قیسی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کرآئےتھے ان سے عباد بن جمہورنے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوامیں نے سنا آپ فرمارہےتھے کہ جب لوگ دنیاکی طرف متوجہ ہوجائینگے تو ان کی آخرت خراب ہوجائیگی اور جب ہرشخس اپنی خواہش نفسانی کو پسندکرنے لگے گااوردین کو ترک کردے گاتواللہ تعالیٰ کا غضب سب پرعام ہوجائےگاپھرلوگ دعاکریں گے اوروہ مقبول نہ ہوگی۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
یہ ابواحمد عسکری کاقول ہےاورانھوں نے کہاہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تھےاور انھوں نے اپنی سند کے ساتھ محمدبن بکرسے انھوں نے ابن جریج سے انھوں نے ابوالزبیرسے انھوں نے علباءاسدی سے روایت کی ہے کہ وہ بیان کرتےتھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےملے جب آپ سفر میں اپنے اونٹ پربیٹھتے توتین مرتبہ تکبیرپڑھتے اور فرماتے کہ۱؎ الحمدللہ الذی سخرلناہذاوماکنالہ مقرنینعسکری نے ایساہی ذکرکیاہے اورہم سے ابوبکریعنی محمد بن رمصان بن عثمان تبریزی نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہم سے استاذابوالقاسم قشیری نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے علی بن احمد بن عبدان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں احمد بن عبیدنصری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن فرج ارزق نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حجاج نے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ ابن جریح نے کہاکہ مجھےابوالزبیر نے علباءازدی سے روایت کرکے خبردی کہ حضر۔۔۔
مزید
ان کے متعلق علاء بن صحار کے نام میں گفتگوہوچکی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
سلیطی خارجہ بن صلت کے چچاہیں ابن ابی خیثمہ نے ابوعبیدیعنی قاسم بن سلام سے نقل کرکے ایساہی بیان کیاہے اس اختلاف کا ذکرعلاءبن صحارکے نام میں ہوچکاہے۔شعبی نے خارجہ بن صلت سے روایت کی ہے کہ ان کے چچانبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئےجب لوٹ کر اپنے وطن جانے لگے توان کا گذرایک اعرابی پرہوا جومجنون ہوگیاتھااورزنجیروں میں جکڑاہواتھا لوگوں نے ان سے کہاکہ کیاآپ کے پاس کوئی چیز ایسی ہے جس سے اس مجنون کی دواکریں آپ کے نبی توبہت فائدہ کی چیزیں لائے ہیں انھوں نے کہا پھرکہتےتھے کہ میں نےاس پر سورۂ فاتحہ پڑھکرتین روزدم کی ہرروزدومرتبہ پڑھتاتھا پس وہ مجنون اچھاہوگیاتوان لوگوں نے مجھ کو سوبکریاں دیں مگر میں نے ان کو نہ لیایہاں تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اورمیں نے آپ سے بیان کیاآپ نے فرمایاتم نے اس کے سوااورکچھ بھی کہاتھامیں نے عرض کیاکہ نہیں آپ نے فرمایا۔۔۔
مزید
بن انیس فہری۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھااورمصرمیں بعد اس کے فتح ہونے کے گئےتھے ان کی اولاد بھی مصرہی میں ہے۔ابوالحارث یعنی احمد بن سعید فہری کے داداتھے۔ یہ ابوسعید بن یونس کاقول تھا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن محمد بن وہبان بن خباب بن حجیربن عبدبن مغیص بن عامربن لوی فتح قادسیہ میں شریک تھے حضرت عثمان نے حضرت معاویہ کولکھاتھاکہ ان کوجزیرہ کاعامل بنادو چنانچہ انھوں نے بنادیاتھا۔انھوں نے زمینب بنت عقبہ بن ابی معیط سے نکاح کیاتھا۔فتح مکہ کے نومسلموں میں سے تھےمقام رقہ میں کچھ دنوں حاکم رہےتھے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔مگران کو ابوعروبہ اورابوعلی بن سعید نے جزریوں کی تاریخ میں ذکرنہیں کیاحالانکہ وہ دونوں فن حدیث میں جزریوں کے امام ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حجازی۔عمروبن تمیم بن عویم نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ میری بہن ملیکہ اوردوسرے قبیلہ کی ایک عورت جس کانام ام عفیف بنت مسروح تھاہمارے قبیلہ کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں اس شخص کانام حمل بن مالک بن نابغہ تھااس کے بعدپوری حدیث ذکرکی جس میں یہ مضمون بھی تھا کہ علاء بن مسروح نے عرض کیاکہ یارسول اللہ کیاہم اس بچہ کی دیت بھی دیں جس نے نہ کچھ پیاہونہ بولاہونہ رویاہوکیاایسے بچہ کی دیت بھی آئے گی تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےکہاکہ تم توایسی مقفیٰ عبارت بولتے ہو جیسی زمانہ جاہلیت میں بولی جاتی تھی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری صحابی ہیں۔حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔انھوں نے (کچھ دنوں)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خط وکتابت کاکام کیاہے۔ان کا ذکرعمروبن حزم کی حدیث میں ہے ان کو جعفر نے ذکرکیاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بعض لوگ ان کا نام علاثہ بیان کرتے ہیں بیٹےتھے صحارسلیطی کے قبیلۂ بنی سلیط سے نام کعب بن حارث بن یربوع تھاتمیمی سلیطی تھے۔یہ علاء خارجہ بن صلت کے چچاتھے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ ابن ابی خیثمہ نے بیان کیاہے کہ مجھ سے ان کا نام ابوعبیدقاسم بن سلام سے نقل کرکے بیان کیاگیاہے۔اورمستغفری نے بیان کیاہے کہ ان کاعلاقہ بن شجارتھایہی قول علی بن مدینی کاہے یعنی یہ وہی سلیطی ہیں جن سے حسن نے روایت کی ہےاوربعض لوگ ان کو ابن سجاعہ کہتےہیں اورنیز انھوں نے ابن ابی خیثمہ سے انھوں نے ابوعبیدسے نقل کیاہے کہ خلیفہ نے بیان کیا کہ خارجہ کے چچاکانام عبداللہ بن عثام بن عبدقیس بن خفاف تھاقبیلہ بنی حنظلہ کے خاندان براجم سے تھےاورنیز ظلیفہ سے منقول ہے کہ انھوں نے کہاان کانام علاثہ بن شجارتھاابویعلی نسفی کے قلم کالکھا ہواایساہی ہے اوربردعی نے بھی ان کو ابن شجاربیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابن۔۔۔
مزید