انصاری۔ بدر میں شریک تھے۔ یہ عروہ بن زبیر کا قول ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر اسی طرح مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن سہل بن ابی صعصعہ۔ اناری ہیں بنی مازن بن نجار سے۔ غزوہ طائف میں شہید ہوئے تھے ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ ہمیں ابو جعفر یعنی عبید اللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند سے یونس بن بکیر تک روایت کر کے خبر دی وہ ابن اسحاق سے ان لوگوں کے نام میں جو انصار سے غزوہ طائف میں شہید ہوئے تھے بنی مازن بن نجار سے حارث بن سہل بن ابی صعصعہ کا نام روایت کرتے تھے یہ ابن مندہ کا قول ہے اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض متاخرین نے ان کا ذکر کیا ہے اور ان سے اس میں وہم ہوگیا ہے اور انھوں نے تصحیف کر دی ہے ان کا صحیح نام حباب بن سہل بن صعصعہ ہے اور انھوں نے اپنی سند سے ابو جعفر نفیلی سے انھوں نے ابن اسحاق سے ان لوگوں کے ناموں میں جو انصار کی شاخ بنی مازن بن نجار سے غزوہ طائف میں شہید ہوئے حباب بن سہل ابن ابی صعصعہ کا نام روایت کیا ہے۔ انک ا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابو نعیم نے ابن مندہ پر ناحق ۔۔۔
مزید
ابتدائی عمر میں آپ آپ بادشاہوں کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور بڑے دولت مند تھےاس کے بعد جذبہ الٰہی میں تمام متاع دنیا کو پائے حقارت سے ٹھکراکر شیخ حسام الدین مانک پوری کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس رہ کر ذکر اللہ وغیرہ اشغال میں مشغول رہے اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ کہتے ہیں کہ آپ اپنی جوانی میں ایک عورت پر بُری طرح فریفتہ تھے، درویش بننے کے بعد خرقۂ خلافت پہن کر ایک روز اس عورت کے پاس گئے تو اس عورت نے کہا کہ سیدو! اب تو تم الہیہ بن گئے ہو، یعنی گدا اور فقیر، فقیر کو ان کے ہاں الہیہ کہتے تھے، اس کے بعد آپ کا لقب ہی سیدو الہیہ ہوگیا اور وہ عورت بھی مَحَبت کی وجہ سے آپ کی خدمت میں آگئی اور فقیر بن گئی، شاہ سیدو فن شاعری میں بھی دسترس رکھتے تھے چنانچہ آپ کے اشعار میں سے ایک شعریہ ہے دل گویدم سیدد بگو احوال خودیک یک بر او آندم کو خودمی آید او سید و کجا گفتار کو! ایک ۔۔۔
مزید
ابن سیم بن ثعلبہ بن کعب بن حارثہ۔ بدر میں شریک تھے اور احد کے دن شہید ہوئے۔ عدوی کا قول ہے۔ ابو علی غسانی نے ان کا ذکر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن سلمہ عجلانی۔ احد میں شریک تھے۔ ان کی کوئی رویت معلوم نہیں یہ محمد بن اسحاق کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن سفیان بن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن حمح قرشی جمحی۔ ان کو ابو سفیان حبش سے لے کے آئے تھے۔ ابو عمر نے ان کے والد سفیان کے نام میں ان کا ذکر کیا ہے علیحدہ ان کا تذکرہ نہیں لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن سعید بن قیس بن حارث بن شیبان بن فاتک بن معاویہ اکرمیں۔ کندی ہیں۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے گئے تھے اور اسلام لائے۔ ابن شاہین نے ان کا ذکر لکھا ہے ابو موسی نے ان کا تذکرہ لکھا ہے۔ اور ہشامبن کلبی نے بھی جمرہ میں لکھا ہے کہ یہ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے گئے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ سرہر پور کے باشندے تھے اور چند ہی واسطوں سے شاہ خضر تک جو قطب الدین بختیار کاکی کے خلیفہ تھے سلسلہ پہنچ جاتا ہے، آپ بہت بلند پایہ درویش تھے کہتے ہیں کہ شیخ عبداللہ شطاری جب اس علاقہ میں تشریف لائے تو ملنےوالوں کا ایک جم غفیر لگ گیا، شاہ داؤد بھی ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر گئے، شیخ عبداللہ کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنے گھر سے بَاہَر ایک دربان اور ایک چوکیدار رکھا کرتے تھے چنانچہ اس دربان نے شاہ داؤد کو داخل ہونے سے روک دیا، شاہ داؤد کو غصہ آیا اور انہوں نے چوکیدار کو زور سے دھکا دیا، جس کی وجہ سے وہ گرگیا اور آپ اس کے سینہ سے گزر کر شیخ تک پہنچ گئے، اور جس تخت اور کرسی پر شیخ رونق افروز تھے اس پر شاہ داؤد بھی جاکر بیٹھ گئے، شیخ نے آپ کی بڑی عزت کی اور نرمی سے پیش آئے۔ اسی دوران شیخ کے خادموں نے شاہ داؤد سے کہا کہ آج تک کوئی بے ادب خدا رسیدہ نہیں ہوا، شاہ داؤد سمجھ گئے کہ یہ خطاب مجھ ہی سے ۔۔۔
مزید
ابن سعد۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ ابن شاہین نے ان کا ذکر لکھا ہے حالانکہ یہ وہم ہے۔ انھوں نے اس کو عثمان بن عمرو سے انھوں نے یونس سے انھوں نے زہری سے انھوں نے حارث بن سعد سے انھوں نے نبی ﷺ سے جھاڑ پھونک والی حدیث روایت کی ہے۔ اور یحیی بن معین نے کہا ہے کہ عثمان بن عمر نے یونس سے انھوں نے زہری سے انھوں نے ابو حزامہ سے انھوں نے حارث بن سعد سے روایت کی ہے یہ غلط ہے کیوں کہ یہ حدیث ابو حزامہ سے مروی ہے جو حارث بن سعد کی اولاد سے تھے اور یحیی بن معین نے کہا ہے کہ صحیح یہ کیہ ابو خزامہ اپنے والدس ے رویت کرتے ہیں۔ ہمیں یحیی بن محمود بن سعد نے اجازۃ خبر دی وہ اپنی سند سے ابوبکر بن ابی عاصم سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن علی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یعقوب ابن ابراہیم بن سعد نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھے میرے والد نے صالح بن کیسان سے انھوں نے زہری سے روایت کر کے خبر دی کہ انھیں ۔۔۔
مزید
ابن سراقہ۔ بعض لوگ ان کو حارثہ بن سراقہ کہتے ہیں۔ انصاری ہیں بنی عدی بن نجار سے بدر میں شہید ہوئے تھے یہ پاسبانی کرتے تھے۔ انک ا ذکر عروہ بن زبیر نے شرکائے بدر میں کیا ہے اور حارثہ کے نام میں ان شاء اللہ تعالی ان کا ذکر اس سے زیادہ ہوگا ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید