پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  ابن مخنف عامدی۔ یہ ابن مندہ اور ابن نعیم کا قول ہے اور ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ عمری ہیں۔ ان کا شمار اہل حجاز میں ہے مگر ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔ صحیح وہی ہے جو عبدالرزاق نے ابن جریج سے انھوں نے عبدالکریم سے انھوں نے حبیب بن مخنف سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا میں رسول خدا ﷺ کے حضور میں عرفہ کے دن پہنچا حضرت فرما رہے تھے کہ تم جاتے ہو کہ یہ کون دن ہے مجھے یہ نہیں معلوم کہ ان لوگوں نے کیا جواب دیا پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص پر واجب ہے کہ ایک بکری رجب میں قرنای کرے اور ایک بکری عید الضحی میں۔ بعض اوقات عبد الرزاق اس حدیث کی روایتمیں ان کے والد کا ذکر نہ کرتے تھے ہمیں عبد الوہاب بن ہبۃ اللہ بن عبد الوہاب نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  فہری۔ ابن مندہ نے حبیب فہری کو ذکر کیا ہے اور ان کا تذکرہ حبیب بن مسلمہ فہری کے علاوہ قائم کیا ہے کہ وہ مدینہ میں نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ یہ لڑکا میرا ہاتھ اور میرا پیر ہے (یعنی اسی کے سبب سے مجھے قوت و طاقت ہے) حضرت نے حبیب سے فرمایا تو تم انھیں کے ساتھ لوٹ جائو کیوں کہ عنقریب ان کا انتقال ہو جائے گا چنانچہ اسی سال  ان کا انتقال ہوگیا۔ ابو نعیم نے اس حدیث کو اکٹھا کر کے کہا ہے کہ بواسطہ ابن ابی  ملیکیہ کے حبیب بن مسلمہ سے مروی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے حضور میں مدینہ گئے جہاد کا اردہ رکھتے تھے ان کے والد نے انھیں مدینہ میں چھوڑ دیا پھر مسلمہ نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ یا نبی اللہ اس کے سوا اور کوئی میرا لڑکا نہیں ہے جو میرے مال اسباب کی حفاظت کرے اور میرے گھر والوںی خبر گیری کرے نبی ﷺ نے حبیب کو مسلمہ کے ہمراہ کر دیا اور فرمایا کہ شاید اسی سال تم ان کے دیکھن۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  ابن فدیک۔ بعض لوگ ان کو حبیب بن نویک واو کے ساتھ کے ہیں اور بعض لوگ حبیب بن عمرو بن فدیک کہتے ہیں۔ سلامانی ہیں ان کی حدیث میں اختلاف ہے۔ ہمیں یحیی بن محمود بن سعد نے اجازۃ اپنی سند سے ابن ابی عاصم تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمد بن بشر نے عبد العزیز بن عمر سے انھوں نے بنی سلامان بن سعد کے ایک شخص سے انھوں نے اپنی والدہس ے نقل کر کے خبر دی کہ ان کے ماموں حبیب بن فدیک نے ان سے بیان کیا کہ ان کے والد نبی ﷺ کے حضور میں گئے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں دکھائی نہ دیتا تھا حضرت نے ان سے اس کا سبب وپچھا انھوں نے کہا میں ایک مرتبہ اپنا بوجھ لئے جارہا تھا اتفاق ے میرا پیر سانپ کے انڈوں پر پڑ گیا پس میری بینائی جاتی رہی تو رسول خدا ﷺ نے کچھ پڑھ کر ان کی آنکھوں پر دم کر دیا ان کی آنکھوں میں روسنی آگئی حبیب کہتے تھیمیں نے ان کو دیکھا کہ وہ سوئی میں د۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  غزی والد ہیں طلق بن حبیب کے۔ عبدان نے ان کو ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی حدیث کی سند میں اختلف ہے صحیح وہ ہے جو غندر نے شعبہ سے انھوں نے یونس بن جناب سے انھوں نے طلق سے انھوں نے ایک شامی شخص سے اس نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے ان کو قبض کی بیماری تھی حضرت نے انھیں حکم دیا کہ اس دعا کو پڑھیں ربنا اللہ الذی فی السماء تقدس اسماء الحدیث ان کا تذکرہ ابو موسی کے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

عم انس بن مالک

عم انس بن مالک رضی اللہ عنہ عم انس بن مالک،یحییٰ بن یزید الرہادی نے زیدبن انیسہ سے،انہوں نے عدی بن ثابت سے،انہوں نےانس بن مالک سےروایت کی،کہ میں نے اپنے چچاکودیکھا،کہ عَلم لئے ہوئے تھے،میں نے دریافت کیاکہاں کاارادہ ہے،کہنے لگےمجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب فرمایاہےاور صحرامیں ایک بدونےاپنی ماں کوبیوی بنالیاہے،مجھےحکم دیاگیاہےکہ میں اسے قتل کردوں اوراس کا مال تقسیم کردوں،ابوموسیٰ نےذکرکیاہے،اورلکھاہےکہ یہ غلط ہےکیونکہ کافی روات نے اس حدیث کوعدی سے،انہوں نے براء سےروایت کیااورانہوں نے چچایاماموں سےروایت کی ہے۔۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب ۰رضی اللہ عنہ)

  ابن عمیر خطمی۔ انکا ذکر بھی عبدانکیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں ابراہیم بن بعقوب سعدی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبد الصمد ابن عبد الوارث نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حماد بن سلمہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو جعفر خطمی نے اپنے دادا حبیب بن عمیر سے نقل کر کے خبر دی کہ انھوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور کہا کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور بے عقل لوگوں کے پاس نہ بیٹھو کیوں کہ ان کے پاس بیٹھنا ایک مرض ہے جو شخص کم عقل کی بات برداشت کر لے گا وہ اس بربدباری سے خوش ہوگا اور جو شخص کم عقل سے دوستی کرے گا وہ پشیمان ہوگا جو شخص کم عقل کی ذرا سی تکلیف پر صبر نہ کرے گا وہ اس کی بہت تکلیف پر صبر نہ کرسکے گا اور جو شخص اپنے خلاف مزاج بات پر صبرکرے گا وہ اپنی محبوب چیز کو پا جائے گا۔ پھر جب تم میں سے کوئی شخص عمدہ بات کی تعیم اور بری بات ے روکنے کا قصد کرے تو جب تک اپنے نفس کو تکلیف پر صبر کرنے کا عادی نہ بنائ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب ۰رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو۔ عبدان نے ان کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم سے احمد بن سیار نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن مغیرہ نے خبر دی وہ کہتیت ھے ہمیں جمعہ بن عبداللہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں علاء بن عبدالجبار نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حمار نے ابو جعفر خطمی سے انھوںنے حبیب بن عمرو سے روایت کر کے خبر دی انھوننے نبی ﷺ سے بیعت کی تھی وہ جب کسی کو سلام کرتے تھے تو کہتے تھے السلام علیکم۔ انک ا تذکرہ ابو موسی نے مختصر لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ علاءالدین مجذوب

آپ کو شیخ علاول بلاول بھی کہتے ہیں۔ کشف حالات اور دلوں کی باتیں ظاہر کرنے میں اللہ کی نشانی تھے جو کوئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے ضرور کوئی نہ کوئی آپ کی کرامت دیکھی ابتدائے جوانی میں طالب علم تھے عرصہ تک سامانہ میں رہے طالب علمی کے زمانے میں دہلی میں بھی پڑھا، اس کے بعد جب جذبہ و حال طاری ہوا تو آگرہ چلے گئے، عرصہ تک مجردر ہے، آپ کی کرامتوں کو دیکھ کر لوگوں نے آپ کی خدمت کے لیے نوکر چاکر اور کنیزیں خرید کردیں۔ آپ نے بالحاظ فطرت انسانی بعض کے ساتھ شادیاں بھی کیں جن سے کئی اولادیں ہوئیں۔ میرے چچا رزق اللہ فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ میں اپنے چند لڑکوں کے غائب ہونے سے سخت پریشان تھا، میں ان کی خیریت طلبی کے لیے صدقہ دینا یا قرآن کریم پڑھنا یا کسی اسم الٰہی کا ورد کرنا چاہتا تھا، اسی پریشانی اور تردو میں شیخ علاؤالدین مجذوب کے پاس گیا تاکہ وہ جو کچھ بتائیں ویسا کروں چنانچہ مجھے دیکھتے ہی انہو۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو بن محصن بن عمرو بن عتیک بن عمرو بن مبذول بن غنم بن مازن بن نجار۔ یہ یمامہ کی طرف جارہے تھے (اثنائے راہ میں۹ مقتول ہوئے ان کا شمار شہدائے یمامہ میں ہے۔ انک  تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے مختصر لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو بن عمیر بن عوف بن عقدہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف ثقفی۔ بھائی ہیں مسعود بن عمرو کے اور بھائی ہیں ربیعہ کے جو دادا تھے امیہ بن ابی الصلت بن ربیعہ کے۔ ان کے اور ان کے بھائیوں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی وان تبتم فلکم روس اموالکم ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے اللہ تعالی کے قول یاایھا الذین امنوا اتقوا اللہ و ذرواما بقی من الربنا ان کنتم مومنین کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت قبیلہ ثقیف کے لوگوں کے حق میں نازل ہوئی تھی جن میں سے مسعود اور ربیعہ اور حبیب اور عبد بالیل فرزندان عمرو بن عمیر بن عوف ہیں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے اور میرے نزدیک ا کے صحیح ہونے میں کلام ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید