پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شیخ جنید حصاری

آپ شیخ فریدالدین گنج شکر کی اولاد میں سے تھے اور بوڑھے ہوگئے تھے۔ ظاہری عظمت و برکت و بزرگی کے مجسمہ تھے آپ فن کِتابت میں میں ماہر تھے زور نویسی کی یہ حالت تھی کہ تین دن میں پورا قرآن پاک مع اعراب کتابت کیا کرتے تھے اور یہ آپ کی کرامت تھی۔ اس کے علاوہ اور بھی خرق عادات آپ سے ظاہر ہوئی ہیں۔ آپ نے بعض رسائل میں دنیا کی نادر اور عجیب چیزیں سپُرد قلم کی ہیں جو کہ سمجھ سے باہر ہیں، اللہ ہی جانے آپ کا مقصد کیا ہے اور ان کی کیا تاویل کی جاسکتی ہے۔ آپ کی اولاد میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی تصنیفات کی ان انوکھی و نادر چیزوں کے حالات وغیرہ اس لیے کتاب میں سے مٹادیے ہیں کہ یہ باتیں لوگوں کی سمجھ سے بہت دور ہیں باقی اللہ ہی زیادہ جانتا ہے آپ کی وفات 901ھ میں ہوئی ہے، آپ کا مزار شہر حصار میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

شاہ مظفر حسین پٹنہ

حضرت شاہ مظفر حسین پٹنہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن مسلم۔ انکا تذکرہ عبدان نے احمد بن سیار سے نقل کیا ہے وہ کہتے تھے ہمیں یوسف بن یعقوب عصفری نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عبد المجید بن ابی دائود نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھے ابن جریح نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے حبہ بن مسلم سے نقل کر کے بیان کیا گیا کہ وہ ہتے تھے رسول خدا ﷺ نے فرمایا جو شخص شطرنج کھیلے وہ ملعون ہے اور جو اس کی طرف دیکھے وہ ایسا ہے جیسا سور کا گوشت کھانے والا۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن خالد۔ بھائی ہیں سواء بن خالد خزاعی کے۔ ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔ ان کی حدیث سلام یعنی ابو شرحبل نے روایت کی ہے انھوں نے حبہ سے اور سواء سے جو دونوں بیٹ تھے خالد کے سنا کہ وہ دونوں کہتے تھے ہم نبی ﷺ کے حضور میں گئے آپ کچھ عمرت بنا رہے تھے ان دونوں سے بھی آپ نے فرمایاکہ آئو بنائو پھر جب یہ دونوں فارغ ہوئے تو انھیں کچھ دیئے جانے کا حکم دیا بعد اس کے ان سے فرمایا کہ جب تک تمہارے سر اہل رہے ہیں (یعنی تم زندہ ہو۹ رزق سے مایوس نہ ہونا کیوں کہ جو بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتاہے سرخ پیدا ہوتا ہے اس کے اوپر چھلکا بھی نہیں ہوتا (یعنی اپنے ستھ کچھ لے کے نہیں آتا) پھر اللہ عزوجل اسے رزق دیتا ہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالعزیز بن حسن طاہر

میاں قاضی خاں کے خلیفہ اور متاثرین مشائخ چشتیہ کے مشہور بزرگ تھے۔ علوم شریعت و طریقت کے عالم تھے، بچپن سے عبادت و ریاضت اتنی کی کہ مشائخ کے مرتبہ پر پہنچ گئے، بچپن میں جو وظیفہ اور اوقات مقرر کیے تھے وہ آخر عمر تک باقی رکھے۔ مشائخ کی پیروی اور ان کے قواعد اور آداب کی حفاظت میں یکتائے زمانہ تھے، تواضع برد باری، صبر استقامت رضا و تسلیم الٰہی، مخلوق پر شفقت اور فقیروں کی رعایت کرنے میں اپنی مثال آپ تھے، اپنے زمانے میں مشائخ چشت کی یادگار تھے دہلی میں آپ کی وجہ سے سلسلہ ارشاد و مشیخت قائم تھا۔ قوالی سنتے تھے کہتے ہیں کہ رحلت کے وقت بھی ذوق و حالت کی کیفیت تھی۔ آپ نے یہ آیت پڑھ کر انتقال فرمایا فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شئی والیہ ترجعون ترجمہ: (پروردگار عالم کے دست قدرت ہی میں تمام چیزوں کی ملکیت ہے اور اسی کے پاس سب کو جانا ہے)۔ من مصنف کے والد بزرگوار شیخ سیف الدین فرماتے تھے کہ ہم نے شیخ عبد۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبہ (رضی اللہ عنہ)

    ابن حابس۔ ابن ابی عاصم نے ان کا ذکر لکھا ہے اور بعض لوگوں کا ول ہے کہ ان کا نام حیبہ ہے یای مثناۃ کے ساتھ ہم اس کو اسی مقام میں ان شاء اللہ تعالی ذکر کریں گے۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے اسی طرح مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسین

روپیہ اور کبھی نہ سودا چکاتے اور نہ اس کی قیمت کا حساب کرتے۔ آپ شیخ عبدالوہاب کے دوستوں میں سے تھے آپ کو راہ تصوف میں ایک خاص رفتار حاصل تھی اور بے قیدی، بے تکلفی اور ہمت فرمائی میں ایک خاص طریقہ رکھتے تھے۔ شیخ عبدالوہاب فرماتے تھے کہ یہ شیخ حسین ہمارے رشتہ داروں میں سے تھے اور یہ عجیب حالت اور بلند ہمت کے مالک تھے۔ معمولی چیزیں خریدتے وقت ان کے پاس جو کچھ ہوتا وہ سب بیچنے والے کو دے دیتے خواہ وہ مظفری ہوتا یا شیخ عبدالوہاب فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ہم دریائے نربدا کو عبور کرنا چاہتے تھے۔ لیکن دریائے نربدا کے کنارے پر بہت سے لوگ اس لیے جمع تھے کہ نربدا کے بیچ میں ایک شیر اپنی کچھار میں بیٹھ گیا تھا جس کے باعث لوگ دریا میں آنے جانے سے مجبور ہوگئے تھے۔ یہ دیکھ کر شیخ حسین اپنے ایک ہاتھ میں چاقو لے کر اور دوسرے ہاتھ پر ایک چادر لپیٹ کر کھچار کے اندر گھس گئے اور شیر کو وہاں ٹکڑے ٹکڑے کر کے لوٹ آ۔۔۔

مزید

حضرت میاں محمد طاہر

آپ علاقہ گجرات کے شہر پٹن میں سکونت پذیر تھے اللہ نے آپ کو علم و فضل کی نعمتوں سے نوازا تھا۔ زیارت حرمین سے مشرف ہوگئے تھے اور وہاں کے علماء و مشائخ سے علم حدیث کی تکمیل کی، شیخ علی متقی کی صحبت میں رہ کر ان کے مرید ہوئے۔ صاحب کرامت و برکت ہوکر وطن واپس آئے اور آپ کی قوم میں جو بدعتیں رائج تھیں وہ ختم کرکے اہل سُنت اور بدعتیوں کا فرق اپنی قوم کو سمجھایا۔ علم حدیث میں بہت سی مفید کتابیں تالیف کی ہیں۔ ان میں سے آپ کی ایک کتاب مجمع الجار بڑی مشہور ہے جس میں احادیث کی شرح لکھی ہے۔ آپ کی ایک دوسری کتاب کا نام مغنی ہے جس میں اسماءالرجال کی صحت کی ہے اور راویان، حدیث کا مختصر و مفید حال لکھا ہے۔ اپنی کتابوں کے دیباچوں میں شیخ علی متقی کی بے انتہا تعریف کی ہے۔ آپ کا دستور تھا کہ اپنے پیرومرشد کی وصیت کے مطابق اپنے ہاتھ سے روشنائی بنا کر طالب علموں کو مفت دیا کرتے تھے پڑھاتے وقت بھی زَبان سے پڑھاتے۔۔۔

مزید

حضرت میاں غیاث

علاقہ گجرات کے مشہور شہر بہڑچ میں رہا کرتے تھے اللہ کے خاص بندوں میں سے تھے خیرالناس من ینفع الناس ترجمہ: (بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے) آپ پر صادق تھا۔ عوام الناس کی ضرورت کی ہر چیز مثلاً روپیہ پیسہ کپڑے غذائیں دوائیں کتابیں، اسباب و سامان اور آلات وغیرہ سب اپنے گھر میں جمع کرکے رکھتے تھے آپ کا بہترین کارنامہ یہ تھا کہ جس کو جس چیز کی ضرورت ہوتی دے دیا کرتے تھے، اس کے ساتھ آپ زبردست عالم، عامل متقی اور شریعت کے پیرو تھے۔ سیدی شیخ عبدالوہاب فرماتے تھے کہ بحالت خواب میں نے ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اس زمانے میں سب سے اچھا کون شخص ہے تو جواب مرحمت فرمایا، میاں غیاث پھر تمہارے شیخ علی متقی اور پھر محمد طاہر اس زمانہ کے بہترین آدمی ہیں اللہ تعالیٰ ان سب پر رحمتیں نازل کرے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم جیو قادری

آپ حیدرآباد دکن کے ضلع بیدر میں رہا کرتے تھے بہت ہی ضعیف دبلے پتلے، عبات گزار بابرکت عالی ہمت اور عظیم الشان بزرگ تھے۔ مالداروں کی جانب بالکل متوجہ نہ ہوتے اور عام طور سے لوگوں سے بے نیاز تھے، حضرت شیخ عبدالوہاب متقی فرماتے تھے، اگرچہ مخدوم جیو قادری میں کمزوری کی وجہ سے کھڑے ہونے کی طاقت نہ تھی لیکن رات کو بڑی دیر تک کھڑے ہوکر نفل پڑھا کرتے تھے، شیخ عبدالوہاب یہ بھی کہتے تھے کہ مخدوم جی قادری ہم سے زیادہ عالم، اسلامی احکام کی تعمیل کرنے والے متقی و پرہیز گار تھے ہم اور وہ ایک عرصہ تک ساتھ رہے، ممکن تھا کہ میں ان کا مرید ہوجاتا لیکن میری قسمت میں تو شیخ علی متقی سے بیعت ہونا تھا۔ مخدوم جیو قادری نے 1000ھ کے وسط میں وفات پائی، باقی اللہ ہی زیادہ جانتا ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید