بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شیخ عبدالرزاق

آپ بڑی فضیلت و منقبت کے حامل اور ہمت عالی اور شان بلند ترکے مالک تھے شیخ عبدالقادر ثانی کے فرزند دلبند تھے، جب ان کے والد صاحب کا انتقال ہوا تو آپ موجود نہ تھے کسی وجہ سے جانب ناگور گئے ہوئے تھے، وہیں قیام کے دوران آپ نے ایک دن کہا کہ مجھے میرے والد صاحب بلارہے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خاص بات ہے لیکن ناگور سے روانگی کے وقت آپ کو بعض اعزاء کی بناء پر تاخیر ہوگئی اس لیے اپنے والد صاحب کے سانحہ پر بروقت نہ پہنچ سکے بلکہ کئی دن بعد پہنچے اور والد محترم کی وصیت کے مطابق خرقہ خلافت پہن کر شیخ مجاز کی طرح والد کے جانشین مقرر ہوئے، آپ نے 5؍جمادی الثانی 942ھ میں وفات پائی۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن عتیق بن قیس بن مہیشہ بن حارث بن امیہ بن معاویہ بن مالک بن عمرو بن عوف۔ غزوہ احد میں اپن والد اور دونوں چچائوں کے ہمراہ شریک تھے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم شیخ عبدالقادر

آپ شیخ محمد حسنی جیلانی کے فرزند دل پسند اور شیخ عبدالقادر ثانی سے ملقب تھے، بڑے بلند پایہ عالی مقام، صاحبِ کرامات بزرگ تھے اور کمالات کے ان مقامات تک رسائی کرچکے تھے جو عقل کی حدود سے وراء الوریٰ ہیں، بہت سے کفار و فساق آپ کی محض صورت ہی دیکھ کر اسلام لائے تھے، آپ شہر اوچ میں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے حقیقی وارث کی حیثیت سے رہتے تھے، اسی لیے آپ کو عبدالقادر ثانی اور مخدوم ثانی کہا جاتا تھا آپ اپنا ثانی نہ رکھتے تھے اسی لیے اس لقب سے مشہور ہوئے۔  آپ نے جوانی کا زمانہ نہایت ہی تزک و احتشام سے گزارا تھا، آپ عیش و نشاط کے اتنے رسیا تھے کہ مزامیر وغیرہ کو اپنے ساتھ اونٹوں پر جہاں جاتے ساتھ لے جایاکرتے تھے لیکن سجادہ نشین ہوجانے کے بعد آپ نے اسباب تغنی اور ایسی مجالس میں جلوس وغیہ سے توبہ کرلی اور اپنے مریدوں کو بھی قوالی وغیرہ سے بڑی سختی اور شدت سے منع فرمایا کرتے تھے اور اگر اتفاق سے ک۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبید بن رزاح بن کعب۔ انصاری ظفری۔ نبی ﷺ کی صحبت میں رہے تھے۔ ان کا ذکر ابو عمر نے ان کے بیٹے نضر بن حارث کے بیان میں کیا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم شیخ محمد الحسینی جیلانی

آپ اوچ کے رہنے والے اور حُضُور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے اور بایں طور چھ واسطوں سے آپ کا نسبت نامہ شیخ عبدالقادِر جیلانی تک پہنچتا ہے۔شیخ محمد حسینی بن سیدشاہ امیر بن سید علی بن سید مسعودبن سید احمد بن سید صفی الدین بن سیدالسادات شیخ سیف الدین عبدالوہاب بن شیخ عبدالقادر جیلانی۔حسنی حسینی رضی اللہ عنہ۔ آپ بڑے باعظمت و صاحب کرامت اور با رعب بزرگ تھے، ظاہری شان و شوکت کے مالک، منقول و معقول میں ماہر تھے، ظاہری و باطنی نعمتوں کا فیضان آپ کی ذات سے جاری تھا، علاوہ ازیں کسبی اور نسبی فضیلتوں سے نوازے گئے تھے، آپ اصل میں رُوم کے رہنے والے تھے، رُوم سے خراسان آئے اور وہاں سے ملتان کے قصبہ اوچ میں آکر مقیم ہوئے۔ آپ نے ایک دفعہ بغیر سازو سامان پوری دنیا کا سفر کیا تھا اور دوسری بار ہاتھی، گھوڑے، شاہانہ ٹھاٹ، غیر معمولی نوکر اور متعلقین کے ہمرا ملتان میں تشریف لائےاس وقت کا بادشاہ بھی آپ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبد مناف بن کنانہ۔ عبدان بن محمد نے صحابہ میں ان کا ذکر کیا ہے اور ان کی حدیث شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے ان سے روایتک ی ہے کہ یہ کہتے تھے سول خدا ھ سے پھوپھی اور خالہ (٭یہ کسی خاص صورت کا جواب ہے ورنہ وقت نہ ہونے اور وارثوں کے ان کو حصہ ملتا ہے) کی میراث کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم مولانا عمادالدین غوری

آپ نارنول کے علاقہ کےمشائخ میں سے تھے، آپ کے آباؤاجداد عرب کے دیار سے ملک عجم آئے تھے اور آپ غور سے سلطان شہاب الدین غوری کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے۔  آپ نے بچپن میں علم حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ پہلوانی کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ اپنے سے زیادہ طاقتور پہلوان کو پچھاڑ کر فخریہ انداز میں اپنے گھر واپس جارہے تھے کہ راستہ میں ایک عالم نے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر افسوس کیا اور آپ کو آپ کی اس حالت پر طعنہ دیا، اس کے بعد آپ کی حمیت اور غیرت نے آپ کو جھنجھوڑا جس کے نتیجہ میں آپ اپنی اس حالت پر پشیمان ہوئے اور علم حاصل کرنے کی درخواست کی، چونکہ بچپن میں تو آپ نے کچھ لکھا پڑھانہ تھا اس لیے جوانی میں اس عالم سے کچھ حاصل نہ کرسکے اور پڑھنے لکھنے کے قصد کو ترک کرکے شیخ محمد ترک کے روضہ میں بیٹھ گئے، ہمیشہ طہارت کے ساتھ نوافل، عبادت اور تلاوت قرآن کریم میں مصروف ہوگئے اور اتنے التزام سے بیٹھے۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن عبد کلال۔ انھیں نبی ﷺ نے ایک خط لکھا تھا۔ ان کا شمار اہل یمن میں ہے۔ ان کا ذکر عمرو بن حزم کی حدیث میں ہے۔ زہری نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے شرعیل بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال اور نعیم بن عبد کلال کو خط لکھا تھا اس میں بعد حمد کے صدقات اور دیت کے احکام بتائے تھے اور اس خط کو عمرو بن حزم کے ہاتھ بھیجا تھا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے حالانکہ یہ صحابی نہیں ہیں صرف اس زمانے میں موجود تھے میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کے لوگوں کو جیسے احنف اور مروان وغیرہما کا کیوں ذکر کرتے ہیں حالانکہ ان کا صحابی ہونا اور دولت دیدار سے مشڑف ہونا ثابت نہیں۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث(رضی اللہ عنہ)

    ابن عبد قیس بن قیط بن عامر بن امیہ بن طرب بن حارث بن فہر۔ انکے بھائی سعید بن قیس اور یہ حبش کے مہاجرین سے تھے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا تذکرہ یہاں لکھا ہے اور پھر دوبارہ ابن مندہ نے اور ابو نعیم نے ان کا ذکر حارث بن قیس کے نام میں لکھاہے وہاں بھی ان کا ذکر آئے گا حالانکہ یہ دونوں ایک ہیں واللہ اعلم۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

    ابن عبدالعزی بن رفاعہ بن ملاں بن ناصرہ بن قبیصہ بن نصر بن سعد بن بکر بن ہوازن۔ رسول خدا ﷺ کے رضاعی باپ ہیں۔یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے انھوں نے اپنے والد اسحاق بن یسار سے انھوں نے بنی سعد بن بکر کے کچھ لوگوں سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے حارث بن عبد العزی جو رسول خدا ﷺ کے رضاعی باپ تھے مکہ میں رسول خدا ﷺ کے پاس آئے ان سے قریش نے کہا کہ تم نے نہیں سنا کہ تمہارے یہ بیٹے کیا کہتے ہیں حارث نے پوچھا کیا کہتے ہیں لوگوں نے کہا کہتے ہیں کہ اللہ مرنے کے بعد پھر (لوگوں کو) زندہ کرے گا اور ایک دوسرا عالم بھی ہے جہاں اللہ نافرمانوں کو سزا دے گا اور فرمانبرداروں کو انعام دے گا تمہارے بیٹے نے ہمار یمعاملات کو برہم کر دیا اور ہماری جماعت کو متفرق کر دیا پس حارث حضرت کے پاس گئے اور کہا کہ اے میرے بیٹے یہ کیا بات ہے لوگ تمہاری شکایت کرتیہیں اور کہتے ہیں کہ تم بیان کرتے ہو کہ لوگ مرنے کے بعد ۔۔۔

مزید