ھ۔۔۔
مزید
۔طائف میں فروکش تھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئے تھے ان سے ان کے بیٹےعثمان نے روایت کی ہے۔بعض لوگوں نے ان کانام عبداللہ بیان کیاہے مگر صحیح عمروہے۔ولید بن مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمن بن یعلیٰ طائفی سے انھوں نے عثمان بن عمروبن اوس سےانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ میں قبیلہ ثقیف کے وفد کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہواتھاحضرت روزانہ بوقت شب ہماری فرود گاہ میں تشریف لایاکرتےتھے اورہم سے باتیں کیاکرتے تھےایک روز وقت معمول سے کچھ دیر کر کےتشریف لائے اورفرمایاکہ آج میراوظیفہ دیرمیں ختم ہوا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبداللہ کے داداتھے۔یعقوب بن محمد مدنی نے ابوامیہ بن عبداللہ بن عمرو سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ انھون نے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجبریل نے مجھے ہریسہ نامی ایک مرکب غذاکھلائی جس سے میری کمرمیں قوت زیادہ ہوگئی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبداللہ کے داداتھے۔یعقوب بن محمد مدنی نے ابوامیہ بن عبداللہ بن عمرو سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ انھون نے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجبریل نے مجھے ہریسہ نامی ایک مرکب غذاکھلائی جس سے میری کمرمیں قوت زیادہ ہوگئی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ دوسی۔جعفرمستغفری نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔زیادبکائی نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے زہری سےروایت کی ہے کہ عمروبن امیہ دوسی نے کہامیں کعبہ مکرمہ میں داخل ہواتومجھے قریش کے کچھ لوگ ملےاورانھوں نے کہاکہ خبردارمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سے نہ ملنااوران کی بات نہ سننا ورنہ تم ان کے فریب میں آجاؤگےاس کے بعد انھوں نے پوری حدیث ذکرکی۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ یہ قصہ عمروبن طفیل کےنام سے مشہورہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن خویلہ بن عبداللہ بن ایاس بن عبیدبن ناشرہ بن کعب بن جدی بن ضمرہ بن بکربن عبدمناہ بن کہنانہ یاکنانی ضمری۔کنیت ان کی ابوامیہ ہے۔ان کونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے(ایک مرتبہ)تنہاکفارقریش کے پاس جاسوس بناکربھیجاتھاچنانچہ یہ وہاں سے حضرت حبیب کی نعش مبارک بھی اس لکڑی سے اتارکرلے آئےتھے جس پر انھیں صلیب دی گئی تھی اور(ایک مرتبہ) آپ نے انھیں نجاشی کے ہاں وکیل بناکربھیجاتھاچنانچہ انھوں نے وہاں آپ کانکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان کےساتھ کردیاتھا۔اسلام ان کا قدیم تھاپہلے انھوں نے حبش کی طرف ہجرت کی تھی بعد ازاں مدینہ کی طرف ہجرت کی سب سے پہلاغزوہ ان کا بیرمعونہ تھا۔یہ ابونعیم کا قول ہے اورابو عمر نے کہاہے کہ یہ غزوہ بدراوراحد میں مشرکوں کی طرف سےشریک تھےاوراحد میں جب مشرک لوٹ کرجانے لگے تویہ اسلام لے آئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کواکثر کاموں پر متعین فرمایاکرتےتھےیہ عرب کے شریف اور۔۔۔
مزید