ابن عبداللہ بن اوس ثقفی۔ بعض لوگ ان کو حارث بن اوس کہتے ہیں ان کا ذکر ہوچکا ہے یہ حجازی ہیں۔ طائف میں رہتے تھے۔ انھوں نے حائضہ عورت کے برے میں روایت کی ہے کہ اس کو آخر میں کعبہ کا طوف کرنا چاہئے۔ ہمیں ابراہیم بن محمد بن مہران وغیرہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں کروخی نے اپنی سند سے ابو عیسی ترمذی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں انصر بن عبدالرحمن کوفی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محاربینے حجاج بن ارطاۃ سے انھوں نے عبدالملک بن مغیرہ سے انھوں نے بدالرحمن بلیمانی سے انھوں نے عمرو بن اوس سے انھوں نے حارث بن عبید اللہ بن اوس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ جو شخص حج کعبہ کرے اس کو آخر میں کعبہ کا طواف کرنا چاہئے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عباس بن عبدالمطلب۔ ان کی والدہ قبیلہ ہذیل کی خاتون نتھیں۔ ابو عمر نے ان کا ذکر ان کے بھائی تمام بن عباس کے ذکر میں کیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت عباس کے سب بیٹوں نے حضرت کو دیکھا ہے ہم نے بھی ان کا ذکر ویسا ہی لکھاہے جیسا انھوں نے لکھا۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ جونپور کے بڑے عالم تھے۔ کا فیہ، ہدایہ، بزدوی اور مدارک کی شرح لکھی ہیں، طالب علمی ہی کے زمانے سے تحریر و تنقیع پر کامل قدرت رکھتے تھے، راجی حامد شاہ کے مرید اور ایک واسطہ سے قاضی شہاب الدین کے تلمیذ تھے۔ شیخ حسن طاہر اور مولانا الہ داد، سلوک و طریقت کا علم حاصل کرتے وقت ساتھی تھے اور دونوں کے مابین بہت اُلفت تھی، شیخ حسن طاہر جب راجی حامد کے مرید ہوئے تو مولانا الہ داد نے فرمایا کہ میاں حسن! تم نے طالب علموں کی عزت مٹی میں ملادی حسن طاہر نے جواب دیا کہ آپ ایک دن ان کے پاس چل کر ان کا امتحان کرلیں تو آپ خود سمجھ لیں گے کہ میں معذور ہوں، دوسرے روز دوست شیخ راجی کے پاس جانے کے لیے تیار ہوگئے، مولانا الٰہ داد نے جاتے وقت ہدایہ اور بزدوی کے چند مشکل مسئلے یاد کرلیے، چنانچہ یہ دونوں دوستوں کو لے کر شیخ راجی حامد شاہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنی عادت اور معمول کے مطابق اپنے حالات بیان ک۔۔۔
مزید
ابن ظالم بن عبس سلمی۔ یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہ اور ان دونوں نے کہا ہے کہ ان کی کنیت ابو الاعور ہے۔ ہم نے کنیت کے باب میں ان کا ذکر اس سے زیادہ کیا ہے یہ حارث جنگ بدر میں شریک تھے یہ ابن اسحاق کا قول ہے ان کے نام میں اختلاف ہے ان سے قبس بن ابی حازم نے رویت کی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بعض علمائے ابو نعیم اور ابن مندہ کے اس قول کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بڑا وہم ہے انھوں نے دو آدمیوں کو ایک کر دیا حارث بن ظالم کی کنیت ابو الاعور ہے اور ابو الاعو سلمی کا نام عمرو بن سفیان ہے ان دونوں کی کنیت ابو الاعور ہے مگر پہلے انصاری خزرجی ہیں بنی عدی بن نجار سے ان کے صحابی ہونے میں کسی کا اختلف نہیں بدوی ہیں اور دوسرے کا نام عمرو بن سفیان سلمی ہے ان کے صہابی ہونے میں اختلاف ہے ابن مندہ اور ابو نعیمنے اندونوں آدمیوں کو ایک کر دیا باوجود یہ ۔۔۔
مزید
ابن طفیل بن عبداللہ بن سنجرہ قریشی۔ احمد بن زہیر نے کہا ہے میں نہیں جانتا کہ یہ قریش کے کس خاندان سے ہیں اور واقدی نے کہا ہے کہ یہ ازدی ہیں اور ان کا نسب ازد میں ہے ہم انشاء اللہ تعالی طفیل کے نام میں اس کو ذکر کریں گے یہ حارث وہی ہیں جو حضرت عائشہ اور عبدالرحمن فرزندان حضرت ابوبکر صدیق رضً اللہ عنہ کے اخیانی بھائی کے بیٹے ہیں کیوں کہ ان کے والد طفیل ہیں اور وہ حضرت عائشہ کے اخیافی بھائی ہیں ان کے والد طفیل کا صحابی ہونا ثابت ہے۔ انکا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن طفیل بن صخر بن خزیمہ۔ عوف بن طفیل کے بھائی ہیں۔ محمد بن اسمعیل بخاری نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھا ہے ان کے لئے شرف روایت معلوم نہیں۔ ان کا تذکرہ ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ سیّد براہم شاہ بن سیّد محمدسعیددُولارحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر اورمُریدو خلیفہ تھے۔آپ زاہد عابد متقی و پرہیزگارتھے۔سہنپال میں سکونت رکھتے۔کاغذاتِ مال میں آپ کا نام خان محمد تحریر ہے۔ اولاد آپ کے تین بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد قطب الدینرحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔سیّدحسن محمدرحمتہ اللہ علیہ ۔ ۳۔سیّد عظیم اللہرحمتہ اللہ علیہ۔ ۱۔ سیّد قطب الدینؒ ۱۲۵۴ھ میں موضع ٹِھل متصل سلطان پور گکھڑاں ضلع جہلم میں چلےگئے تھے۔ان کے چار بیٹے تھے۔سیّد بہاول بخشؒ۔سیّد دیداربخشؒ سیّد پیر بخشؒ لاولد۔سیّد شہاب الدینؒ لاولد۔ سیّد بہاول بخش رحمتہ اللہ علیہ کے ایک فرزند سیّد نورعالم رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ ؎ سیّد نورعالم کے پانچ بیٹے تھے۔سیّد نیک محمد ؒ۔سیّد شیرمحمدؒلاولد۔۔۔۔
مزید
بنت مسعود بن خالد التمیمیہ۔ قبیلہ بنی تمیم سے تھیں، اِن کے بطن سے دو لڑکے عبد اللہ اصغر اور ابو بکر پیدا ہوئے۔ [۱][۱۔ مسالک السّالکین جلد اوّل ص ۱۸۲] (شریف التواریخ)۔۔۔
مزید
آپ سیّد براہم شاہ بن سیّد محمد سعیددُولاہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبراورمریدوخلیفہ تھے۔ اوراد وظائیف آپ رئیس الاصفیا۔فخرالمشائخ تھے۔کلمہ طیّبہ اوردرود شریف ہزارہ کا وِرد رکھتے۔یہ درود شریف بھی آپ کا وظیفہ ہوتاتھا۔ اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ خَلقِہٖ وَزِنَتَہ عَرشِہٖ وَرِضَانَفسِہٖ وَمِدَادَکَلِمَاتِہٖ لباس آپ لباس درویشانہ پہنتے۔قبا یعنی فرگل اور شلوار بھی استعمال کرتے۔ کرامات طعام میں برکت آپ جس وقت بھنڈارہ تقسیم کرتے ۔تواپنی چادرطعام پر ڈال دیتے۔اس کی برکت سے کھانابہت بڑھ جاتااورمخلوق اُس سے سیر ہوجاتی۔ وجد کروانا ایک مرتبہ آپ علاقہ پہاڑ میں تشریف لے گئے تھے۔ایک روز آپ کی مجلس میں سماع ووجدہورہاتھا۔ایک منکرآدمی مکا ن کے اندردروازہ بند کرکے۔۔۔
مزید
آپ سیّد محمدسعیددُولابن سیّد محمد ہاشم دریادل نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ کے پانچویں بیٹے تھے۔خرقہ خلافت و اجازت اپنے عم بزرگ حضرت سیّد شاہ عصمت اللہ حمزہ پہلوان بن سید حافظ محمد برخوردار بحرالعشق نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۱؎۔ تاریخ ولادت آپ کی ولادت بائیسویں محرم ۱۱۲۰ھ میں بمقام ساہنپال شریف ہوئی۔ اخلاق آپ میں بڑے اوصافِ حمیدہ پائے جاتے تھے۔آپ سرگروہِ فقرائے نامدار اور برگزیدۂ کردگار۔صاحب ذوق و شوق و حال تھے۔ مقامِ صمدیت صاحب تذکرہ نوشاہیہ نے لکھاہے کہ آپ کو پیرروشن ضمیر حضرت سیّد شاہ عصمت اللہ کی توجّہ سے مقام صمدیت کُھل گیاتھا۔آپ نے بارہ سال تک بالکل طعام نہیں کھایا۔ کشف وکرامات بھی آپ سے ظاہر ہوتے تھے۔ تحریر کتب آپ خوش نویس بھی تھے۔آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتاب صَرف میر۔ مؤلف کے کتب خانہ۔۔۔
مزید