ابن انس بن مالک بن عبید بن کعب۔ انصاری۔ موسی بن عقبہ نے اہل بدر میں ان کا ذکر کیا ہے ور ابن شہاب سے نقل کیا ہے کہ بنی نبیت کی شاخ بنی عبد الاشہل سے حارث بن انس بن مالک بن عبید بن کعب غزوہ بدر میں شریک تھے۔ یہ ابو نعیم کا قول ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ ابن اسحاق ن ان کو حارث بن انس بن رافع لکھا ہے اور ابو عمر نے کہا ہے کہ (ان کا نام) حارث بن انس ابن مالک بن عبید بن کعب ہے ان کا تذکرہ موسی بن عقبہ نے اہل بدر میں کیا ہے۔ اس میں اعتراض ہے مجھے شبہ ہوتا ہیک ہ یہ اشہلی ہیں رفع کے بیٹے یعنی وہی ججن کا تذکرہ اس سے پہلے ہوچکا۔ انکا تذکرہ ابو نعیم اور ابو عمر نے لکھاہے اور اس پر اس سے پہلے تذکرہ میں بحث ہوچکی ہے واللہ اعلم۔ میں کہتا ہوں کہ بنی نبیت منسوب ہیں نبیت کی طرف نبیت کا نام عمرو بن اوس ہے وہ عبد الاشہل کے داد اتھے کیوں کہ عبد الاشہل بیٹے ہیں جشم بن خزرج بن نبیت کے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر۔۔۔
مزید
۔ ابن انس بن رافع بن امرء القیس بن زید بن عبد الاشہل انصاری اوسی ثم الاشہلی۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ حارث نہیں ہیں جن کی کنیت ابو الحیسر ہے۔ یہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے ابن اسحاق نے ور کلبی نے بھی انھیں کے موافق لکھا ہے۔ انکا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ مگر ابو نعیم نیان حارچ کو مختلف فیہ قرار دی ہ اور کہا ہے کہ ابن اسحاق یعنی ابو معشر نے اس کی مکالفت کی جہاد انھوں نے کہا ہے ہ (ان کا نام) حارث بن اوس اور عروہ نے کہا ہے کہ حارث بن اشیم یہ ابو نعیم کا کلام تھا ابو نعیمنے ان تینوں کو ایک کر دیا اور ابن مندہ نے اس کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے ان کو دو قرار دیا ہے ایک حارث بن انس جن کو بعض لوگ ابن اوس بن رافع کہتے ہیں اور دوسرے حارث بن اشیم اور ابو عمر نے حارث ابن اوس کو حارث بن انس بن رافع کے علاوہ لکھاہے مگر انھوں نے حارث بن انس بن مالک کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ مجھے ۔۔۔
مزید
۔ ابن انس بن رافع بن امرء القیس بن زید بن عبد الاشہل انصاری اوسی ثم الاشہلی۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ حارث نہیں ہیں جن کی کنیت ابو الحیسر ہے۔ یہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے ابن اسحاق نے ور کلبی نے بھی انھیں کے موافق لکھا ہے۔ انکا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ مگر ابو نعیم نیان حارچ کو مختلف فیہ قرار دی ہ اور کہا ہے کہ ابن اسحاق یعنی ابو معشر نے اس کی مکالفت کی جہاد انھوں نے کہا ہے ہ (ان کا نام) حارث بن اوس اور عروہ نے کہا ہے کہ حارث بن اشیم یہ ابو نعیم کا کلام تھا ابو نعیمنے ان تینوں کو ایک کر دیا اور ابن مندہ نے اس کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے ان کو دو قرار دیا ہے ایک حارث بن انس جن کو بعض لوگ ابن اوس بن رافع کہتے ہیں اور دوسرے حارث بن اشیم اور ابو عمر نے حارث ابن اوس کو حارث بن انس بن رافع کے علاوہ لکھاہے مگر انھوں نے حارث بن انس بن مالک کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ مجھے ۔۔۔
مزید
۔ ابن انس بن رافع بن امرء القیس بن زید بن عبد الاشہل انصاری اوسی ثم الاشہلی۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ حارث نہیں ہیں جن کی کنیت ابو الحیسر ہے۔ یہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے ابن اسحاق نے ور کلبی نے بھی انھیں کے موافق لکھا ہے۔ انکا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ مگر ابو نعیم نیان حارچ کو مختلف فیہ قرار دی ہ اور کہا ہے کہ ابن اسحاق یعنی ابو معشر نے اس کی مکالفت کی جہاد انھوں نے کہا ہے ہ (ان کا نام) حارث بن اوس اور عروہ نے کہا ہے کہ حارث بن اشیم یہ ابو نعیم کا کلام تھا ابو نعیمنے ان تینوں کو ایک کر دیا اور ابن مندہ نے اس کی مخالفت کی ہے اور انھوں نے ان کو دو قرار دیا ہے ایک حارث بن انس جن کو بعض لوگ ابن اوس بن رافع کہتے ہیں اور دوسرے حارث بن اشیم اور ابو عمر نے حارث ابن اوس کو حارث بن انس بن رافع کے علاوہ لکھاہے مگر انھوں نے حارث بن انس بن مالک کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ مجھے ۔۔۔
مزید
ابن اقیش۔ بعض لوگ کہتے یں (ابن) قیش یہ دونوں ایک ہیں۔ یہ قبیلہ کل کے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں عوفی ہیں یہد ونوں بھی ایک ہیں کیوں کہ عوف بن وائل بن قیس بن عوف بن عبد مناہ بن ادبن طانجہ کی اولاد کو عکلی بھی کہتے ہیں ان کی کھلائی کی طرف منسوب کر کے۔ اور بعض لوگ کہتیہیں کہ یہ انصار کے حلیف تھے۔ ہمیں ابو الفرح بن ابی الرجا نے اپنی سند سے ابوبکر یعنی احمد بن عمرو بن ضحاک تک خبر دیوہ کہتے تھے ہم سے حجاج بن یوسف نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عبد الصمد بن عبدالوارث نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھے میرے والد نے دائود بن ابی ہند ے انھوں نے عبداللہ بن قیس سے انوں نے حارث بن اقیش سے رویت کر کے خبر دی کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہ جن دو مسلمان (ماں باپ) کے چار بچے بلوگ سے پہلے مر جائین انھیں اللہ عزوجل جنت میں داخل فرمائے گا لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہا ور تین (مریں تو۹ حضرت نے فرمایا تین (مریں جب بھی و۔۔۔
مزید
ابن اشیم بن رافع بن امرء القیس بن زید بن عبد الاشہل ابن لہیعہ نے ابو الاسود س انھوں نے عروہ سے ان لوگوں کے نام ین جو انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنی عبد الاشہل سے جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہ اور ابو معشر یعنی نجیح مدنی نے کہا ہے کہ ان کا نام حارث بن اوس ہے ہم ان شاء اللہ تعالی ان کا ذکر کرین گے اور ابن اسحاق نے کہا ہے کہ ان کا نام حارث بن انس بن رافع ہے ابن کلبی نے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔ انکا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ان اسد بن عبدالعزی بن جعونہ بن عمرو بن قین بن زراح بن عمرو بن سعد بن کعب بن عمرو بن ربیعہ خزاعی۔ انکا صحابی ہونا ثابت ہے۔ یہ ابن کلبی کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ازمغ ہمدانی۔ ان کا تذکرہ صحابہ میں کیا جاتا ہے۔ ان کی وفات حضرت معاویہ کے آخر زمانے میں ہوئی۔ یہ ابو عمر کا قول ہے۔ ابو موسی نے کہا ہے کہ عبدان نے ور ابن شاہین نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیا ہے اور ابن شاہین نے کہا ہے کہ انھوں نے جاہلیت کا زمانہ بھی پایا ہے یہ تابعی ہیں حضرت عمر وغیرہ سے انھوںنے رویت کی ہے۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
۔ اشہلی نبی عبد الاشہل سے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بنی زعور ابن جشم سے ہیں جو قبیلہ اوس کی ایک شاخ ہے زعورا بھائی ہیں عبدالاشہل کے بعض لوگ کہتے ہیں عبد الاشہل کے یہ حلیف ہیں اور خود قبیلہ ازد شنودہ سے ہیں جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ انکا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن یزید بن تیم بن امیہ بن خفاف بن بیاضہ۔ انصاری خزرجی بیاضی حباب کے بھائی ہیں۔ ابن شاہین نے اور طبری نے بیان کیا ہے کہ یہ دونوں احد میں شریک تھے۔ انکا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید