جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عصمہ ابن مدرک رضی اللہ عنہ

   انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ دھوپ میں بیٹھنے سے ناخوش ہوتے تھے اوراس کو نعیم بن حماد نے زاجربن صلب سے انھوں نے بسطام بن عبید سے انھوں نے عصمہ بن مہدک سے روایت کیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عصمہ ابن مالک رضی اللہ عنہ

   انصاری حطمی ہیں اس کو ابونعیم اورابوعمرنے کہاہے لیکن ابوعمرنے ان کانسب نہیں بیان کیا ہے اورابونعیم نے ان کا نسب بیان کیاہے کہ عصمہ بن مالک بن اسیہ بن ضعیعہ بن زیدبن مالک بن عوف بن عمروبن عوف اورانھیں کے مانند ابن مندہ نے بھی ان کانسب بیان کیاہے لیکن کہاہے کہ خشعمی تھے ان سے عبداللہ بن وہب نے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم لوگوں میں سے اس کا دنیامیں رہناجوحق کلام کرے اور اس سے باطل کو رد کردے اور حق کی تائید کرے میرے ساتھ ہجرت کرنے سے افضل ہے۔نیز ان سے روایت کی ہے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایاطلاق کا اختیار اسی کو ہے جس کے ہاتھ میں عورت کی پنڈلی ہے(یعنی شوہرکوطلاق کااختیارہے غیرکواختیارنہیں)ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابن مندہ کایہ کہناکہ یہ خشمی ہیں ان کی غلطی ہے اور یہ نسب جس کوانھوں نے ب۔۔۔

مزید

سیّدنا عصمہ ابن قیس رضی اللہ عنہ

   ہوزنی ہیں اوربعض نے کہاہے کہ سلمی ہیں ان کانام عصیہ تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عصمہ رکھاان سے عبداللہ بن زبیرنے روایت کی ہے کہ یہ فتنہ مشرق سے اللہ کی پناہ مانگتے تھےان سے کہاگیاکہ فتنہ مغرب کی کیاکیفیت ہے انھوں نے کہاوہ بہت بڑاہے بہت بڑاہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عصمہ ابن سرج رضی اللہ عنہ

   یہ کہتے تھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھا۔ان سے ان کے بیٹے عبداللہ نے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔اوران کو ابواحمد عسکری نے ذکرکرکے کہاہے کہ یہ عصمہ بن سرج ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عصمہ ابن ریاب رضی اللہ عنہ

   بن حنیف بن ریاب بن حارث بن امیہ بن زیدیہ غزوۂ حدیبیہ میں شریک تھے۔ انھوں نے درخت کے نیچےبیعت کی تھی اس کے بعد تمام غزوات میں شریک تھے اورواقعہ یمامہ میں شہید ہوئے تھے ان کو ابن دباغ اندلسی نے ابوعمرپراستدراکاً بیان کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عصمہ ابن حصین رضی اللہ عنہ

   یہ اکثراپنے داداکی طرف منسوب کیے گئے ہیں بعض لوگ کہتےہیں کہ عصمہ بن وبرہ بن خالدبن عجلان بن زید بن غنم بن سالم بن عوف بن عمروبن عوف بن خزرج اکبرانصاری خزرجی ہیں۔غزوۂ بدرمیں شریک تھے اس کوموسی بن عقبہ اورواقدی اورابن عمارہ نے بیان کیاہے مگرابن اسحاق اورابومعشر نے ان کو اہل بدرسے نہیں کہاہے۔ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے کہ جولوگ غزوۂ بدرمیں شریک تھے ان میں ہبیل اورعصمہ بھی تھے دونوں جووبرہ کے بیٹے اورعوف بن خزرج کے خاندان سے تھے اسی طرح ان کو ابن کلبی نے بھی کہا ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عصمہ انصاری رضی اللہ عنہ

   ہیں یہ بنی مالک بن نجار کے حلیف تھے اورقبیلہ اشجع سے تھے۔ان کو موسیٰ بن عقبہ نے ان لوگوں میں ذکرکیاہےجوبدرمیں شریک تھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ان کے نسب میں بھی جو کچھ کلام ہے انشاء اللہ عصمیہ کے نام میں ذکرکیاجائےگا۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)  ۔۔۔

مزید

سیّدنا عصمہ ابن ابیر رضی اللہ عنہ

  نم زید بن عبداللہ بن صریم بن واثلہ بن عمروبن عبداللہ بن لوی بن عمرو بن حارث بن تیم بن عبدمناہ ابن اوبن طانجہ بن الیاس بن مضرتیمی ربابی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم بنی تیم بن عبیدمناہ کے اسلام کی خبرلے کرآئےتھے۔یہ تیم تمیم بن مربن اوبن طانجہ کے چچازادبھائی تھے یہ عصمہ سجاح کے کارزارمیں شریک تھے(کیوں کہ)اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نبوت کادعوی کیاتھا۔یہ ان دنوں بنی عبدمناہ کے سردارتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عصام مزنی رضی اللہ عنہ

   ہیں صحابی تھے،ہم کوابراہیم بن محمدوغیرہ نے اپنی سندوں کے ساتھ محمد بن عیسیٰ بن سورہ سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابن ابی عمرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابن عینیہ نے عبدالملک بن نوفل بن مسابق بن عصام مزنی نے اپنے والدسےنقل کرکےبیان کیااوروہ صحابی تھے کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب (کہیں)لشکربھیجاتھاتوآپ نے فرمایاکہ تم مسجددیکھو یا (شک راوی ہے)موذن (کی اذان)کوسنوتو(اس وقت)تم کسی کو قتل نہ کرو۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عسعس ابن سلامہ رضی اللہ عنہ

   تمیمی ہیں بصری تھےبصرہ میں رہتےتھےان کا صحابی ہوناثابت نہیں ان سے حسن اور ارزق بن قیس حارثی نے روایت کی ہے۔بیان کیاجاتاہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خودحدیث نہیں سنی ان کی حدیث مرسل تھی ان کی کنیت ابوصفرہ تھی بعض نے کہاہے کہ ابوصفیرہ اور بعض نے کہاکہ ابوسفرہ تھی۔شعبہ نے ارزق بن قیس سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے میں نے عسعس بن سلامہ کوکہتےہوئے سناکہ اصحاب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک شخص پہاڑ میں عبادت کرنے کوچلے آئے پس(وہیں)گم ہوگئےپھروہ ڈھونڈے گئے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرکیے گئے انھوں نے عرض کیا کہ میں نے نذرمانی تھی کہ میں گوشہ نشینی کرلوں گاا ور عبادت کیاکروں گانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایسانہ کرو یایہ فرمایاکہ کوئی ایسانہ کرے یہی تین بار فرمایا(پھرفرمایاکہ)اسلامی مقامات۱؎میں ایک تھوڑی دیر ٹھیرنابہترہے تنہائی میں چالیس برس عبادت کرن۔۔۔

مزید